یہ سال اور وہ سال

0 comments
میں کس منہ سے نئے سال کی مبارک دوں۔آج بیٹھ کر اپنا حساب لگا رہاہوں۔کتنی ہی نمازیں ہیں جو میں ادا نہ کر سکا۔کتنے ہی گناہ ہیں جو مجھ سے اس سال ہو گئے۔یہ تو وہ گناہ تھے جو میرے حافظے میں رہ گئے۔ناجانے کتنے ہی ایسے گناہ ہیں جو مجھ سے سر زد ہوئے لیکن مجھے یاد نہیں۔ایک انسان،ایک بیٹے ،ایک شاگرد،ایک طالب علم ،ایک پاکستانی اور سب سے بڑھ کر ایک مسلمان کی حیثیت میں کتنے ہی فرائض تھے جو میں پورے نہ کر سکا۔ان بارہ مہینوں میں اپنے والدین سے کیے گئے ناجانے کتنے وعدے تھے جو میں وفا نہ کر سکا۔کتنے ہی لوگوں کے دلوں کو میں نے تکلیف پہنچائی اور کتنے ہی لوگ میری وجہ سے مصیبت کا شکار ہوئے۔وہ کتنے ہی لمحات تھے جو صرف میری وجہ سے اوروں کے لیے اذیت کا باعث بن گئے۔اور کچھ سخت الفاظ کی تاسیر نےعجیب و غریب فیصلے کرنے پر مجبور کر دیا۔
خیر مزہ تو تب ہے کہ جب موبائل میں موجود سال کے ہندسے تبدیل ہونے کے ساتھ ساتھ موبائل والے میں بھی تبدیلی آئے۔اندر کی دنیا اور باہر کی دنیا دونوں ایک ساتھ بہتری کی جانب آئیں تاکہ بشرط زندگی اگلے سال اس سال کی نسبت افسوس کرنے کو بہت کم چیزیں رہ جائیں۔

(انس اعوان)




