یہ ہے ہماری مادر علمی یعنی یونیورسٹی وہ بھی
کامسیٹس انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اٹک کیمپس۔ہم جو چھٹیوں کے بعد حسب عادت و معمول خراماں خراماں
چلتے ہوئے دروازے پر پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ سب کچھ ہی غیر
معمولی لگ رہا ہے۔3 عدد سیکیورٹی گارڈ جن میں سے ایک عدد مسلحہ تھے جو سینہ بمعہ
بندوق تانے کھڑے ہوئے تھے۔اب یہ آپس کی بات ہے کہ بندوق کی حالت اس چیز کی دلیل ہے
کہ اب اس کو تان کر کھڑا ہونا ایسا ہی ہے جیسے
"بوڑھی گھوڑی لال لگام"
خیر یہ ایک الگ معاملہ ہے اور توجہ طلب بھی ۔پھر ہمیں خلاف توقع روکا بھی گیا اور کارڈ کا بغور جائزہ بھی لیا گیا اور تسلی کی
گئی کہ حامل کارڈ وہی صاحب ہیں جن کی تصویر کارڈ پر چسپاں ہے۔اس کے بعد جانے دیا
گیا ۔لیکن جو طالب علم اپنے ساتھ بیگ وغیرہ لائے تھے ان کے سامان کی بھی تلاشی لی
گئی۔آنے جانے والی گاڑیوں کا معائنہ بھی کیا جا رہا تھا۔یوں لگ رہا تھا جیسے ہم
یونیورسٹی نہیں بلکے سینٹرل جیل میں کسی
قیدی سے ملاقات کرنے جا رہے ہیں۔چلیں دروازے پر تو سیکیورٹی کے انتظامات بہتر ہو
گئے لیکن یونیورسٹی کی مغربی جانب کی طویل دیوار پر سوائے خاردار تار کے علاوہ
کوئی خاص انتظام دیکھنے میں نہیں آیا ۔حلانکہ اسی جانب سب سے زیادہ توجہ دینی
چاہیے تھی کیونکہ وہ علاقہ غیر آباد اور شہر سے ہٹ کر ہے۔
ایک چیز تو میں بھول ہی گیا ،اپنے ہوسٹل (آستانہ
عالیہ) میں بھی سیکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں۔یہاں ہمارے ایک گارڈ ہیں جن کا نام
تصوّر ہے۔ماشاءاللہ انہیں کھڑا ہونے کے لیے بھی کسی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ویسے
بھی صحت کے وزیر لگتے ہیں یا یوں کہیے کہ
صحت کے نام پر جسم کو دھوکا دیا گیا ہے۔جب وہ بندوق لیے کھڑے ہوتے ہیں تو گویا یوں
محسوس ہوتا ہے کہ جیسے بندوق نے بندہ رکھا ہوا ہے۔۔اور جب کندھے پر بندوق ٹانگ کر
چلتے ہیں تو خدشہ رہتا ہے کہ اب کہیں یہ محترم اس کے وزن کے نیچے دب ہی نہ جائیں۔ہماری غیر ماہرانہ رائے کے مطابق یہ بندوق
نما چیز بھی اب چلنے کے قابل نہیں ہے لیکن اس کو اگر زور سے مارا جائے تو کسی
انسان کا سر ضرور پھاڑاجا سکتا ہے۔اور قوی امکان موجود ہے کہ متعلقہ انسان بے حوش
ہو جائے۔ لیکن تصور بھائی دل کا بہت اچھا
اور صاف گو انسان ہے۔
ابھی دوران تحریر ہی محترم سر انجم خان ہاسٹلز کا دوسرے کرتے ہوئے
ہمارے کمرے میں تشریف لائے اور اپنے مخصوص انداز میں ایک اور وعید سنا گئے کہ اب
سے ہاسٹل کا گیٹ 8 بجے بند کر دیا جائے گا۔
یعنی اب سے آوارگی بھی بند ویسے بھی سردیوں میں اٹک
کی سڑکیں نماز عشاء کے فوراً بعد مقبوضہ
کشمیر کے کرفیو زدہ علاقے کا منظر پیش کر رہی ہوتیں ہیں۔اس لیے آپ تسلی سے اپنی
آواز کے سُریلے پن کا ٹیسٹ کر سکتے ہیں
اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس کو سننے کے لیے سامعین کی کثیر تعداد بھی موجود ہوتی
ہے ۔مگر ایسے میں احتیاط لازمی ہے۔اگر ایسے سامعین کو چھیڑا جائے تو وہ آپکے پیچھے
بھی لگ سکتے ہیں اور اپنے مضبوط دانتوں سے آپ کی ٹانگ بھی کاٹ سکتے ہیں۔
تحریر
محمد انس مسعود اعوان
Twitter:AnasInqilabi











Nice
a good one Anas. Keep writing... We all are trying really very Hard to retain our campus in limited resources. I wish everyone will play his precocious role to make this effort a successful one.
Your teacher, Rehan Tariq Chohan
جزاک اللہ
سر واقعی آپ سب اساتزہ کی خدمات قابل قدر ہیں.اتنے محدود وسائل کے باوجود بھی بہت سے انتظامات قابل تحسین ہیں۔
nice
buhot khub
The way you support your students I like it <3 " Teacher kam aur dost zaida " :)
Anas keep it up :)
بہت بہت شکریہ رحمان گل بھائی
اس طرح ہم طالب علم بھی بہتر انداز میں اپنے سب مسائل سر سے ڈسکس کر سکتے ہیں۔ایک استاد ہونے کے ساتھ ساتھ ہر معاملے میں ہماری رہنمائی ایک بڑے بھائی کی طرح بھی کرتے ہیں ۔اللہ کوش رکھے سر ریحان کو۔
زرہ نوازی کا بہت بہت شکریہ
شکریہ شہباز بھائی