اکبرؔ نام لیتا ہے خدا کا زمانے میں

0 comments
رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں
کہ اکبرؔنام لیتا ہے خدا کا زمانے میں

اکبر الہ آبادی کا یہ شعر تب کا ہے جب برصغیر میں انگریز شاہی کا راج تھا۔لیکن آج کے دور میں بھی یہ شعر اپنی صداقت کی پوری آب و تاب سے ساتھ وکالات کرتا نظر آتا ہے آج بھی زرا کسی جگہ خدا کا نام لے کر دیکھ لیجیے اور اطمینان  رکھیے کہ جلد ہی آپکا نام بھی "مسنگ پرسنز " میں شامل ہو جائے گا اور آپکے گھر والے زندہ انسان کا ماتم کرتے ہوئے زندگی کاٹ لیں گے۔میں سمجھ نہیں پا رہا کہ اگر پاکستان کو اسلام کے نام پر ہی بنایا جانا تھا تویہاں اسلام کے نفاذ میں آخر یہ رکاوٹ ہے کیا اور اگر معلوم ہو جائے تو یہ رکاوٹ کیونکر ہے؟ایک ہمارے لبرل بھائی جو سرے سے ہی نظریہ پاکستان کی مخالفت کا اعلان کیے ہوئے ہیں۔توہین رسالت ایکٹ کو کالا قانون کہنے والے کی یاد میں شمعیں روشن کرتے ہیں۔مختلف NGOکے نام پر ہمارے ملک کے تعلیمی نظام سے لے کر معاشرتی نظام تک کا تیا پانچہ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ ان کو نہ تو کوئی غدار وطن کہتا ہے اور نہ ہی سزائیں دی جاتیں ہیں۔شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پینٹ شرٹ پہنتے ہیں اور چپڑ چپڑ انگریزی بولتے ہیں جو کہ بین الاقوامی امن  کا پاسپورٹ بنا دیا گیا ہے۔یہ مغرب کی چکاچوند زدہ چہرے اب پاکستان کا "برائٹ فیس" کہلایا جانے لگا ہے ۔بات  وہی سی ہے کہ جو اپنے آپ کو پہلے "میراسی" کہلوایا کرتے تھے اب  صدارتی ایوارڈ یافتہ فنکار کہلائے جانے لگے ہیں۔اب دیکھئے یہی کام اگر ایک داڑھی والا شخص کرے تو آؤ دیکھا نہ تاؤ ایک طوفان بد تمیزی کھڑا کر دیا جاتا ہے۔اور وہ بیچارہ  بذبان  اکبر الہ آبادی  یہی شکوہ کرتا نظر آتا ہے کہ
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
اب تو یہ حالات ہیں کہ کئی مولانا حضرات اب "آہ" کرنے سے بھی کتراتے ہیں،کہ کہیں شہر میں ڈھنڈورا ہی نہ پٹ جائے۔
ویسے یہ انکا بھی علاج ہے یہ سمجھتے ہیں کہ جنرل ایک سے ہوتے ہیں اور ایک ہی طرح Entertainنہیں کرتے ۔ایک دو ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی بنیادی دینی تعلیم میں کمی رہ جاتی ہے جس  سے  وہ ہمیشہ احساس کمتری کا شکار رہتے ہیں کہ ہم جنرل تو بن گئے لیکن آہ اچھے موسیقار نہ بن سکے۔اس کمی کو پورا کرنے کے لیے وہ صدارتی لیول پر محافل موسیقی کا انعقاد کرتے ہیں اور خوب عوام کی مغز ماری کرتے ہیں۔اسی بہانے ان میراثیوں کی بھی چاندی ہو جاتی ہے۔اب بھلا ایسے لوگ کیونکر جنرل ریٹائرڈ (------) کو برا کہیں گے۔۔خیر جانے دیجئے آج کل وہ بھی درد دل کا شکار ہیں اور اپنے فارم ہاؤس میں بلڈی سویلین سے دور ایک پر امن ، خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔اب مولوی حضرات کو بھی سوچ لینا چاہیے کہ مسلک کا تڑکہ اب دربار شاہی مین پرانا ہو چکا ہے اگر آپ دوبارہ مارکیٹ میں "in"ہونا چاہتے ہیں تو کسی نئی پروڈکٹ کے ساتھ  نئی پیکنگ لائیں اور یہ بھی یاد رکھیے کہ وہ پرو ڈکٹ   بین الاقوامی منڈی میں بھی قابل قبول ہو۔ارے رکیے اب آپ سوچ رہے ہوں گے ایسا کیسے ممکن ہے تو رکیے آپ کو ایک زندہ مثال پیش کیے دیتا ہوں۔اب MQMکی سابقہ  علماء کمیٹی ہی کو دیکھ لیجئے،نام بے شک بدل گیا لیکن وہ کیا کہتے ہیں کہ "رسی جل گئی پر بل نہ گیا" کے مصداق اپنی گزشتہ روایات پر قائم ہیں ۔ایسی ایسی پروڈکٹ مارکیٹ میں لا رہے ہیں کہ جو شاہ کے لیے بھی  اور شاہ کے شاہ کے لیے بھی قابل قبول ہے۔
پھر نہ کہیے گا کہ بتایا نہیں تھا۔۔۔۔
تحریر 
ملک انس اعوان




0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