محسوسات سے معنی کی دنیا تک

0 comments
محسوسات سے معنی کی دنیا تک
منصورہ ڈگری کالج لاہور کی جامع مسجد ہے۔رات کے پچھلے پہر باہر شدید دھند اور سردی ہے،نیند نہ آنے کے باعث  مسجد کے باہر ٹہلنے لگتا ہوں جب سردی برداشت سے باہر ہوتی ہے تومیں مجبوراً  صحن میں آ جاتا ہوں ۔ صحن میں ایک طرف مدرسے کے بچوں  کے قرآن  مجید ،سپارے اور دینی لٹریچر پڑا ہوا ہے۔الماری کے اوپر نوابشاہ ( سندھ)سے  تعلق رکھنے والے کسی ساتھی کی ڈائری اور اس کے نیچے  ایک کتاب پڑی ہوئی ہے۔بغیر سرورق دیکھے کتاب کھولتا ہوں اور پڑھنے لگ  جاتا ہوں۔کتاب کے پہلےدو تین صفحات پڑھنے کے بعد ایک جملے پر نظر رک جاتی ہے اور وہ جملہ کچھ یوں تھا  کہ ''اصل کام تو محسوسات کی دنیا سے سے نکل کر معانی کی دنیا میں انقلاب  برپا کرنا ہے''۔
ہم اکثر بہت سی چیزوں کو دیکھ رہے ہوتے ہیں، محسوس کر رہے ہوتے ہیں اور ایک حد تک انکا اثر بھی قبول کر رہے ہیں لیکن ہم انکو اکثر و بیشتر بیان کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔یہی معاملہ میرے  اور اس چھوٹے سے جملے کے ساتھ تھا۔مجھ جیسے زرا تھوڑا مختلف سوچنے والے لوگ (عرف عام میں دماغ سےہلے ہوئے)زیادہ تر اسی محسوسات کی دنیا کے شاہسوار ہوتے ہیں اور اسی میں زندہ رہتے ہیں اور اکثر اپنی ہی قائم کی ہوئی دنیا کے خواہشات   کے محل میں دم گھٹنے کے باعث دم توڑ دیتے ہیں ۔اس کی بڑی وجہ معانی کی دنیا سے خوف ہوتا ہے۔یا س کی مثال کچھ یوں ہے کہ جیسے ایک کبوتر اپنی موت کے کامل یقین ہونے کے باوجود بھی بلی کے سامنے آنے پر اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے اور یہی گمان کرتا ہے کہ بلی اب غائب ہو چکی ہے اب وہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔
محسوسات کی دنیا معانی کی دنیا سے بہت مختلف اور بے جوڑ ہے۔یہاں زمین سے لے کر آسمان اور ان کے درمیاں سب کچھ آپ خود اپنی مرضی اور منشا سے ترتیب دیتے ہیں۔اور یہاں ردو بدل کی بھی کوئی قید موجود نہیں ہوتی۔اور یہاں ہم جن چیزوں کو رکھتے ہیں وہ زیادہ تر وہی ہوتی ہیں جن سے وہ محروم ہوتا ہے۔مثال کے طور پر ایک قیدی کی محسوسات کی دنیا کا زیادہ ترحصہ آزادی اور ان تمام چیزوں پر مشتمل ہوتا ہے جس سے وہ دوران قید دور ہوتا ہے۔دوسرے معنوں میں محسوسات کی دنیا آپ کی محرومیوں کی دنیا ہوتی ہے۔یہ دنیا اس قدر رنگین ،خوبصورت اور دل سوز ہوتی ہے کہ اس سے باہر نکلنے پر حقیقی زخم مزید گہرے اور تکلیف دہ محسوس ہوتے ہیں۔
اور ان سب  سے زیادہ تکلیف دہ لہجے ہوتے ہیں ۔جیسا کہ انگلش کا ایک محاورہ ہے
“Rome was not built in a day”
بالکل اسی طرح لہجے اگر بدلے ہوئے ہوں تو ان کے پیچھے بھی بہت سے محرکات ہوتے ہیں۔اور جب لہجوں کے ساتھ ساتھ الفاظ بھی تلخ ہو جائیں تو حساس لوگو ں کے لیے یہ بہت بڑی پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔لہجے اور الفاظ بالکل خام ہوا کی طرح ہوتے ہیں جن کی نہ تو کوئی شکل ہوتی ہے اور نہ تاثیر مگر یہ جذب کرنے کی لازوال طاقت رکھتے ہیں۔ جب ہوا چمن سے گزرتی ہے تو خوشبودار ہو جاتی ہے۔سمندر سے گزرتی ہے تو ٹھنڈی ،آتش فشاں سے گزرتی ہے تو گرم اور جب کوڑے کرکٹ سے گزرتی ہے تو تعفن زدہ ہو جاتی ہے۔اسی طرح ہمارے بولے ہوئے الفاظ اور ان بیان کردہ الفاظ کے لہجے دراصل  بولنے والے کے اندر کے حالات کو واضح کر رہے ہوتے ہیں۔جب دل میں نفرت یا چِڑھ پیدا ہو جائے تو  الفاظ اور لہجے بھی دل کا اثر پکڑتے ہیں اور سننے والے پراپنا ایک گہرا اثر چھوڑ جاتےہیں۔محسوسات کی دنیا  ایک دلدل ک طرح ہے جہاں آپ  جتنا سوچنے لگتے ہیں اتنا ہی اس دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں۔اگر آپ مخلص ہیں تو دل بڑا رکھیے، امتحانات کے لیے تیار رہیے کچھ بھی کھونے اور توڑ دینے کے لیے تیار رہیے۔انسان کی فطرت ایسی ہے کہ جیسا خود ہوتا ہے ویسا ہی سوچتا ہے،ویسے ہی خیالات اس کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں اور بالکل ویسے ہی کی وہ دوسرو ں سے توقعات رکھتا ہے۔تو جب مخلص کو خلوص کے بدلے میں خلوص کی بجائے نفرت ہی ملے تو یہ سوچنے کا مقام ہے۔اپنے کیے اور اپنے ساتھ ہوئے کو بغور پرکھنے کا مقام ہے۔یہاں اس موقع پرمحسوسات کو آپکے حوصلے کا کڑا امتحان مقصود ہوتا ہے۔آپ کو اپنی ترجیحات کو  سامنے رکھتے ہوئے  بہت کچھ قربان کرنا پڑتا ہے۔
محسوسات کا عروج اس مقام پر ہوتا ہے جہاں آ پکی مرضی کسی اور کی مرضی میں داخل ہو جاتی ہے۔آپکی پسند کسی اور کی پسند میں ڈھل جاتی ہے۔آپکا خیال کیس اور کے خیال سے میل کھانے لگتا ہے۔وہ لوگ خوش قسمت ہوتے ہیں جن کی پسندکسی اور کی پسند بن جائے یا جن کی خواہشات  کو کوئی اور اپنی خواہشات بنا لے۔بصورت دیگرے اپنے اوپر ظلم لازم ٹھہر جاتا ہے۔یا یوں کہئے کہ عذاب در عذاب  کسی دوسرے کی طبیعت کو سہنا پڑتا ہے۔
رہی بات  معانی کی دنیا کی تو  یادرکھیے کہ محسوسات کی دنیا ہی آپکی معانی کی دنیا کی اساس ہے۔محسوسات آپکی حقیقی زندگی میں بنیاد کی سی حیثیت رکھتے ہیں ۔کیونکہ خواب ،خواہش اور ارمان کا تعلق محسوسات سے ہے۔اور عمل محسوسات کےمحتاج ہوتےہیں۔آپ جو کچھ سوچتے ہیں،جس چیز کی خواہش کرتے ہیں اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے حقیقی دنیا میں  کام سرانجام دیتے ہیں۔ قابل تحسین ہیں وہ لوگ جن کے کوئی خواب نہیں ہوتے،جن کی کوئی آرزو نہیں ہوتی،جن کا کوئی ارمان انکا ذاتی نہیں ہوتا۔جن کی ہر خواہش کسی دوسرے  کی پیدا کردہ ہوتی ہے۔ان کا خیال کسی اور کے ذہن کا خیال ہوتا ہے۔یہی تو وہ سپردگی ہے جو خدا ئے بزرگ و برتر کو اپنی مخلوق سے مطلوب ہے۔وہ  ذات باری بھی تو یہی چاہتی ہے کہ ائے بندے  تو میری رضا میں راضی ہو جا ۔پھر دیکھ میں کس طرح تیری رضا میں راضی ہو جاتا ہوں۔لیکن اگر یہی صفت آپ خدا کے علاوہ مخلوق میں سے کسی سے چاہ رہے ہیں تو اپنی سمت  درست فرما لیجیے۔ورنہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیجیے اورمستقل آنکھیں بند ہونے تک یہی گمان رکھیے کہ آپ کامیاب ہو  جائیں گے۔
تحریر
ملک انس اعوان


