دیکھیے بھارت ہو روس ہو امریکہ ہو اسرائیل ہو دنیا کا کوئی بھی ملک جو پاکستان کے خلاف ہو کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ پاکستان میں جہاد کا کلچر فروغ پائے۔انہیں تو ہر دھماکے کے بعد موم بتیاں جلانے والے، نائٹ کلب میں راتیں گزارنے والے،رقص و سرور کے عادی ،سہل پسند اپنے دین اور روایات سے دور نوجوان درکار ہیں جو بس نام کے مسلمان ہوں ، دین سے بیزار ہوں جن کے سامنے مغرب کا تیار کردہ معاشی، معاشرتی اور اقتصادی نظام ہی کامیابی و کامرانی کا پیش خیمہ ہو ۔جن کی نظر قرآن کے نور سے خالی اور سنت رسولﷺ سے عاری ہو۔
وہ چاہتے ہیں کہ ایسا نوجون تیار کریں جس نام تو عبداللہ ہو لیکن اس کے سارے کام "ایلیکس" جیسے ہوں۔یاد رکھیے کہ نوجوان ہی اپنے آنے والی نسل کے ذمہ دار ہیں ۔زرا سوچیے اگر آج کی نسل اپنے مذہب سے اتنی بیزار ہے تو آنے والی نسلوں کی کیا حالت ہو گی۔فطرت کا اصول ہے کہ جس چیز پر آپکی توجہ کم ہوجائے وہ مسلسل گھٹتی ہی چلی جاتی ہے اور ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ وہ اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتی اور صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے۔
اس کی زندہ مثالیں ہمارے سامنے ترکمانستان ،تاجکستان ،روس اور سینٹرل ایشیاء بالخصوص منگول قوم میں آج بھی سینکڑوں مسلمان موجود ہیں لیکن انکو کلمہ طیبہ کا بھی علم نہیں ہے۔نماز کا تصور ہی موجود نہیں ہے۔ یہ وہ نسل تھی جس کو سوویت یونین نے ایک خاص مقصد کے لیے پروان چڑھایا تھا۔اب بھی ان علاقوں میں لاکھوں مسلمان آباد ہیں لیکن ان مسلمانوں سے اب روس اور کفار کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔اگر خطرہ ہے تو پاکستان میں یونیورسٹیز میں زیر تعلیم نسل ہے کہ کہیں ان کے دل میں بھی اسلام کے لیے جگہ اور محبت نہ قائم ہو جائے۔کہیں یہ بھی اسلام کو
AS A SYSTEM تسلیم نہ کرلیں۔
دشمنان پاکستان تو چاہتے ہی یہ ہیں کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو اسلام کو محض رسومات و عبادات کی حد تک تسلیم کرے۔اسلام کا وسیع معنی تو ہے کہ یہ ایک نظریہ حیات ہے جسے ہم نے ہی اس مملکت خداداد میں اللہ کے حکم کو نافذ کرنا ہے۔ یاد رکھیے کہ ملک آپ کا اپنا ہے آپ ہی نے اسے پروان چڑہانا ہے اور اس کی حفاظت کرنی ہے۔اس ذمہ داری کو محسوس کیجیے کہ آپ ایک طالب علم ہونے کے ساتھ اس ملت اسلامیہ کا حصہ بھی ہیں جس کے اوپر کشمیر،فلسطین ،شام ،برمااور افغانستان میں ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔عزتیں تک محفوظ نہیں ہیں لیکن ہم آرام سے اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں کیوں کہ ہم پاکستانی ہیں۔۔ہمارا کیا لینا دینا ان سے۔۔۔اس طرح تو ہمارا( نعوذ باللہ ) اللہ اور رسول ﷺ سے بھی کوئی تعلق نہیں بنتا کیونکہ مکہ اور مدینہ تو سعودی عرب میں ہیں۔
علامی اقبال نے کیا خوب کہا تھا
ان تازہ خداؤں میں سب سے بڑا وطن ہے
جو پیرہن اس کاہے،وہ مذہب کا کفن ہے
ان تازہ خداؤں میں سب سے بڑا وطن ہے
جو پیرہن اس کاہے،وہ مذہب کا کفن ہے
ان تازہ خداؤں سے نکل کر سارے تعصب کے لبادے اتار دیجیے اور محمدعربی ﷺ کی غلامی کا طوق گلے میں ڈال لیجیے۔یقین جانیے اس دنیا کے بڑے بڑے خود ساختہ خدا ہمارے قدموں کی دھول چاٹیں گے۔ہمیں ہی اپنے اسلاف و آباء کی یادیں تازہ کرنی ہیں۔
انشاءاللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
-
تحریر
-











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