Ad
موضوعات
آمدو رفت
تصور جاناں
0
comments
ضد
0
comments
بے خوابی
0
comments
ایک اور پاگل
0
comments
میں عشق کی نماز ہوں
1 comments
سبقت
0
comments
یہ شاعری تو فقط الفاظ کی تُک بندی ہے
کہیں قافیہ و ردیف کی پا بندی ہے
میں جو کہتا ہوں کہہ نہیں پاتا
میں جو سنتا ہوں سہہ نہیں پاتا
دامن دل دلچسپیوں سے عاری ہے
پہلا دم پچھلے دم پہ بھاری ہے
خوف یہ ہے کہ کوئی سن لے گا
گیت اپنے سے کوئی گُن لے گا
شام ڈھلی تو شام کی چھاؤں
گھنے پیڑ تلے پھیلا کے پاؤں
موضوع کوئی تلخ سا چن لے گا
کوئی مجھسے پہلے تارے گن لے گا
ملک انس اعوان
اللہ سے تعلق
0
comments
کیونکہ اللہ سے تعلق کوئی Physical Structure (مادی ہیت) نہیں رکھتا تو اس کی مادی ہیت دراصل عبادات اور اس سے کہیں زیادہ بڑھ کر معاملات اور معاشرت میں پنہاں ہے.لیکن پھر اس کے بعد یہ بات نہایت اہم ہے کہ وہ رب جو اپنی مخلوق سے ستر ماؤں سے زیادہ الفت رکھتا ہے اس کی مخلوق میں صرف آپ ہی نہیں بلکہ دوسرے تمام افراد بھی موجود ہیں جن پر آپکے اثرات واسطہ یا بلاواسطہ طور پر پڑتے ہیں. اب جس قدر محبت ہو گی اسی قدر اس کا حساب بھی لیا جائے گا،چناچہ رب العالمین نےاسی لیے حقوق العباد صرف اسی صورت میں معاف کیے ہیں جب تک کہ متعلقہ فرد بذات خود اس شخص کو معاف نہ کردے،. کیونکہ
میرے اللہ کو اس کی ساری مخلوق محبوب ہے.
اور اس کی رحمت بھی لا محدود ہے.
اور وہ ہر جگہ موجود ہے.....
انس اعوان
اچھا لگتا تھا
0
comments
لہریں وہریں اور ساحل سب
بانکپن کی نوخیز نظر کو
سب کچھ اچھا لگتا تھا
سو شام ڈھلے سورج کی کرنیں
جب تھک کر پانی میں جاتیں
سو بیچ افق پھیلی ہوئی سرخی
سب کچھ اچھا لگتا تھا
جب زرد خزاں کے آنگن میں
سب پتے پیلے پڑتے تھے
سو انکا پانی میں گرنا
سب کچھ اچھا لگتا تھا
تب کاغذ کی کشتی پر
ارمان بہائے جاتے تھے
سو ہم بہلائے جاتے تھے
سب کچھ اچھا لگتا تھا
جب صبح پراٹھوں کی جوشبو
جو بستر تلک آجاتی تھی
سب کچھ اچھا لگتا تھا
جب نصف شب کے آنگن میں
نصیحت
0
comments
![]() |
| www.razaqvance.com |
تم اگر پوچھ ہی لیتے
0
comments
تم نے پوچھا ہی نہیں
تم اگر پوچھ ہی لیتے
پوچھ لینے سے کیا جاتا
خیر اگر پوچھ بھی لیتے
ہم بتاتے بھی کیا کہ
وہی حالات و ماہ و سال پہلے سے
وہی گردش دوراں کے چکر
وہی گرد میں لپٹا ہوے لوگ
وہی تھک کر ٹوٹے ہوئے در و دیوار
اور وہاں لٹکے ہوئے آہنی تالے
سر جھکائے جن گلیوں سے گزرتے ہیں
ہم دیکھتے ہیں نادان بچوں کو
جو بہتی نالیوں کے ساتھ چلتے ہیں
جہاں سے روشنی چھن کر برستی ہے
کسی دوکاں کے سامنے آ دھمکتے ہیں
جیب سے چند سکوں کی دولت اچھال کر دیکھتے ہیں
انکی آنکھوں کی حسرت ہاتھ میں پکڑے ہوئے پیسوں سے
یوں لگتا ہے جیسے مِیل کھاتی ہے
سمجھتے ہیں کہ وہ ان پیسوں سے
بھری دوکان سے خوشیاں خرید سکتے ہیں
کتنے نادان ہیں اور ان کے ساتھ
میں بھی اس خواب سے نکل آتا ہوں
(ملک انس اعوان)
ڈائری کا ایک ورق 2
0
comments
بیمار بھینس
1 comments
مولانا طارق جمیل اور مولانا الیاس قادری سے ایک سوال
3
comments
آپ دین کو سیاست سے کس طرح علیحدہ کر سکتے ہیں اگر کر سکتے ہیں تو مجھے بھی کچھ ایسا وعظ کیجئے کہ میں بھی اس فتنے سے بچ سکوں ۔۔۔ وگرنہ ایک بات ذہن نشیں رکھیے کہ اللہ قیامت کے روز انسان سے اس کے اختیار کے برابر ہی سوال کرے گا،بس یہی بات مجھے سکون سے بیٹھنے نہیں دیتی۔۔ برائے مہربانی راہنمائی فرما دیجئے۔۔۔۔۔۔!