کلام از خود

0 comments

وقت ہے کہ تھمتا ہی نہیں ہے۔ہاتھ میں جکڑے ریت کے زرات کی مانند پھسلتا جا رہا ہے۔ہم کسی بے جان ،پیلاہٹ زدہ ،خشک پتے کی طرح وقت کے دھارے پر بہے جا رہے ہیں۔کچھ خبر نہیں کہ کہاں ہم آخری بار روئے زمین کا نظارہ کریں گے اور گہرائی کی تاریک پستیوں کی جانب دھکیل دیےجائیں گے۔کب صبح کے نکلے پنچھی دن بھر کی اُڑان کے بعد سر شام اپنے شکستہ آشیانوں کو لوٹ جائیں ۔وہ سنھری کرن جس نے مشرق سے اپنا سفر شروع کیا اورگلیوں، کھلیانوں، پختہ نیم پختہ مکانوں،بلند و بالا عمارتوں،تنگ گھروندوں سے ہوتے ہوئے مغرب کی آغوش میں دم توڑ دیتی ہے۔کہیں درد و غم سے پتھرائی ہوئی ضعیف آنکھیں ریلوے سٹیشن کےجنگلے کے اُس پار شہر کی پُر رونق زندگی کو سمیٹے کی کوشش میں تھک کر واپس لوٹ آتی ہیں۔ایک ہی نسل کے انسان ایک ہی دنیا میں ایک ہی جگہ پر شاید اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ان سب احساسات کا تعلق تو محسوس کرنے سے ہے۔کبھی کبھی یہ احساسات اس قدر قوی ہو جاتے ہیں کہ زبان و بیان کی ضرورت دم توڑ دیتی ہے۔اور یہ خودبخود روح کی مانند آپ کی ذات میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔آپ موسموں اور رویوں کو سمجھنے لگتے ہیں۔ہر چیز اپنا مطلب واضح کرنے لگتی ہے۔ہر رنگ اپنا آپ اور اپنے مزاج کو دکھلاتا دکھائی دیتا ہے۔بلندیوں سے آتا پانی اونچائی کی کہانیاں اور قصے سناتا محسوس ہوتا ہے۔ہر قدم پر ایک نیا منظر روبرو ہوتا ہے۔سمجھ نہیں آتا کہ واقعی یہ حقیقت میں موجود ہے؟ یا صرف زہن کے فضول و فرسودہ  خیالات ہیں؟

شہر خالی جادہ خالی کوچہ خالی خانہ خالی
جام خالی سفرہ خالی ساغر وپیمانہ خالی
تحریر



مجھے تم سے محبت ہے

0 comments
مجھے تم سے محبت ہے
مجھے اقرار کرنا ہے
سنو میں جو بھی کچھ ہوں
تمہاری وجہ سے ہوں
تمہاری ادا سے ہوں
تمہاری وفا سے ہوں
تمہاری گرم بانہوں نے
مجھے تسکین بخشی ہے
میرے ہر قول و فعل کو
بہت ترتیب بخشی ہے
یہاں پر حق و باطل میں
مجھے تفریق بخشی ہے
میدان علم و دانش میں
مجھے تحقیق بخشی ہے
سنو لفظوں کی قلت ہے
مجھے اتنی محبت ہے


