عبرتِ نابینا

0 comments
میں نے سرگودھا بس سٹینڈ پر ایک نا بینا بچے کو دیکھا جو اپنے ہاتھوں سے بسوں کے ٹائر ٹٹول کر اندازہ لگا رہا تھا کہ یہ بس بھری ہوئی ہے یا خالی ہے ۔پھر تسلی کر لینے کے بعد وہ پوری بس کو ٹٹولتا ہوا  دروازے کی شناخت کرتا اور اند داخل ہو جاتا اور بھیک مانگ کر واپس اتر جاتا۔  بس میں کچھ لوگ تھے اس لئے وہ بچہ چلتا ہوا میرے قریب آیا اور مجھ سے پیسے مانگے تو میں نے پاس بٹھا لیا ،تھوڑی سی بات چیت کے بعد اس کا دل کھولا تو ۔میں حیرت میں پڑ گیا کہ آنکھوں کے بغیر بھی اتنے بڑے خواب دیکھے جا سکتے ہیں، اس بچے کہ جس  نے ابھی  نہ تو آسمان کی نیلاہٹ دیکھی ہے اور نہ زمین کا سبزہ لیکن پھر بھی اس کی امید توانا ہے وہ  اپنے مستقبل کے بارے میں بھی منصوبہ بندی رکھتا ہے وہ چاہتا ہے کہ  شہر سے کچھ دور واقع اپنے گاؤں میں  اس مالٹے کے درخت کو دیکھ سکے کہ جس کا پھل اس کا بھائی اور والدہ اس کو اپنے ہاتھوں سے کھلاتے ہیں ۔وہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس بھی ایک بڑی سی بس ہوجسے وہ چلا کر لاہور لے کر جائے اور سارے رستے سڑک کی دونوں جانب کے مناظر دیکھ سکے اور اس راوی اور چناب کے پانیوں کو بھی دیکھ سکے جو اس کی ماں کے بقول   پانی کے بہت بڑے زخیرے ہیں اور صدیوں سے جوں کے توں پنجاب کی زمین کو زرخیزی بخش رہے ہیں ۔ہم آنکھوں والے  تو پھر بھی جنت اور دوزخ کا اندازہ اس دنیا  میں موجود پھلوں کے رنگ اور آگ کی سرخی سے لگا سکتے ہیں مگر اس بچے کا کیا جو فقط ذائقے ،خوشبو ،آواز  اور   درجہ حرارت کی بنیاد پر پوری دنیا کا قیاس اور خیال قائم کر لیتا ہے ۔۔۔۔۔اس کے ارادے مجھ سے بھی بلند اور توانا تھے ۔۔۔ یہ معجزے نہیں ہیںتو کیا ہے ۔۔۔۔ہم تو نا شکرے ہیں ۔۔ورنہ جگہ جگہ عبرت ہے ۔


تحریر 
ملک انس اعوان 

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