خیالِ آوارہ

0 comments
بیٹھے بیٹھے ہی خیال آیا کہ زرا تحقیق کی جائے کہ ہم زندہ بھی ہیں یا نہیں؟
جی ہاں سانس چل رہی ہے،دل دھڑک رہا ہے،آنکھیں منظر دیکھا رہی ہیں،کان آوازیں سُنا رہے ہیں ،درد ہو یا خوشی محسوس ہو رہی ہے،دن اور رات ایک دوسرے میں تبدیل ہو رہے ہیں،دریا کی لہریں ساحل سے ٹکرا کر واپس آ رہی ہیں تو گویا کہ ہم زندہ ہیں۔لیکن ایسے تو سب لوگ زندہ رہتے ہیں۔کتنے ہی اس دنیا میں آتے وقت گزارتے اور چلے جاتے ہیں۔اور وہ دریا کی لہریں ان کا کیا ہے وہ تو ایک عرصے سے ایسے ہی ساحل کے ساتھ سر پٹخ کر واپس اپنے مسکن کو لوٹ جاتیں ہیں ۔
تو کیا ہم بھی کسی ایسی ہی گمنام سی لہر کا حصہ ہیں جو ایک جگہ پیدا ہوئی اور بڑھتے بڑھتے ایک لہر کی صورت اختیار کر گئی اور پھر ساحل پر پہنچ کر دم توڑ گئی،کہانی ختم!
نہین جناب ایک تو ہم انسان بہت Materialistic ہو چکے ہیں ۔ہمارا زہن وہ سب کچھ نہیں سوچ سکتا جو اس مادہ پرستی کے خلاف ہو۔یا یوں کہیے کہ ایک عرصے سے انسان نے مادیت پسندی کو اپنا لیا ہے۔آپ کے آپس کے تعلق ،رشتے یہاں تک ایسی چیزیں جن پر خرچ بھی نہیں آتا مثلاً ایک عدد مسکراہٹ اور چند رسمی جملے بھی اب اس Materialistic سوچ کا شکار ہو چکے ہیں۔
کبھی کبھی ایسا کیجیے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کسی ویران جگہ پر ڈیرہ ڈال لیجیے جہاں آپکو کوئی روکنے ٹوکنے والا موجود نہ ہو تو خوب دل کھول کر دل کی بھڑاس نکالیے  اور پھر دل کھود کر ہنسیے۔ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب آپ کے پاس رونے کو اور ہنسنے کو سب کچھ ختم  ہو جائے تو دل میں سکون تلاش کیجیے گا۔اور آئندہ جب دنیا کے سامنا ہو گا تو یقیناً آپ پر سکون اور شاداب نظر آئیں گے۔
وگرنہ وجود تو ختم ہونے کے لئے پیدا کیا جاتا ہے جسے کسی نا کسی دن ختم ہونا ہوتاہے لیکن اچھائی ہمیشہ قائم رہتی ہے ،جاری رہتی ہے اور پھلتی پھولتی رہتی ہے۔بلا شبہ اونچائی کی جانب جانا مشکل ہوتا ہے اور اس مین زیادہ طاقت صرف ہوتی ہے لیکن وہیں ہی کسی راہ میں منزل پڑی ہوتی ہے،جہاں جسم کبھی بھی نہیں پہنچ پاتے لیکن روح پہنچ سکتی ہے۔

تحریر
ملک انس اعوان






0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