----

ملک انس اعوان


تنگ گلیوں کے مکین

0 comments
بیچ شہر تاریک ، باس زدہ اور تنگ گلیوں کے دونوں جانب مکانات کا ایک سلسہ دور تک تا حد نظر ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے کھڑا ہے۔ان ضعیف مکانوں کی عمر انکے مکینوں سے کہیں زیادہ ہے۔لیکن انکے مکینوں کے باہم رشتے ان مکانات کی ہی طرح مضبوط اور دیر پا ہیں۔جیسے ہی سر اوپر کی جانب اُٹھائیں ،مکان کے اوپری سِرے آپس میں ملتے نظر آ تے ہیں اور یوں گماں ہوتے ہے جیسے ابھی ہم پر آ گریں گے۔زرا دیہاتی پس منظر ہونے کے باعث ایسی جگہ دل میں گھٹن سی محسوس ہوتی ہے اور جلد از جلد یہاں سے نکلنے کو من چاپتا ہے۔لیکن کبھی کبھی دل کرتا ہے کہ یہں بیٹھ کر پہروں اس زندگی کا معائینہ کیا جائے۔کوئی آرہا ہے،کوئی جا رہا ہے،کوئی فکر مندی کے آثار لیے اور کوئی پُر معنی  مسکراہٹ لیے پاس سے گزر جاتا ہے۔گھروں کے باہر بنی ہوئی تجاوزات جنہیں عرف عام میں "تھڑا" کہا جاتا ہے بچوں اور بوڑھوں سے پُر نظر آ تے ہیں۔ کوئی بھی مذہبی، سیاسی یا ملکی موقع ہو یہ ایک دوسرے کے ہمقدم اسے بلکل ایک رسم کی طرح ادا کرتے ہیں۔چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو بھی ایک دوسرے کے ساتھ بانٹ کر مناتے ہیں۔ لڑائیاں ،جھگڑے ،شادی بیاہ سب کچھ ایک ساتھ مل جل کر کیا جاتا ہے۔یہ تنگ گلیوں کے لوگ بلا شبہہ بڑے بڑے مکانات و محلات کے مکینوں سے زیادہ خوش ،مطمعین اور شاد رہتے ہیں۔
تحریر
ملک انس اعوان


ہم بیٹے کس کے؟ قاضی کے۔۔۔۔!

2 comments
یہ جامعہ مسجد و مدرسہ احیائے اسلام شیخوپورہ کا دروازہ ہے،مسجد لوگوں سے بھری ہوئی ہے،اندر تل دھرنے کو بھی جگہ موجود نہیں ہے۔سب کی آنکھیں دروازے پر لگی ہوئی ہیں اور کسی شخصیت کا بے تابی سے انتظار ہو رہا ہے۔۔زرا سا شور اٹھتا ہے ۔میں اپنے والد سے ہاتھ چھڑا کر دروازے پر کھڑا ہو جاتا ہوں ۔دور سے ایک گاڑی مسجد والی تنگ گلی میں داخل ہوتی ہے۔دروازہ کھلتا ہے اور قاضی حسین احمد آہستہ آہستہ چلتے ہوئے مسجد کی طرف آ رہے ہیں۔میں آگے بھیڑ میں سے آگے بڑھتا ہوں قاضی صاحب کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہوں ۔آگے بڑھ کرہاتھ ملا لیتا  ہوں۔قاضی صاحب کے ہاتھوں کا لمس ، چہرے پر نہایت ہی خوبصورت سی مسکراہٹ ،اور وہ مخصوص آواز میں پوچھنا 
"اسلام علیکم ! بیٹا کیسی طبعیت ہے؟"
میرے حافظے میں بلکل اسی آب و تاب کے ساتھ تازہ ہے۔جب بھی ان کی کوئی تصویر دیکھتا ہوں تو میری اس پہلی ملاقات کا احوال سامنے آ جاتا ہے۔بچپن مین انکی سب تصاویر جہاں سے بھی ملتیں اکٹھی کر لیا کرتا۔جب بھی ٹی وی پر دکھائی دیتے والد صاحب اور سب گھر والوں کو بھاگ کر بلاتا کہ دیکھو قاضی صاحب ٹی وی پر آئے ہیں۔لیکن اب وہ آواز جس پر فلسطین سے لے کر کشمیر تک کے مسلمان لبیک کہتے تھے، اپنے پرائے جس کی عظمت کے معترف تھے اب ہم میں موجود نہیں ہے لیکن میرے سینے میں وہ نعرے نقش ہیں جو میں بچپن میں لگایا کرتا تھا اور اپنے بڑے ناظمین سے سُنا کرتا تھا۔
"ہم بیٹے کس کے؟ "
"قاضی کے"
"ہم جئیں گے"
"قاضی کے"
"ہم ساتھ لڑیں گے"
"قاضی کے"
اپنے امیر سے ایسی محبت کا شاید غیر تحریکی لوگ اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔اور میری خوشقسمتی کہ میں بھی قاضی کے 
لشکر کا ایک عدنی سا کارکن ہوں ،اور اس عہد کو تا دم آخر نبھاؤں گا۔۔۔انشاءاللہ


