ہائے وہ منزل کہ جس کے رستے کی چاہ ہی اس منزل کے پانے کی خوشی سے زیادہ ہو۔۔۔۔۔۔۔!
---------
کئی رستے اس قدر مشکل ہوتے ہیں کہ وہ آپسے اس پہ چلنے کی قیمت تک وصول کر لیتے ہیں اور رفتہ رفتہ آپکو دوسروں کا مقروض بنا دیتے ہیں اور جب منزل پر پہنچتے ہیں تو دوسروں کا قرض اس منزل کی قدر و قیمت گھٹا دیتا ہے،پھر ہم وہیں بیٹھے یہی سوچ رہے ہوتے ہیں کہ آج وہاں سے چل کر یہاں آنے میں جو کچھ کھویا اور جو کچھ پایا سبھی رائیگاں گیا۔ مگر کچھ منزلیں جو عرش سے تعلق رکھتیں ہیں وہ عرش کی تاثیر بھی اپنے ساتھ لے آتیں ہیں۔جوں جوں وقت اور مشکلات بڑھتی جاتی ہیں ویسے ہی منزل کی بلندی اور قدر و قیمت بڑھتی جاتی ہے ،مثل نور اس کا حلقہ اثر بڑھتا چلا جاتا ہے کیونکہ یہ منزل اور یہ رستے صرف ہمارے ہی ہوتے ہیں جس میں ہمارا مقابل ہمارے سوااور کوئی نہیں ہوتا ۔ ہم جو کھوتے ہیں اور جو پاتے ہیں وہ سبھی ہمارا اپنا ہوتا ہے ،رستے کی مشکل بھی اپنی اور اس مشکل سے زخمی ہونے والے پاؤں بھی اپنے، تو جب سب کچھ اپنا ہی ہو تو کیا کھونے کا غم اور کیا پانے کی خوشی۔۔۔۔۔!!
کیونکہ یہاں تو خوشی اور غمی کا تصور بھی ہمارا اپنا ایجاد کردہ ہوتا ہے ۔عجیب سی خودمختاری کا احساس گھیرے رکھتا ہے ، ہائے وہ منزل کہ جس کے رستے کی چاہ ہی اس منزل کے پانے کی خوشی سے زیادہ ہو۔۔۔۔۔۔۔!
سچی منزلوں کے سچے رستے۔۔۔!
تحریر---------
کئی رستے اس قدر مشکل ہوتے ہیں کہ وہ آپسے اس پہ چلنے کی قیمت تک وصول کر لیتے ہیں اور رفتہ رفتہ آپکو دوسروں کا مقروض بنا دیتے ہیں اور جب منزل پر پہنچتے ہیں تو دوسروں کا قرض اس منزل کی قدر و قیمت گھٹا دیتا ہے،پھر ہم وہیں بیٹھے یہی سوچ رہے ہوتے ہیں کہ آج وہاں سے چل کر یہاں آنے میں جو کچھ کھویا اور جو کچھ پایا سبھی رائیگاں گیا۔ مگر کچھ منزلیں جو عرش سے تعلق رکھتیں ہیں وہ عرش کی تاثیر بھی اپنے ساتھ لے آتیں ہیں۔جوں جوں وقت اور مشکلات بڑھتی جاتی ہیں ویسے ہی منزل کی بلندی اور قدر و قیمت بڑھتی جاتی ہے ،مثل نور اس کا حلقہ اثر بڑھتا چلا جاتا ہے کیونکہ یہ منزل اور یہ رستے صرف ہمارے ہی ہوتے ہیں جس میں ہمارا مقابل ہمارے سوااور کوئی نہیں ہوتا ۔ ہم جو کھوتے ہیں اور جو پاتے ہیں وہ سبھی ہمارا اپنا ہوتا ہے ،رستے کی مشکل بھی اپنی اور اس مشکل سے زخمی ہونے والے پاؤں بھی اپنے، تو جب سب کچھ اپنا ہی ہو تو کیا کھونے کا غم اور کیا پانے کی خوشی۔۔۔۔۔!!
کیونکہ یہاں تو خوشی اور غمی کا تصور بھی ہمارا اپنا ایجاد کردہ ہوتا ہے ۔عجیب سی خودمختاری کا احساس گھیرے رکھتا ہے ، ہائے وہ منزل کہ جس کے رستے کی چاہ ہی اس منزل کے پانے کی خوشی سے زیادہ ہو۔۔۔۔۔۔۔!
سچی منزلوں کے سچے رستے۔۔۔!
ملک انس اعوان
تصویر بشکریہ
احمد جاوید صاحب











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