تصور جاناں

0 comments
کبھی کبھار دل کے ویران سے کونے سے آواز آتی ہے کہ میاں اٹھو اور اس جسم کے پردے کو زرا سا کھِسکا کر اپنے اندر چلے آؤ اور اپنے آپ سے ملاقات کرو اوراس کا دکھ سمجھو۔ پہلے تو ہم نے پڑھ رکھا کہ اگر خود سے ملاقات مقصود ہو تو تنہائی اور فرصت درکار ہے،چناچہ دونوں کا اہتمام  کچھ اس طرح کیا گیا کہ
"بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے"
مگر اس گھنٹوں تصور جاناں کے بعد بھی جاناں نے پردے سے باہر آنے سے انکار کر دیا سو ہم اپنا سا منہ لے کر بیٹھ گئے اور پھر سے وہی معمولات زندگی میں کھو گئے جہاں ہم اپنے سے زیادہ دوسروں کے لئے جیتے ہیں ۔اسی دوران ایک محفل میں ذہن میں دھماکہ سا ہوا اور چاروں جانب کی آوازیں مدھم سی ہو گئیں اور منظر قدرے دھندلے ہونے لگے زرا سا غور کرنے پر پتا چلا کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے یہ درصل میں ہی تھا جو آج میرے سامنے آ کھڑا تھا۔میں نے آنے آپ کولوگوں کی آنکھوں میں تیرتا اور اور لوگوں کی زبانوں سے پھسلتا ہوا پایا ،کہیں میرا قد کئی گز لمبا اورکہیں میں محض چند انگلیوں کے برابر تھا کہیں میں نے خود کو بلند ہمت اور کہیں حالات سے ڈرا ہوا ،سہما ہوا پایا ،کہیں میری شکل خوشنما تھی اور کہیں میری ہیت یکسر بگڑ چکی تھی ، میں نے اس سب کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور مارے ڈر کے اپنی آنکھیں موند لیں ۔ کچھ دیر بعد وہی دنیا کا ہنگامہ بلند ہونے لگا اورمنظر بھی روشنیوں اور قہقہوں میں ڈھل گیا۔ آنکھ کھولی تو سامنے وہی معمول کی زندگی تھی ، وہی لوگ تھے ،وہی زمین تھی ،وہی چہل پہل اور رنگ تھے مگر دل کو قرار سا مل گیا تھا گویا مین نے اسم اعظم پا لیا ہو۔جلدی ہی اس محفل کو چھوڑا اور اپنے کمرے میں بیٹھا تو اس اسم اعظم کو کھولا تو پتہ چلا کہ اس دنیا میں خود سے ملاقات کرنے کا اک ہی طریقہ ہے کہ اپنے بارے میں وہی گمان کیا جائے ،بالکل ایسا ہی سوچا جائے اور بالکل ایساہی گمان کیا جائے جو ہم دوسروں کے لئے کرتے ہیں ۔وہی سوال خود ے کیے جائیں جو ہم دوسروں سے پوچھنا چاہتے ہیں ۔اور پھر خود ہی ان سب سولات کے جوابات خود کو دیں اور دیکھیں کہ اب ہمارا قد کتنا ہے ، ہمارا رنگ کیسا ہے ، ہماری ہیت کس قدر بدلی ہے اور کیا ہم میں اور دوسروں میں کچھ فرق باقی رہا یا نہیں ۔

تحریر:
ملک انس اعوان 



در آستاں

0 comments

یوں کہ ذکر خیر کی صورت
کتنے پہلو بچائے جا رہے ہوں گے
دیکھ دیکھ ایک دوسرے کی جانب
اور چہرے چھپائے جا رہے ہوں گے
تیرے شہر میں وہی سی رونقیں ہوں گی
ہم در آستاں سے لے جائے جا رہے ہوں گے


----
ملک انس اعوان


ضد

0 comments
میں اپنی آنکھیں نکال دوں گا 
نہ اپنا رستہ  کسی کو دوں گا
ہجر کی سولی پہ جان دوں گا 
نہ  زاد وصال کسی کو دوں گا
جو عشق مانگے جناب حاظر 
نہ میں پلٹ کر سوال دوں گا 
تیرے ہی لہجے میں ایک دن میں
ہاں تیرے لہجے کو مات دوں گا
اگر میری ضد کو نہ میرے دل میں
نہ میرے دل نے جگہ دی تو
تو اپنے ہاتھوں سے اپنے دل کو 
خدا قسم ہے کہ کاٹ دوں گا 
ابھی  تخیل کی انجمن میں 
ہزار منظر بھٹک رہے ہیں
مگر ایک منظر کی جستجو میں 
ہزار منظر اجاڑ دوں گا