تحریر 


خاص لوگوں کے خاص مسائل

0 comments
دنیا میں انسانوں کی 2 اقسام ہوتی ہیں،ایک وہ جو چلتے ہیں اور  دوم وہ جو ان انسانوں کو چلا تے ہیں۔بے شک چلانے والے انسان کم ہوتے ہیں اور خاص صفات کے مالک ہوتے ہیں۔یہی صفات تو ہیں جن کی بدولت وہ باقی انسانوں سے جدا اور قدرے منفرد نظر آتے ہیں۔دھیما پن، ٹھہراؤ،مستقل مزاجی،صبر،،بیک وقت کئی زاویوں سے صورت حال کا ادراک،بدلتے ہوئے مزاجوں اور رویوں پر نظر  اور اس تبدیلی کے نتیجے میں پیش آنے والے حالات کا اندازہ، یہ سبھی وہ چیزیں ہیں جو ایک خاص آدمی میں موجود ہونی چاہییں۔میرا ذاتی خیال کچھ یوں ہے کہ یہ تمام خصوصیات اگر پیدائشی ہوں تو کیا کہنے،ورنہ انہیں تجربے کے ساتھ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ایک بات ہمیشہ ذہن نشین رکھیے کہ دنیا ایک ایسی جگہ ہے جہاں  ہر چیز کوشش سے ملتی ہے۔اور کوشش کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔اس سیڑھی کا پہلا اصول یہ ہے کہ  جب بھی کوئی فیصلہ کیجے تو اس پر قائم رہیے لیکن تب تک جب تک اس کا فائدہ آپ کو مستقبل قریب یا بعید میں نظر  آتا رہے۔جیسے ہی آپ سمجھیں کہ اب اس فیصلے کی افادیت ختم ہو گئی ہے تو پیچھے ہٹ جائیں۔اس طرح پیچھے ہٹنے سے آپ آپنے مؤقف میں مزید پختگی لا  سکتے ہیں۔صحیح اور غلط کا میعار وہی ہے جو کہ حقیقت میں موجود ہے لیکن اس میں فی زمانہ کچھ ردو بدل بھی ضروری ہے جیسے آپ لوگوں کے سامنے وہ آپشنز رکھیں جو ان کے لیے سب سے قابل عمل بھی ہو آپ کا بھی کام نکلتا ہو۔یہ اسی طرح ہے  کہ جیسے آپ ایک بھینس کے طلب گار کو صرف دودھ کے چند سیر پر ٹرخا رہے ہوں۔

کُل کیونکہ جز  پر مشتمل ہوتا ہے اور انسانی معاشرے کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ہر جُز ایک دوسر سے جدا اور منفرد ہے۔لہذا جب بھی عوام کا سامنا ہو تو ہمیشہ مشترکات پر گفتگو کیجیے اور انہی مشترکات پر ان لوگوں میں اتفاق پیدا کیجیے۔لوگوں میں سے مزید ایسے لوگ تلاش کریں جو عام آدمی کے میعار سے زرا اوپر ہوں اور یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو سب سے کار آمد ہوتے ہیں اور ان کا اثر بالکل ذیلی حلقوں  تک ہوتا ہے۔یہاں سے آپکو ایسے افراد مل سکتے ہیں جو آپکے بعد آپکی جگہ ذمہ داریاں سر انجام دے سکتے ہیں۔
خاص بننے کے بعد کچھ نقصانات بھی ہوتے ہیں جو بہر حال ہونے ہی ہوتے ہیں ۔کیونکہ آپ اِس وقت اپنی ذاتی حیثیت سے نکل کر  اجتماعی حیثیت میں آ جاتے ہیں ۔یہاں آپ خود سے زیادہ ان لوگوں کی جاگیر تسلیم کیے جاتے ہیں جن کے ساتھ آپ کو واسطہ ہوتا ہے۔لیکن اس دوران آپ کے انتہائی قریبی وہ لوگ متاثر ہوتے ہیں جن کو آپ عام حالات میں سب سے زیادہ وقت دیتے ہیں ۔اپنی ذات میں منفرد چیزوں کو جمع رکھیے تاکہ لوگوں کا آپ کے اندر تجسس برقرار رہے۔آپ جتنا اپنے آپ کو بند اور چھُپا کر رکھیں گے لوگ اتنا آپ کے قریب آنے کی کوشش کریں گے۔کیونکہ انسان کی فطرت سے کہ وہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ جاننے کی لگن میں لگا رہتا ہے۔اس لیے لوگوں کو مناسب مقدار میں معلومات فراہم  کرتے رہیے۔ہر انسان  ایک الگ سوچ  اور خیال کا مالک ہوتا ہے۔اور ہر کوئی یہی چاہتا ہے کہ حالات کو وہ اپنے مطابق ڈھال لے۔اس لیے جب بھی کسی اجتماع سے کسی حوالے سے مشورہ لینا ہو تو سب سے پہلے اپنی ترجیحات مرتب کیجیے،ان ترجیحات  کالوگوں کی اکثریت سے موازنہ کیجیے اور ایسی صورت حال پیش کیجیے کہ لوگ آپکے نقطہ نظر پر متفق  ہو سکیں۔اگر مکمل متفق نہیں ہو سکتے تو کسی خاص حصے میں اتفاق کر لیجیے۔ اکثر اوقات اپنی بات منوا لینے سے ایک انتہائی برا اثر پڑتا ہے چناچہ ہمیشہ درمیانی رستہ اختیار کیجیے۔