اب اس جدید راہبانیت کا کچھ تو سر پاؤں ہو گا۔
اب زرا مولانا مفتی محمد شفیع ؒ کا بیان بھی سن لیجئے۔
" حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ
مفتی اعظم پاکستان، بانی جامعہ درالعلوم کراچی حضرت مولانا مفتی محمد شفیع نے عمیق فکر پر مبنی درج ذیل تحریر تقریباً پچاس سال پہلے لکھی تھی۔ موجودہ ملکی حالات کے پیش نظر اس فکر کی آج جب پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت اور اہمیت ہے اس بصیرت افروز تحریر کو خلفشار، معاشی بدحالی، بدامنی اور لاقانونیت کے دور میںہونے والے عام انتخابات میں رہنمائی کا صائب ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے ۔مولائے کریم ملکی عوام کو درست فیصلے کی توفیق عطا فرمائے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آج کی دنیا میں اسمبلیوں، کونسلوں، میونسپل وارڈوں اور مجالس اور جماعتوں کے انتخابات میں جمہوریت کے نام پر جو کھیل کھیلا جارہا ہے کہ زور و زر اور غنڈہ گردی کے سارے طاغوتی وسائل کا استعمال کرکے یہ چند روزہ موہوم اعزاز حاصل کیا جاتا ہے اور اس کے عالم سوز نتائج ہر وقت آنکھوں کے سامنے ہیں اور ملک و ملت کے ہمدرد و سمجھدار انسان اپنے مقدور بھر اس کی اصلاح کی فکر میں بھی ہیں لیکن عام طور پر اس کو ایک ہار جیت کا کھیل اور خالص دنیاوی دھندہ سمجھ کر ووٹ لیے اور دیئے جاتے ہیں، لکھے پڑھے دیندار مسلمانوں کو بھی اس طرف توجہ نہیں ہوتی کہ یہ کھیل صرف ہماری دنیا کی نفع نقصان اور آبادی یا بربادی تک نہیں رہتا بلکہ اس کے پیچھے کچھ طاعت و معصیت اور گناہ و ثواب بھی ہے، جس کے اثرات اس دنیا کے بعد بھی یا ہمارے گلے کا ہار عذاب جہنم بنیں گے۔
اس حالت میں ان کے سامنے قرآن و حدیث کے احکام پیش کرنا ایک بے معنی و عبث فعل معلوم ہوتا ہے لیکن اسلام کا ایک یہ بھی معجزہ ہے کہ مسلمانوں کی پوری جماعت کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہوتی، ہر زمانہ اور ہر جگہ کچھ لوگ حق پرست اپنے ہر کام میں حلال و حرام کی فکر کو پیش نظر ضرور رکھتے ہیں۔
اُمیدواری:
کسی مجلس کی ممبری کے انتخابات کے لیے جو امیدوار کی حیثیت سے کھڑا ہو، وہ گویا پوری ملت کے سامنے دو چیزوں کا مدعی ہے، ایک یہ کہ وہ اس کام کی قابلیت رکھتا ہے جس کا امیدوار ہے، دوسرے یہ کہ وہ دیانت و امانت داری سے اس کام کو انجام دے گا، اب اگر واقع میں وہ اپنے اس دعویٰ میں سچا ہے یعنی قابلیت بھی رکھتا ہے اور امانت و دیانت کے ساتھ قوم کی خدمت کے جذبہ سے اس میدان میں آیا تو اس کا یہ عمل کسی حد تک درست ہے اور بہتر طریق اس کا یہ ہے کہ کوئی شخص خود مدعی بن کر کھڑا نہ ہو بلکہ مسلمانوں کی کوئی جماعت اس کو اس کام کا اہل سمجھ کر نامزد کردے اور جس شخص میں اس کام کی صلاحیت ہی نہیں وہ اگر امیدوار ہو کر کھڑا ہو تو قوم کا غدار اور خائن ہے، اس کا ممبری میں کامیاب ہونا ملک و ملت کے لیے خرابی کا سبب تو بعد میں بنے گا، پہلے تو وہ خود غدر و خیانت کا مجرم ہوکر عذاب جہنم کا مستحق بن جائے گا۔اس ممبری سے پہلے تو اس کی ذمہ داری صرف اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال ہی تک محدود تھی، اور اب کسی مجلس کی ممبری کے بعد جتنی خلق خدا کا تعلق اس مجلس سے وابستہ ہے، ان سب کی ذمہ داری کا بوجھ اس کی گردن پر آتا ہے ۔