ملک انس اعوان 


--

بے خوابی

0 comments
لذت ہجر میں ہے ساعت جاں بے خوابی
خواہش وصل حقیقت میں گماں بے خوابی
ائےاجل رک تو سہی ہم بھی تھے مکین بہشت
میرےواسطے وسعت ارض وسماں بے خوابی
طلبِ لامکاں ہے تجھے اور فکر مکاں بھی ساتھ 
کاٹ کر پھینک دے کافر زباں بے خوابی
یقین کامل ہو کمال دست دوستاں پہ مگر
یقیں شکن ہے مزاج جہان بے خوابی


----
ملک انس اعوان



ایک اور پاگل

0 comments
بات کچھ اس طرح سے ہے کہ ہمارے زیر استعمال ایک عدد رہائشی مکان نما دکان  جسے بطور دفتر استعمال کیا جا رہا تھا اس کا  بجلی کا میٹر  محکمہ برقیات کا عملہ بروقت میزان  ادا نہ کرنے کی بنیاد پر اتار کر لے گئے۔ اب جب ہمیں اس کا علم ہوا تو پہلے تو ہم نے دل میں ٹھان لی بس آج ہی اس میٹر کو بازیاب کروا کر لگوا دیا جائے گا مگر وہ "آج" آتے آتے 2 ہفتے بیت گئے آخر کار ایک مہربان نے خود ہی زحمت کی اور ہمیں متعلقہ محکمے میں لے گئے ، ان دنوں محکمے کی نجکاری کا شور اٹھ رہا تھا اس لئے محکمے کے تمام عملہ جلد از جلد پرانے کھاتوں کی درستی کے عمل میں مصروف تھا اسی بہانے ،ادھر اُدھر سے دستخط سبط کروانے اور فائل آگے  پہنچانے میں معمول سے زیادہ وقت صرف ہوا۔ 
پھر ہمیں ایک دفتر سے دوسرے فائل تھما کر بھیج دیا گیا ۔جیسے ہی دوسرے دفتر پہنچے سب سے پہلے والےکمرے میں چلے گئے جہاں "کمرہ برائے شکایات" کندہ تھا۔ دفتر میں ایک درمیانے قد اور پتلے جسم کے حامل صاحب اپنی کرسی پر نیم دراز حالت میں بیٹھے ہوئے تھے اور میز پر ایک عدد سفید کاغذ پر کچھ اشکال کو تخلیق کر رہے تھے۔ ہم بجائے اپنے کام کے انکے فن پارے کو دیکھنے لگے اور انکے قریب پڑی کرسی پہ جا بیٹھے اور سانس بھر کر سلام پیش کیا۔ان صاحب نے عینک کے پیچھے موجود آنکھوں کو حرکت دی اور میری جانب دیکھتے ہوئے شائستگی سے سلام کا جواب دیا ،اس شائستگی کے سامنے مجھے اپنےسلام پیش کرنے کے انداز پر ندامت ہوئی لیکن فوراً گفتگو کا آغاز کرنے کی غرض سے سوال کر دیا کہ جناب کیا شاہکار بنا رہے ہیں ؟
وہ صاحب عینک  میز پر رکھتے ہوئے اور قلم کو کاغذ پر نفاست سے رکھتے ہوئے فرمانے لگے کہ بیٹا میں احساسات میں ہنسوں کو ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہوں ،لیکن ایسا ممکن نہیں ہو پا رہا ،ہمیشہ ہندسے احساسات پر سبقت لے جاتے ہیں ۔
اس کے بعد ان صاحب نے جو گفتگو کی وہ میرے لیے حیرت کا باعث تھی کہ اس محکمے میں کہ جس کو عوام ہر بار بجلی آنے اور جانے کی صورت میں متفرق اقسام کی گالیوں سے نوازتی رہتی ہے اسی محکمے میں ایک ایسا انسان بھی موجود ہے کہ جو اس محکمے کے لاکھوں صارفین سے زیادہ حساس اور درد دل رکھنے والا ہے۔ ان صاحب سے قریباً 20 منٹ گفتگو رہی لیکن میرےساتھ موجود دوست کا اصرار تھا کہ اب یہاں سے چلا جائے ، اسی لئے جلد از جلد ان سے اجازت لی اور واپسی کی راہ پکڑی اور خلاف آداب محفل کے اختتام میں ان صاحب کا نام دریافت کیا تو انہوں نے خندہ پیشانی سے اپنا اسم گرامی"تنویر" بتایا۔واپسی پر میرے ساتھ آئے ہوائے دوست فرمانے لگے کہ کیا پاگل آدمی تھا،تو میں زیر لب مسکرا دیا اور ان سے کہا کہ حضور اس دنیا میں پاگل اتنے زیادہ ہو گئے ہیں کہ اگر ان میں کہیں کوئی درد دل رکھنے والا انسان مل بھی جائے تو حالات کی  ستم ظریفی  اس بیچارے کو پاگل قرار دے دیتی ہے کیونکہ " پاگل کبھی خود کو پاگل نہیں کہتے"۔