لوگ ہمیشہ طعنے کسنے اور آپ کا مورال گرانے کے لیے تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔ہمیں چاہیے کہ ایسی صورت حال میں ہم شور اور آواز کے درمیان فرق کو سمجھ لیں۔شور کو نظر انداز کرتے جائیں اور  آوازوں پر دیہان دیتے جائیے۔انہی آوازوں سے اپنے رستے کھوجیں اورراہنمائی حاصل کریں۔یاد رہے کہ یہ آوازیں ہمیشہ بڑوں اور آپ کے مخلص دوستوں کی ہوا کرتیں ہیں۔اور ایسی آوازوں کو کسی صورت نظر انداز مت کیجیے۔
تحریر 
انس اعوان

باباجی کی بات۔۔پتے کی بات

0 comments

آج شام اولڈ کیمپس کے گراؤنڈ میں والی بال کھیلتے ہوئے ہماری واحد عینک نے جام شہادت نوش کیا۔نئی عینک کے حصول کے لیے ہم بازار گئے اور عینک پسند کی اسی دوران ہمارے دائیں جانب ایک بابا جی بھی عینک بنوا رہے تھے جو وقتً بوقتً نظر کی افادیت اور حفاظت پر روشنی ڈال رہے تھے۔وقت گزارنے کے لیے ہم بھی انکے ساتھ گفتگو میں مشغول ہو گئے ۔چلتے چلتے بات مولویوں تک جا پہنچی ،،با با جی نے ایسی بات کی جو میرے دل پر نقش ہو گئی وہ کچھ اس طرح سے تھی کہ
" بیٹا صدقہ دیا کرو یہ تمام بلاؤں کو کھا جاتا ہے،اور مولوی ایسی بلا ہے جو صدقے کو بھی کھا جاتا ہے"
میں بے ساختہ ہنسنے لگا ۔۔۔اور تا دم تحریر مسکرا رہا ہوں۔۔۔۔۔
(ملک انس اعوان)

اب اپنے یار گنتا ہوں

0 comments
کہاں ہیں ناز ماضی کے
کہاں ہیں مان یاروں کے
طلب کیجے نا اب صاحب
کہاں ہیں یار یاروں کے
فقت یوں ہی کبھی گویا
خیالوں کی وسیع دنیا
کناروں تک چڑھا پانی
اُمڈتے شام کے سائے
لپک کر چھین لیتے ہیں
مجھ سے دنیا کی رعنائی
سنو! کس پر ہے حق میرا
کسے پرواہ میری تھی
فقط ایسی ضرورت تھی
جو مجھ بن ممکن نہیں ہوتی
تو یوں ہی سلسلہ جوڑو
ضرورت مدِ نظر رکھو
چلو ممکن کرو یوں ہی
کہ سب کچھ طے شدہ رکھو
کہ پھر سے ٹوٹ جانا ہے
مجھے مجھ سے پرے رکھو
حقیقت سے پرے ہو کر
اب اپنے یار گنتا ہوں
سبھی بے کار گنتا ہوں
سنو! وہ اتنے زیادہ ہیں
کہ گنتی میں نہیں آتے۔۔۔۔
(ملک انس اعوان)




1971 سقوط ڈھاکہ

2 comments
حضرت علامہ محمد اقبالؒ کا یہ شعر اپنے اندر کئی سمندروں کی وسعت سمیٹے ہوئے ہے۔اسی ایک شعر میں ہمارے ماضی کی تلخ حقیقتیں اور مستقبل کا لائحہ عمل چھُپا ہوا ہے۔ہماری تاریخ میں بر صغیر کے مسلمانوں کے لیے بہت سے عبرت کے مقام ہیں ۔لیکن ہم اکثر مر وجہ دستور کے تابع ہو کر اس اصولوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔یاد رکھیےکہ ایک مسلمان سب سے پہلے اپنے رب کا بندہ ، محمد عربی ﷺ کا غلام اور امت مسلمہ کا یاک فرد ہے۔ 

ابو الیمان، شعیب، ابوالزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم لوگ دوسری امتوں سے باعتبار زمانہ اگرچہ اخیر کے ہیں لیکن مرتبہ میں بہت آگے اور بلند ہیں۔
(صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 223 حدیث مرفوع مکررات 9 متفق علیہ 8)

حبان عبداللہ یونس زہری حمید بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت معاویہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے تو اس کو دین کی سمجھ بوجھ عنایت فرما دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی دینے والا ہے اور میں تقسیم کرنے والا ہوں اور یہ امت ہمیشہ مخالفین پر غالب رہے گی اور قیامت آنے تک غالب رہے گی۔
(صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 380 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 12 متفق علیہ 8)

