سوال یہ ہے کہ صاحب سوال
خوبی دیدہ کو چھونا چاہتے
چاہتے ہیں کہ وہ نظر کو نظر بھر کر دیکھیں
رقص رنگوں کا سمندر میں اتر کر دیکھیں
یہ بھی دیکھیں کہ نہاں اور بھی کیا ہے اس سے
یوں مقام عقل سے پھسل کر دیکھیں
کن جزیروں سے خوابوں نے طلوع ہونا ہے
اور ان سب کے کناروں سے اتر کر دیکھیں
اک یہ دل کہ جو بوڑھا نہیں ہوتا ہرگز
پھر اس نادان سے بچے کو پکڑ کر دیکھیں
زمیں سرخ ہے، سیاہ ہے یہ اصل میں کیا ہے
اس کی رنگین قبا کو پلٹ کر دیکھیں
سوچتے ہیں کہ بھلا کیا نہیں سوچا اب تک
پھر اسی سوچ کی اس موج کو الٹ کر دیکھیں
یوں ہی ہے تو خدا نے کیا انسان کو پیدا کیونکر
اور پھر احکام خداوند کو سمجھ کر دیکھیں
جنت بھی کوئی شے ہے وہ ہوگی کیسی
اور پھر اس چہرہ تصور کو مسلسل دیکھیں
ملک انس اعوان











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