بقلم : ملک انس اعوان 



میں عشق کی نماز ہوں

1 comments
میں عشق کی نماز ہوں ،میں خود ہی اک جہان ہوں
جہاں کا رازدان ہوں ،میں عشق کی نماز ہوں
سمجھ سے بالا تر ہوں میں کہ اک فقط دیہان ہوں
جہان سے قریب تر الگ تھلگ جہان ہوں
جہان میری گود میں ، جہا ں کے درمیان ہوں
دلوں کا میں مکین اور مکین لا مکان ہوں
میں منتقی کی سوچ ہوں ،کلیم کا بیان ہوں
لوح وقلم کا لفظ ہوں اور لفظ کی زبان ہوں
میں صرف ممتحن نہیں کہ خود ہی امتحان ہوں
میں انتہا ہوں سوچ کی، الست کی آواز ہوں
منزل ہوں میں پیار کی،محبتوں کا باب ہوں
کلی کلی کا روپ ہوں ،میں گل کا بھی شباب ہوں
میں ہر رنگ کا ناز ہوں ،میں خوشبوئے گلاب ہوں
قدم قدم کریم ہوں ---------،قدم قدم عتاب ہوں
میں حمد ہوں حمید ہوں ،ودود ہوں وھاب ہوں
ازل کامحتسب بیاں ابد کا احتساب ہوں
سنو اگر سوال ہوں ، سمجھ سکو جواب ہوں
میں غرضِ عرض مند کی سنے تو بے نیازہوں
میں عشق کی نماز ہوں ،میں عشق کی نماز ہوں
کہیں کہیں قیاس ہوں ،کہیں کہیں خیال ہوں
نہ کوئی میری مثال ہے نہ کسی کی میں مثال ہوں
نشیب ہوں فراز ہوں ،عروج ہوں زوال ہوں
ہر ادا ادا ئے دلبری ،جمال پرُ جلال ہوں
میں رنگ روپ راگ ہوں ،میں سوز ساز تال ہوں
میں ہر کسی سےدورہوں ، میں ہر کے ساتھ ہوں
میں نہیں محتاج وقت کا، ہمیش کا جواز ہوں
میں عشق کی نماز ہوں ،میں عشق کی نماز ہوں
معشوق بن کے عاشقوں سے وطن انکا چھڑا دیا
چھرُی کی تیز دھار تلے نبی کو بھی سلا دیا
پوچھا کہ کون خلیل ہے؟ پھر آگ میں بٹھا دیا
مسیح جیسے عظیم کو دار تک پہنچا دیا
ان محبتوں نے تو ظفر کو بھی جھکا دیا
جنونِ پُر سکون ہوں ،غرور ہوں غماز ہوں
میں عشق کی نماز ہوں ،میں عشق کی نماز ہوں

سرائیکی شاعری : ظفر جتوئی
اردو ترجمہ : انس اعوان





سبقت

0 comments

یہ شاعری تو فقط الفاظ کی تُک بندی ہے
کہیں قافیہ و ردیف کی پا بندی ہے
میں جو کہتا ہوں کہہ نہیں پاتا
میں جو سنتا ہوں سہہ نہیں پاتا
دامن دل دلچسپیوں سے عاری ہے
پہلا دم پچھلے دم پہ بھاری ہے
خوف یہ ہے کہ کوئی  سن لے گا
گیت اپنے سے کوئی  گُن لے گا
شام ڈھلی تو شام کی چھاؤں
گھنے پیڑ تلے پھیلا کے پاؤں
موضوع  کوئی تلخ سا چن لے گا
کوئی مجھسے پہلے تارے گن لے گا