آپ قرآن مجید سے لے کر احادیث مبارکہ پرح لیجے ہر جگہ جس کی بڑائی اور طاقت کو بیان کیا گیا ہے وہ ہے امت مسلمہ ۔کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ فلاں قوم کو فلاں قوم پر برتری یا امتیاز حاصل ہے۔ہر جگہ امت کا تصور موجود ہے۔ ایک لمحے کے لیے اپنے آپ کو قوم کی زنجیر کی آزاد کروا کر دیکھیے کہ آپ اس وقت کہاں کھڑے ہیں ۔کہیں ہم ،پاکستانی ہیں ، کہیں بھارتی ، کہیں بنگالی ، کہیں ایرانی ، کہیں افغانی لیکن تلاش کے باوجود آپ کو مسلمان اور امت مسلمہ نظر نہیں آئے گی۔
یہی تو وہ بنیادی فرق ہے جو ہم اور غیر مسلموں مین موجود ہے کہ ہم چاہے کسی بھی قوم ، زبان ، رنگ و نسل سے تعلق رکھتے ہوں لیکن ہمارا سب سے بلند اور عظیم رشتہ 
لا إله إلا الله محمد رسول اللہ

کا ہے جس کو پڑھ لینے کے بعد ہم تمام نسبتوں سے آزاد ہو کر اللہ تعالی کے لشکر میں شامل ہو جاتے ہیں۔
ہماری بد قسمتی رہی ہے کہ مغلیہ دور سے لے کر برطانیہ راج تک ہم مسلمان اس خطعہ زمین پر اسلامی نظام نا فذ کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔  


1944 سے 1923 تک خلاٖفت عثمانیہ کا دور رہا ۔جس کے ٹوٹتے ہی امت کا تصور مزید پستی کا شکار ہو گیا۔مسلمانوں میں رہی صحیح امید بھی جاتی رہی۔1947 کو برصغیر مزید 2 حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔یعنی ایک پر ایک تقسیم ہوئی اور اس دوران مسلمانوں کی کتنی ہی نسلوں نے غلامی کے دن کاٹے، اس غلامی میں  نہ تو پہلے کی طرح تعلیم و تربیت کا کوئی معقول انتظام موجود تھا۔اور اگر تھا بھی تو سر سید احمد خان کے نظریات پر مبنی جن سے صرف تاج برطانیہ کے وفاداروں کی ہی  تیاری مقصود تھی۔ اسی نسل نے چل کر آگے پاکستان کے انتظام کو اپنے ھاتھ میں لے لیا۔ چناچہ بنیادی تعلیم و تربیت نہ ہونے کے وجہ سے اس اشرافیہ نے دنیا میں جاری و ساری مختلف نظاموں اور نظریات سے متاثر ہو کر پاکستان کو اس کے لیے تجربہ گاہ بنا دیا ۔کیوںکہ مسلسل غلامی نے جو احساس کمتری اس قوم میں پیدا کر دیا تھا اب اس کا شکار پوری طرح سے قوم کو بنایا جا رہا تھا۔
پھر دنیا میں کمیونزم کا چرچا ہوا پاکستان میں ایک بڑی تعداد ان نظریات سے متاثر ہوئے بِنا نہ رہ سکی۔مسلمانوں کو توڑنے کے لیے سب سے آسان حربہ قومیت پسندی ہے۔یہ نفرتوں کے بیج جس کا پھل پاکستان نے 1971 میں حاصل کیا تھا اس کو ایک عرصہ پہلے ایک خاص مقصد کے تحط بویا گیا تھا۔ مغربی پاکستان میں موجود سیاسی منظر نامے پر جو لوگ نمایاں تھے ان کا ووٹ بنک صرف اسی صورت میں بن سکتا تھا کہ اگر وہ ملک کی خستہ حالی کا تمام تر ذمہ دار مشرقی پاکستان کو ٹھرائیں ۔پہلے اس کو تربیتی مراحل سے گزارا گیا تو یہ حربہ امید سے زیادہ کامیاب نکلا۔
جبکہ مشرقی پاکستان میں 1947 سے ہی بھارتی تنظیمیں بنگال کی علیحدگی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے تھی۔باربار بنگالی عوام کو مغربی پاکستان کے خلاف بغاوت پر اکسایا جاتا رہا۔

بنگال کی علیحدی میں سب سے بڑا کردار اُن ہندو اساتذہ کا تھا جو کہ اُس دور میں اعلی تعلیم یافتہ تھے اور سکولوں اور کالجوں مین نئی نسل کی ایک خاص طریقے سے ذہن سازی مین مشغول تھے جن کے بنیادی پوائنٹس لسانی اور نسلی اختلافات تھے۔مثلاً
مغربی پاکستان میں بنگال کا پیسہ استعمال کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کے لوگ بنگالیوں سے نفرت رکھتے ہیں اور اعلی عہدوں پر نوکریاں دینے سے گریزاں ہیں۔
اس تمام تر پراپیگنڈہ کا سامنا جماعت اسلامی متحدہ پاکستان کرتی رہی ۔سکولوں اور کالجوں میں اسلامی جمعیت طلبہ نے اس نظریے کا سامنا کیا اور امت کو کلمے کی بنیاد پر اکٹھا کرنے کی کوشش کی۔ اسی دوران جب بنگلہ دیش کے حالات قابو سے باہر ہوئے تو مغربی پاکستان نے بنگال کے اندر ایک ملٹری آپریشن کا آ غاز کیا ۔جس کے باعث بنگالی عوام میں مغربی پاکستان کے لیے مزید نفرت پیدا ہو گئی۔نفرت کی یہ دراڑیں وقت کے ساتھ ساتھ مزید گہری ہوتی چلی گئیں۔دوسری طرف مغربی پاکستان میں  ذوالفقار علی بھٹو نے  " اِدھر ہم اُدھر تم" کا نعرہ بلند کر دیا۔دونوں اطراف سے نفرت کا سبق پڑھا جانے لگا ۔یہ وہ وقت تھا جب بھارت بنگال میں متحدہ پاکستان کے باغیوں کو اسلحہ اور تربیت فراہم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ رہا تھا۔