ووٹ اور ووٹر:
کسی امیدوار ممبری کو ووٹ دینے کی ازروئے قرآن و حدیث چند حیثیتیں ہیں، ایک حیثیت شہادت کی ہے کہ ووٹر جس شخص کو اپنا ووٹ دے رہا ہے، اس کے متعلق اس کی شہادت دے رہا ہے کہ اس شخص میں اس کام کی قابلیت اور دیانت کی صفات ہیں اور ووٹر یہ جانتے ہوئے اس کو ووٹ دیتا ہے کہ ایسا نہیں تو وہ ایک جھوٹی شہادت ہے جو سخت کبیرہ گناہ اور وبال دنیا و آخرت ہے، صحیح بخاری کی حدیث میں رسول کریم نے شہادت کا ذبہ کو شرک کے ساتھ کبائر میں شمار فرمایا ہے، (مشکوٰة) اور ایک دوسری حدیث میں جھوٹی شہادت کو اکبر کبائر فرمایا ہے، (بخاری و مسلم)۔
اب ووٹ دینے والا اپنی آخرت اور انجام کو دیکھ کر ووٹ دے، محض رسمی مروت یا کسی طمع و خوف کی وجہ سے اپنے آپ کو اس وبال میں مبتلا نہ کرے۔ قرآن کریم کا یہ ارشاد ہر ووٹر کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ ترجمہ:جو شخص اچھی سفارش کرتا ہے، اس میں اس کو بھی حصہ ملتا ہے اور نااہل نالائق، فاسق ظالم کی بری سفارش کرتا ہے، تو اس کی برائی میں اس کا بھی حصہ لگتا ہے۔ ووٹ کی ایک تیسری شرعی حیثیت وکالت کی ہے کہ ووٹ دینے والا اس امیدوار کو اپنا نمائندہ اور وکیل بناتا ہے لیکن اگر یہ وکالت اس کے کسی شخصی حق کے متعلق ہو تی، اس کا نفع نقصان صرف اس کی ذات کو پہنچتا تو اس کا یہ خود ذمہ دار ہوتا، مگر یہاں ایسا نہیں کیونکہ یہ وکالت ایسے حقوق کے متعلق ہے جو پوری قوم کے ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ ہمارا ووٹ تین حیثیتیں رکھتا ہے، ایک شہادت دوسرے سفارش تیسرے حقوق مشترکہ میں وکالت، تینوں حیثیتوں میں جس طرح نیک، صالح، قابل آدمی کو ووٹ دینا موجب ثواب عظیم ہے اور اس کے ثمرات اس کو ملنے والے ہیں، اس طرح نااہل یا غیرمتدین شخص کو ووٹ دینا جھوٹی شہادت بھی ہے اور بری سفارش بھی اور ناجائز وکالت بھی اور اس کے تباہ کن ثمرات بھی اس کے نامہ اعمال میں لکھے جائیں گے۔
ضروری تنبیہ:
ووٹ دینا ثواب عظیم ہے بلکہ ایک فریضہ شرعی ہے، قرآن کریم نے جیسے جھوٹی شہادت کو حرام قرار دیا ہے، اسی طرح سچی شہادت کو واجب و لازم بھی فرمایا ہے۔ ارشاد باری ہے۔ترجمہ: ان دو آیتوں میں مسلمانوں پر فرض کیا گیا ہے کہ سچی شہادت سے جان نہ چرائیں، اللہ کیلئے ادائیگی شہادت کے واسطے کھڑے ہو جائیں۔ ایک آیت میں یہ ارشاد فرمایا کہ سچی شہادت کا چھپانا حرام اور گناہ ہے۔