ملک انس اعوان

اللہ سے تعلق

0 comments
کبھی کبھی میں اپنی زات کو ہوا میں معلق پاتا ہوں اور کبھی کبھی اس چند ماہ کے بچے کی طرح جو اپنی ماں کے قرب کو حاصل کرنے کی کوشش میں اپنے کمزور اعضاء پر زور ڈال کر کھڑا ہو کر اپنی ماں کی جانب جانا چاہتا ہے.اور اسی دوران جب اسکی ماں اسے ایسا کرتے ہوئے دیکھتی ہے تو اس کے ننھے منے ہاتھوں میں اپنی انگلی تھما دیتی ہے جسے وہ بچہ مضبوطی سے پکڑ لیتا ہے، اور ماں اور بچے کے درمیان فاصلہ کم ہوتا چلا جاتا ہے، لیکن دوسرے ہی لمحے کوئی غلطی سر زد ہونے کی صورت میں گر جاتا ہے. وہ پھر بھی اپنے ہاتھوں سے ماں کی انگلی تھامے رکھتا ہے اور دوسری کوشش میں جُٹ جاتا ہے اسی طرح دوسری، تیسری اور ایسی ہی لا تعداد کوششیں کرتا چلا جاتا ہے. ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ماں اس کو اٹھا کر اپنی آغوش میں لے لیتی ہے. یہ تو تھی ایک ماں اور ایک وہ رب بھی تو ہے جو اپنے بندے سے 70 ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے. تو پھر غلطی کیجیئے مگر اپنے ہاتھوں سے اللہ کی رسی کو مت جانے دیجیے لپک کر تھام لیجیے، وہاں تک جہاں تک دم  قائم ہے. اور ہر بار گناہ کے باعث گرنے کے بعد فلاح کی جانب پیش قدمی بڑھا دیجیے.واصف علی واصف ایک جگہ فرماتے ہیں کہ روشنی کی تلاش میں مارا جانے والا پروانہ اور روشنی کو پا کر مر جانے والا پروانہ دونوں کامیاب ہیں. کیونکہ انکا مقصد روشنی تھا.
کیونکہ اللہ سے تعلق کوئی Physical Structure  (مادی ہیت) نہیں رکھتا تو اس کی مادی ہیت دراصل عبادات اور اس سے کہیں  زیادہ بڑھ کر معاملات اور معاشرت میں پنہاں ہے.لیکن پھر اس کے بعد یہ بات نہایت اہم ہے کہ وہ رب جو اپنی مخلوق سے ستر ماؤں سے زیادہ الفت رکھتا ہے اس کی مخلوق میں صرف آپ ہی نہیں بلکہ دوسرے تمام افراد بھی موجود ہیں جن پر آپکے اثرات واسطہ یا بلاواسطہ طور پر پڑتے ہیں. اب جس قدر محبت ہو گی اسی قدر اس کا حساب بھی لیا جائے گا،چناچہ رب العالمین نےاسی لیے حقوق العباد صرف اسی صورت میں معاف کیے ہیں جب تک کہ متعلقہ فرد بذات خود اس شخص کو معاف نہ کردے،. کیونکہ
میرے اللہ کو اس کی ساری مخلوق  محبوب ہے.
اور اس کی رحمت بھی لا محدود ہے.
اور وہ ہر جگہ موجود ہے.....
تحریر
انس اعوان

اچھا لگتا تھا

0 comments
پہلے پہل  دریا کی موجیں
لہریں وہریں اور ساحل سب
بانکپن کی نوخیز نظر کو
سب کچھ اچھا لگتا تھا
سو شام ڈھلے سورج کی کرنیں
جب تھک کر پانی میں جاتیں
سو بیچ افق پھیلی ہوئی سرخی
سب کچھ اچھا لگتا تھا
جب زرد خزاں کے آنگن میں
سب پتے پیلے پڑتے تھے
سو انکا پانی میں گرنا
سب کچھ اچھا لگتا تھا
تب کاغذ کی کشتی پر
ارمان بہائے جاتے تھے
سو ہم بہلائے جاتے تھے
سب کچھ اچھا لگتا تھا
جب صبح پراٹھوں کی جوشبو
آتی تھی ماں کے ہاتھوں سے
جو بستر تلک آجاتی تھی
سب کچھ اچھا لگتا تھا
جب نصف شب کے آنگن میں 
وہ چندا بادل کے پیچھے سے
ہنس کر باتیں کرتا تھا
سب کچھاچھا لگتا تھا

انس اعوان

نصیحت

0 comments
نصیحت


نصیحت جھاڑنے والے یہ عادت چھوڑ کر آجا
کہیں نہ دیر ہو جائے سعادت چھوڑ کر آجا
ارےرکتا نہیں میں بھی زمانہ بھی تو شاہد ہے
میرے جو ساتھ چلنا ہے تکلف چھوڑ کر آجا
وہیں چل پھر جہاں تو بھی مقدر  کے سہارے ہو
یہ رستے کِس نے دیکھے ہیں تردد چھوڑ کر آجا
مریض دل گرفتہ کو جو دیکھو راستہ بدلو
ارے جاں سے بھی جائے تو عیادت چھوڑ کر آجا
جہان بے سکوں کا جو بھی  رہا مدعا رہا اکثر
بلا سے بھاڑ میں جائے  وکالت چھوڑ کر آجا
اگر ہے ذوق پھولوں کا تو جھکنا سیکھ لے ورنہ
اُسی شیشے کی دوکاں میں نذاکت چھوڑ کر آجا