 25مارچ 1971 مین پاک فوج کے آپریشن کو روکنے کے لیے بھارت نواز مُکتی باہنی کا قیام عمل میں لایا گیا۔جس کا مقصد پاکستان کے خلاف مسلحہ جدو جہد کو عام بنگالی عوام میں مقبول کروانا تھا۔جبکہ ان کے مقابلے مین پاک فوج کے ہمراہ رضاکار، الشمس ،البدر اور جماعت اسلامی پاکستان شانہ بشانہ موجود رہی۔
رضاکار فورس میجر جنرل محمد جمشید کی سربراہی میں تشکیل دی گئی۔یہ نیم مسلحہ قوت کے طور پر پاک فوج کے ہمراہ تھی۔اس میں زیادہ تعداد اردو بولنے والے بنگالیوں کی تھی۔
15 مئی 1971 کو جماعت اسلامی پاکستان کی مجلس شوری نے بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے میجر ریاض حسین ملک کی سربراہی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے نوجوانوں کو منظم کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کا نام البدر فورس رکھا گیا۔اس کا رضا کار فورس سے کوئی تعلق نہیں تھا اور اس کا مقصد گوریلا طریقے سے مُکتی باہنی کے مکروہ عزائم کو ناکام بنانا تھا۔
ایک واقعہ:
البدر کے شہداء کی لازوال قربانیاں سُن کر آ نکھوں مین آنسو بھر آتے ہیں ۔ایک بار ایک عبدالرحمن نامی جمعیت کا نوجوان البدر کے کمانڈر کے پاس آیا اور کہا کہ میرا بھائی مکتی باہنی کی مدد میں ملوث ہے اگر آپکا حکم ہو تو میں اسکو گرفتار کر کے لے آؤں؟۔ دوسرے روز وہ نوجون اپنے سگے بھائی کو گرفتار کر کے لے آیا۔کمانڈر نے تفتیش شروع کی تو پتہ چلا کہ یہ پہلے ہی البدر کے ٹھکانے کا مُکتی باہنی کو بتا چکا ہے ۔یہ سنتے ہی عبدالرحمن بندوق اُٹھاتا ہے اور اپنے سگے بھائی کے سینے میں گولی اُتار دیتا ہے۔یہ تھی اسلامی جمعیت طلبہ کے محب وطن نوجوانوں کی تربیت کا اثر۔ 
بنگال میں حالات بدتریج بگڑنے لگے اور پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن 16 دسمبر 1971 آن پہنچا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان کے جنرل نیازی نے 93000 پاکستانی فوجیوں سمیت بھارتی افواج جے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ جنگ عظیم دوم کے بعد دنیا کی سب سے بڑے ہار تھی۔یہاں میرے قلم نے مزید کچھ لکھنے انکار کر دیا ہے۔۔آج میرا سر شرم سے جھک گیا کیونکہ میں نے سُن رکھا تھا کہ مسلمان یا غازی ہوتا ہے یا شہید لیکن 1971 میں اس کے علاوہ ہم تیسری اصطلاح سے بھی مانوس ہوئے جو تھی نہ غازی نہ شہید صرف "فوجی"۔۔۔۔۔
آج بھی جماعت اسلامی بنگلہ دیش ،پاکستان کے ساتھ کیے ہوئے اپنے وعداِ وفا کی قیمت خون دے کر چکا رہی ہے۔۔۔
ہمیں اپنے کیے کا آج بھی فخر ہے ہم یا غازی ہوئے تھے یا شہید ۔۔۔۔۔پاکستانیوں البدر کی 10000 سے زائد قربانیوں کو کبھی فراموش نہ کرنا۔۔۔۔۔کیوںکہ جو قومین اپنا ماضی بھول جاتیں ہیں۔۔۔ان کا نام صحفہ ہستی میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔۔۔اور انشاءاللہ ہم بنگہ دیش کا بدلہ ضرور لیں گے ۔۔۔۔۔
آخر میں اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان کی کچھ تصاویر جو آ پکی محبت میں اپنی جان آ فرین کے سپرد کرتے رہے۔۔۔



تحریر 
ملک انس اعوان