آج جو خرابیاں انتخابات میں پیش آرہی ہیں، ان کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ نیک صالح حضرات عموماً ووٹ دینے ہی سے گریز کرنے لگے جس کا لازمی نتیجہ وہ ہوا جو مشاہدہ میں آرہا ہے کہ ووٹ عموماً ان لوگوں کے آتے ہیں جو چند ٹکوں میں خرید لیے جاتے ہیں۔کسی حلقہ میں کوئی بھی امیدوار صحیح معنی میں قابل دیانت دار معلوم نہ ہو، مگر ان میں سے کوئی ایک صلاحیت کار اور خدا ترسی کے اصول پر دوسروں کی نسبت سے غنیمت ہو تو تقلیل شر اور تقلیل ظلم کی نیت سے اس کو بھی ووٹ دے دینا جائز بلکہ مستحسن ہے، جیسا کہ نجاست کے پورے ازالہ پر قدرت نہ ہونے کی صورت میں تقلیل نجاست کو اور پورے ظلم کو دفع کرنے کا اختیار نہ ہونے کی صورت میں تقلیل ظلم کو فقہاءرحمہم اللہ نے تجویز فرمایا ہے۔ واللہ سبحان و تعالیٰ اعلم
خلاصہ یہ ہے کہ:
انتخابات میں ووٹ کی شرعی حیثیت کم از کم ایک شہادت کی ہے جس کا چھپانا بھی حرام ہے اور اس میں جھوٹ بولنا بھی حرام، اس پر کوئی معاوضہ لینا بھی حرام، اس میں محض ایک سیاسی ہار جیت اور دنیا کا کھیل سمجھنا بڑی بھاری غلطی ہے، آپ جس امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں، شرعاً آپ اس کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ شخص اپنے نظریے اور علم و عمل اور دیانت داری کی رو سے اس کام کا اہل اور دوسرے امیدواروں سے بہتر ہے، جس کام کے لیے یہ انتخابات ہو رہے ہیں، اس حقیقت کو سامنے رکھیں کہ آپ کے ووٹ اور شہادت کے ذریعہ جو نمائندگی سکسی اسمبلی میں پہنچے گا، وہ اس سلسلے میں جتنے اچھے یا برے اقدامات کرے گا، ان کی ذمہ داری آپ پر بھی عائد ہوگی، آپ بھی اس کے ثواب یا عذاب میں شریک ہوں گے۔"
malikanasawan11@gmail.com
بھارت کو 15 ہزار نئے شہری کیسے ملے؟
1 comments
گواہی
0
comments
تلاش جاری ہے
0
comments
وہ کبھی اپنی گود میں پڑے ہوئے افسانے کے کسی کردار میں خود کو ڈھونڈتا اور کبھی کاغذ پہ لکھے ہوئے بے ربط الفاظ میں اپنے خدوخال دریافت کرنے کی کوشش کرتا مگر بے سود کسی تحریر کسی مطلع کسی مصرعے میں بھی وہ موجود نہیں ہے۔
کیونکہ وہ تو ابھی کہیں لکھا ،کہیں سمجھا ہی نہیں گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔!
اور تلاش اب تک جاری ہے۔
تحریر
ملک انس اعوان
کیسی عید؟
2
comments
عجیب بات ہے کہ مجھے ایسے خوشی کے موقعوں پر ایسی کیفیت کیوں طاری ہو جاتی ہے۔اور جب یہ غصہ کہیں نہیں نکتا تو لکھنے بیٹھ جاتا ہوں اور بس لکھتا ہی چلا جاتا ہوں یا کوئی اچھی سی کتاب سینے سے لگا کر بیٹھ جاتا ہوں صرف اسی لیے کہ
کتابیں ہمیشہ ایک سی رہتی ہیں کتنے ہی سال گزر جائیں کتنے ہی حالات بدل جائیں یہ کبھی دھوکہ نہیں دیتیں جتنا وقت ان سے چاہو یہ دے دیتی ہیں ۔اب تو فقط یہی میری دوست ہیں اور میری ہم راز بھی۔
تحریر
ملک انس اعوان
![]() |
| http://trendyvivo.com/ |
نا مکمل
0
comments
ہمارے علماء کی ناکامی
1 comments
ہنگامہ ِوضو
0
comments
پہلا روزہ
5
comments
68 سال کا بوڑھا
1 comments






