ملک انس اعوان 

www.razaqvance.com

تم اگر پوچھ ہی لیتے

0 comments

تم نے پوچھا ہی نہیں
تم اگر پوچھ ہی لیتے
پوچھ لینے سے کیا جاتا
خیر اگر پوچھ بھی لیتے
ہم بتاتے بھی کیا کہ
وہی حالات و ماہ و سال پہلے سے
وہی گردش دوراں کے چکر
وہی گرد میں لپٹا ہوے لوگ
وہی تھک کر ٹوٹے  ہوئے در و دیوار
اور وہاں لٹکے ہوئے آہنی تالے
سر جھکائے جن گلیوں سے گزرتے ہیں
ہم دیکھتے ہیں نادان بچوں کو
جو بہتی نالیوں کے ساتھ چلتے ہیں
جہاں سے روشنی چھن کر برستی ہے
کسی دوکاں  کے سامنے آ دھمکتے ہیں
جیب سے چند سکوں کی دولت اچھال کر دیکھتے ہیں
انکی آنکھوں کی حسرت ہاتھ میں پکڑے ہوئے پیسوں سے
یوں لگتا ہے جیسے مِیل کھاتی ہے
سمجھتے ہیں کہ وہ ان پیسوں سے
بھری دوکان سے خوشیاں خرید سکتے ہیں
کتنے نادان ہیں اور ان کے ساتھ
میں بھی اس خواب سے نکل آتا ہوں
(ملک انس اعوان)

ڈائری کا ایک ورق 2

0 comments
کتنا غیر معمولی لگتا ہے جب آپ کسی رنگ کو غور سے دیکھیں اور اس میں تہہ در تہہ سینکڑوں مزید رنگ ابھر آئیں اسی طرح  بات سے بات چل نکلے اور دور تلک کئی  اور باتوں،معانی و مفہومات میں ڈھل    جائے، یا اس آواز کی طرح جو سینکڑوں کتابوں کےخمیر سے اٹھ کر فضا کے اندر تحلیل ہو جائے یا کسی پیاس زرہ صحرا میں ابر کرم کی طرح برس پڑے اور جس کے نتیجے میں ہر سو شعور کا سبزہ سر اٹھانے لگے تو اگر آپ یہ سب محسوس کر سکتے ہیں تو صرف اسی وجہ سے کہ ایسا حقیقت میں ہو رہا ہوتا ہے. یہ دلکشی، خوبصورتی، رعنائی صرف ہمارے خام ذہن کی فضول پیداوار یا محض ایک مفروضہ نہیں ہے کہ جس کو بے بنیاد سمجھا جائے.کیونکہ کچھ بھی بے بنیاد نہیں ہوتا ہے، "کچھ" کاکچھ نہ کچھ  مطلب ضرور ہوتا ہے. یہ خیال یہ وہم یوں ہی تو نہیں پیدا ہوتے ہیں ان کا بھی تو کوئی ماخذ ہوتا ہے آخر یہ بھی تو کسی سے ماخوذ ہوتے ہیں. کہیں نہ کہیں تو کسی کے تار کسی سے ضرور جا ملتے ہوں گے وہ جو کچھ ہم محسوس کر رہے ہوتے ہیں وہ غیر محسوس کن طریقے سے عمل پذیر ہو رہا ہوتا ہے. سید سجاد کا وہ جملہ کہ "try to see the things from an different angle" آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ یاد ہے. جس کی بدولت جب کسی منظر کے ایک رخ سے دل بھر جائے تو دوسرے رخ سے دیکھنا شروع کر دینا چاہیے. اس کا ایک مفید استعمال یہ ہے کہ اس سے اپنی برداشت کو مزید طاقت ور بنائیں. زندگی میں آنے والی ہر پسندیدہ و ناپسندیدہ تبدیلی کو کھلے دل سے قبول کیجئے اس میں تہہ در تہہ چھپے ہوئے رنگوں اور مفاہیم کو تلاش کیجئے ، جہاں دل اکتانے لگے اپنی جگہ تبدیل کر لیجیے لیکن آپ کا مرکز وہی ہو جو پہلے سے موجود ہے.یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کتاب پڑھنے کا ارادہ کر کے بیٹھے ہوں اور کتاب آپ کے ہاتھ میں موجود ہو تو کسی بھی صفحے سے پڑھنا شروع کر دیجئے ایک یا دو صفحات پڑھنے کے بعد آپ کی اس کتاب کے حوالے سے دلچسپی بڑھتی جائے گی اور آپ اس کتاب کو پڑھ سکیں گے.یہی ایک دلچسپی ہے جو لوگوں کو آپ سے جوڑے رکھتی ہے. یہی دلچسپی قائم رہنی چاہیے اور اسکے قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر غیر معمولی شے میں دلچسپی لی جائے.لیکن اس حد تک کہ آپ اس دوران اپنے وجود ،اپنے مفادات اور اپنی ترجیحات جن کو آپ پس پشت نہ ڈال سکیں انکا بھرپور طریقے سے دفاع کر سکیں ۔

