وادی سون

0 comments

وادی سون
ایک ایسی وادی جس کے متعلق عمومی طور پر سوچنا شاید ہمارے لیے ممکن نہیں ہے. یہاں کی فضاایک مہیب خاموشی میں اٹی رہتی ہے جس کا کوئی سرا عقل کے ہاتھ نہیں آتا.سوائے اس کے کہ بادل اپنے صبر کا دامن چھوڑ دیں اور پہاڑوں کے کندھوں پر سر رکھ کر روئیں، جس سے موسمی ندی نالے جنم لیتے ہیں اور چیختے چنگھاڑتے وادی کے نشیبی علاقوں کی جانب کود جاتے ہیں، پانی اپنے ساتھ صدیوں سے  آج بھی پتھروں کو اکھیڑ اکھیڑ کر اپنے سفر میں شریک کرتا ہے، یہ پتھر پانی کے ساتھ نشیب کی جانب اس طرح دوڑتے چلے جاتے ہیں گویا ایک ایک پتھر پر ایک ایک کوڑے مارنے والا مسلط کر دیا گیا ہے جو ایک کے بعد ایک کوڑے رسید کرتا ہے اور پتھر چیختے چلّاتے ہوئے مزید رفتار پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں. یہی نسبتاً گول پتھر ہمارے آباء کے گھروں کی دیواروں میں چن دیے جاتے رہے ہیں اور آج بھی یہ پتھر اس ان جانے والوں کی یاد میں ماتم کر رہے ہیں جو کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے.
ارے ہاں... "پنج پیر" کے سامنے ایک اونچی پہاڑی پر بیٹھ کر لہراتی ہوا کا لمس اس لیے بھی اچھا لگ رہا تھا کہ اگر یہ ہوا بھی نہ ہو تو یہ غیر مرئی سکوت کانوں کے پردے پھاڑ کر رکھ دے. یہاں کے باسیوں کے سپاٹ چہرے اور بھوری آنکھیں ہرگز ہرگز حیرت میں مبتلا نہیں کرتیں واضح پتہ چلتا ہے کہ اصلاً یہ لوگ یہاں کے نہیں ہیں لیکن یہاں قدرت کے ساتھ ایسا تال میل بٹھا چکے ہیں کہ شاید یہاں انسے پہلے صرف سمندر ہی سمندر تھا جس کے سینے میں چھوٹی چھوٹی سیپیوں کی طرح لاکھوں راز چھپے بیٹھے ہیں.
ان خاموش طبع لمبے لبادوں، بھوری آنکھوں، کشادہ سینوں والے صحرائی قافلے کی تھکن آج بھی وادی کے پہاڑوں، جھرنوں، چشموں اور انکی آل اولاد میں دیکھی جا سکتی ہے. آج بھی ایسے ہی محسوس ہوتا ہے گویا وہ پر وقار بھوری آنکھوں والوں جن کی ارواح روز ان ندی نالوں، پہاڑی چوٹیوں پہ آکر خاموشی سے ہاتھ باندھ کر کھڑی ہو جاتی ہیں. اور ایک ایسا اسم پڑھتی ہیں جس سے وادی خاموشی کے وجد میں آ جاتی ہے.
سورج کے ڈوبتے ہی ایک لطیف خنک ہوا وادی کے در و بام کو چھوتی ہوئی آسماں کی جانب روانہ ہو جاتی ہے گویا ان لمبے لبادوں والوں نے اپنی اولاد پہ اچٹتی سی نگاہ ڈالی ہو اور بلندی کی جانب سفر شروع کر دیا ہو.....!
ملک انس اعوان