ملک انس اعوان 



بیمار بھینس

1 comments
شدید گرمی اور حبس کے دن تھے۔میرے نانا محترم سکھ چین کی قدرے ٹھنڈی چھاؤں میں کھالے( نہری پانی تقسیم کرنے کے لیے بنائے گئے رستے) کے اوپر چارپائی ڈالے آرام فرما رہے تھے۔ ان کے دونوں جانب 3 اور چارپائیاں بھی پڑی ہوئی تھیں جس میں سے ایک پر میں بیٹھا ہوا تھا اور ان کے سامنے والی چارپائی پر گاؤں کا ایک سادہ لوح آدمی بیٹھا ہوا تھا جو اس سال اجناس کے بڑھتے ہوئے دام اور مہنگائی پر تشویش کا اظہار کر رہا تھا ۔اتنے میں ایک اور زرا پکی عمرکا آدمی آیا اور میرے ساتھ آ کر بیٹھ گیا ۔ حقے کے کش لگاتے ہوئے وہ قدرے پریشان لگ رہا تھا۔ پہلے سے موجود آدمی نے اس سے پوچھا کہ سنا ہے کہ تمہاری بھینس بیمار ہے ، اب اس کا کیا حال ہے جب ٹھیک تھی تو بہت دودھ پیدا کیا کرتی تھی؟
اس آدمی نے حقے کی نالی حقے میں ٹکائی اور میرے نانا سے مخاطب ہو کر کہنے لگا  کہ "عبدالغنی صاحب میں نے پہلے تو دوا دارو کیا لیکن بھینس کو کچھ فرق نہ پڑا آخر تنگ آ کر میں نے اسکا علاج کروانا بند کر دیا ہے۔اگر قسمت میں ہوئی تو خود ہی ٹھیک ہو جائے گی۔
یہ سن کر نانا محترم زرا  سامسکرائے اور کہنے لگے کہ میاں اگر تمہیں شدید پیاس لگی ہو اور تمہارے سامنے ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس پڑا ہوا ہو ۔
اور تم اس گلاس کے سامنے ہاتھ باندھ کر بیٹھے رہو کہ اگر قسمت میں ہوا تو یہ پانی میں پی لوں گا تو تا دم آخر یہ پانی تمہیں نصیب نہیں ہو گا ۔لیکن اگر ہاتھ بڑھاؤ گے اورکوشش کرو گے تو یہ  پانی پی سکو گے۔
یہ بات یاد کر کے مجھے اس آدمی کی شکل میں پاکستانی قوم کا چہرہ نظر آ نے لگا جو سارا سال حکمرانوں کو روتے رہتے ہیں اور شکوہ کرتے نہیں تھکتے اور  مساجد میں ہر جمعے یہی دعائیں مانگ رہے ہوتے ہیں کہ ائے اللہ پاکستان کو ایک صالح حکمران عطا فرما تمام حالات کو اپنے فضل و کرم سے درست فرما دے۔۔۔۔!
لیکن اس اللہ نے قرآن میں کھول کھول کر اسکا جواب بھی لکھ دیا کہ
وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَى
اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے
(سورۃ النجم آیت 39)
کیا اس کے بعد بھی ہمارے لئے نماز روزہ کر کے گھرو ں میں بیٹھے رہنے کی گنجائیش باقی رہ جاتی ہے۔۔۔!

تحریر
ملک انس اعوان 



Photo Credits:Razq Vance

مولانا طارق جمیل اور مولانا الیاس قادری سے ایک سوال

3 comments
مجھ جیسے کند ذہن ، کم ایمان و تقوی والے ایک یونیورسٹی کے طالب علم کے ذہن میں اکثر یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر کوئی انسان ساری زندگی با جماعت نماز ادا کرے،زکوۃ ادا کرے ،تہجد پڑھے، روزے رکھے الغرض تمام عبادات کو احسن طریقے سے ادا کرے اور اس کے بعدزندگی میں ہر پانچ سال بعد الیکشن میں ایک بد کردار ،بد دیانت ،بد فعل انسان کو ایک نیلی مہر کے ذریعے مسلمانوں پر حکمران منتخب کرے جس کے نتیجے میں ایک ایسی حکومت کا قیام عمل میں لائے جو پھر حدود اللہ میں ترمیم کرے ، اسلامی روایات کو نقصان پہنچائے اور بلآخر ایک ایسا ماحول فراہم کرے جہاں اسلام پر عمل پیرا رہنا قریباً نا ممکن ٹھہر جائے تو اس صورت میں وہ تمام عبادات(حقوق اللہ) ،نماز،روزے اور ان گنت حج کیا اس ایک نیلی مہر(حقوق العباد) کا کفارہ ادا کر سکتے ہیں ؟
آپ دین کو سیاست سے کس طرح علیحدہ کر سکتے ہیں اگر کر سکتے ہیں تو مجھے بھی کچھ ایسا وعظ کیجئے کہ میں بھی اس فتنے سے بچ سکوں ۔۔۔ وگرنہ ایک بات ذہن نشیں رکھیے کہ اللہ قیامت کے روز انسان سے اس کے اختیار کے برابر ہی سوال کرے گا،بس یہی بات مجھے سکون سے بیٹھنے نہیں دیتی۔۔ برائے مہربانی راہنمائی فرما دیجئے۔۔۔۔۔۔!
اب اس جدید راہبانیت کا کچھ تو سر پاؤں ہو گا۔

اب زرا  مولانا مفتی محمد شفیع ؒ کا بیان بھی سن لیجئے۔

" حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ
مفتی اعظم پاکستان، بانی جامعہ درالعلوم کراچی حضرت مولانا مفتی محمد شفیع نے عمیق فکر پر مبنی درج ذیل تحریر تقریباً پچاس سال پہلے لکھی تھی۔ موجودہ ملکی حالات کے پیش نظر اس فکر کی آج جب پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت اور اہمیت ہے اس بصیرت افروز تحریر کو خلفشار، معاشی بدحالی، بدامنی اور لاقانونیت کے دور میںہونے والے عام انتخابات میں رہنمائی کا صائب ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے ۔مولائے کریم ملکی عوام کو درست فیصلے کی توفیق عطا فرمائے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آج کی دنیا میں اسمبلیوں، کونسلوں، میونسپل وارڈوں اور مجالس اور جماعتوں کے انتخابات میں جمہوریت کے نام پر جو کھیل کھیلا جارہا ہے کہ زور و زر اور غنڈہ گردی کے سارے طاغوتی وسائل کا استعمال کرکے یہ چند روزہ موہوم اعزاز حاصل کیا جاتا ہے اور اس کے عالم سوز نتائج ہر وقت آنکھوں کے سامنے ہیں اور ملک و ملت کے ہمدرد و سمجھدار انسان اپنے مقدور بھر اس کی اصلاح کی فکر میں بھی ہیں لیکن عام طور پر اس کو ایک ہار جیت کا کھیل اور خالص دنیاوی دھندہ سمجھ کر ووٹ لیے اور دیئے جاتے ہیں، لکھے پڑھے دیندار مسلمانوں کو بھی اس طرف توجہ نہیں ہوتی کہ یہ کھیل صرف ہماری دنیا کی نفع نقصان اور آبادی یا بربادی تک نہیں رہتا بلکہ اس کے پیچھے کچھ طاعت و معصیت اور گناہ و ثواب بھی ہے، جس کے اثرات اس دنیا کے بعد بھی یا ہمارے گلے کا ہار عذاب جہنم بنیں گے۔
 اس حالت میں ان کے سامنے قرآن و حدیث کے احکام پیش کرنا ایک بے معنی و عبث فعل معلوم ہوتا ہے لیکن اسلام کا ایک یہ بھی معجزہ ہے کہ مسلمانوں کی پوری جماعت کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہوتی، ہر زمانہ اور ہر جگہ کچھ لوگ حق پرست اپنے ہر کام میں حلال و حرام کی فکر کو پیش نظر ضرور رکھتے ہیں۔
اُمیدواری:
کسی مجلس کی ممبری کے انتخابات کے لیے جو امیدوار کی حیثیت سے کھڑا ہو، وہ گویا پوری ملت کے سامنے دو چیزوں کا مدعی ہے، ایک یہ کہ وہ اس کام کی قابلیت رکھتا ہے جس کا امیدوار ہے، دوسرے یہ کہ وہ دیانت و امانت داری سے اس کام کو انجام دے گا، اب اگر واقع میں وہ اپنے اس دعویٰ میں سچا ہے یعنی قابلیت بھی رکھتا ہے اور امانت و دیانت کے ساتھ قوم کی خدمت کے جذبہ سے اس میدان میں آیا تو اس کا یہ عمل کسی حد تک درست ہے اور بہتر طریق اس کا یہ ہے کہ کوئی شخص خود مدعی بن کر کھڑا نہ ہو بلکہ مسلمانوں کی کوئی جماعت اس کو اس کام کا اہل سمجھ کر نامزد کردے اور جس شخص میں اس کام کی صلاحیت ہی نہیں وہ اگر امیدوار ہو کر کھڑا ہو تو قوم کا غدار اور خائن ہے، اس کا ممبری میں کامیاب ہونا ملک و ملت کے لیے خرابی کا سبب تو بعد میں بنے گا، پہلے تو وہ خود غدر و خیانت کا مجرم ہوکر عذاب جہنم کا مستحق بن جائے گا۔اس ممبری سے پہلے تو اس کی ذمہ داری صرف اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال ہی تک محدود تھی، اور اب کسی مجلس کی ممبری کے بعد جتنی خلق خدا کا تعلق اس مجلس سے وابستہ ہے، ان سب کی ذمہ داری کا بوجھ اس کی گردن پر آتا ہے ۔
ووٹ اور ووٹر:
کسی امیدوار ممبری کو ووٹ دینے کی ازروئے قرآن و حدیث چند حیثیتیں ہیں، ایک حیثیت شہادت کی ہے کہ ووٹر جس شخص کو اپنا ووٹ دے رہا ہے، اس کے متعلق اس کی شہادت دے رہا ہے کہ اس شخص میں اس کام کی قابلیت اور دیانت کی صفات ہیں اور ووٹر یہ جانتے ہوئے اس کو ووٹ دیتا ہے کہ ایسا نہیں تو وہ ایک جھوٹی شہادت ہے جو سخت کبیرہ گناہ اور وبال دنیا و آخرت ہے، صحیح بخاری کی حدیث میں رسول کریم نے شہادت کا ذبہ کو شرک کے ساتھ کبائر میں شمار فرمایا ہے، (مشکوٰة) اور ایک دوسری حدیث میں جھوٹی شہادت کو اکبر کبائر فرمایا ہے، (بخاری و مسلم)۔
اب ووٹ دینے والا اپنی آخرت اور انجام کو دیکھ کر ووٹ دے، محض رسمی مروت یا کسی طمع و خوف کی وجہ سے اپنے آپ کو اس وبال میں مبتلا نہ کرے۔ قرآن کریم کا یہ ارشاد ہر ووٹر کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ ترجمہ:جو شخص اچھی سفارش کرتا ہے، اس میں اس کو بھی حصہ ملتا ہے اور نااہل نالائق، فاسق ظالم کی بری سفارش کرتا ہے، تو اس کی برائی میں اس کا بھی حصہ لگتا ہے۔ ووٹ کی ایک تیسری شرعی حیثیت وکالت کی ہے کہ ووٹ دینے والا اس امیدوار کو اپنا نمائندہ اور وکیل بناتا ہے لیکن اگر یہ وکالت اس کے کسی شخصی حق کے متعلق ہو تی، اس کا نفع نقصان صرف اس کی ذات کو پہنچتا تو اس کا یہ خود ذمہ دار ہوتا، مگر یہاں ایسا نہیں کیونکہ یہ وکالت ایسے حقوق کے متعلق ہے جو پوری قوم کے ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ ہمارا ووٹ تین حیثیتیں رکھتا ہے، ایک شہادت دوسرے سفارش تیسرے حقوق مشترکہ میں وکالت، تینوں حیثیتوں میں جس طرح نیک، صالح، قابل آدمی کو ووٹ دینا موجب ثواب عظیم ہے اور اس کے ثمرات اس کو ملنے والے ہیں، اس طرح نااہل یا غیرمتدین شخص کو ووٹ دینا جھوٹی شہادت بھی ہے اور بری سفارش بھی اور ناجائز وکالت بھی اور اس کے تباہ کن ثمرات بھی اس کے نامہ اعمال میں لکھے جائیں گے۔
ضروری تنبیہ:
 ووٹ دینا ثواب عظیم ہے بلکہ ایک فریضہ شرعی ہے، قرآن کریم نے جیسے جھوٹی شہادت کو حرام قرار دیا ہے، اسی طرح سچی شہادت کو واجب و لازم بھی فرمایا ہے۔ ارشاد باری ہے۔ترجمہ: ان دو آیتوں میں مسلمانوں پر فرض کیا گیا ہے کہ سچی شہادت سے جان نہ چرائیں، اللہ کیلئے ادائیگی شہادت کے واسطے کھڑے ہو جائیں۔ ایک آیت میں یہ ارشاد فرمایا کہ سچی شہادت کا چھپانا حرام اور گناہ ہے۔آج جو خرابیاں انتخابات میں پیش آرہی ہیں، ان کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ نیک صالح حضرات عموماً ووٹ دینے ہی سے گریز کرنے لگے جس کا لازمی نتیجہ وہ ہوا جو مشاہدہ میں آرہا ہے کہ ووٹ عموماً ان لوگوں کے آتے ہیں جو چند ٹکوں میں خرید لیے جاتے ہیں۔کسی حلقہ میں کوئی بھی امیدوار صحیح معنی میں قابل دیانت دار معلوم نہ ہو، مگر ان میں سے کوئی ایک صلاحیت کار اور خدا ترسی کے اصول پر دوسروں کی نسبت سے غنیمت ہو تو تقلیل شر اور تقلیل ظلم کی نیت سے اس کو بھی ووٹ دے دینا جائز بلکہ مستحسن ہے، جیسا کہ نجاست کے پورے ازالہ پر قدرت نہ ہونے کی صورت میں تقلیل نجاست کو اور پورے ظلم کو دفع کرنے کا اختیار نہ ہونے کی صورت میں تقلیل ظلم کو فقہاءرحمہم اللہ نے تجویز فرمایا ہے۔ واللہ سبحان و تعالیٰ اعلم
خلاصہ یہ ہے کہ:
انتخابات میں ووٹ کی شرعی حیثیت کم از کم ایک شہادت کی ہے جس کا چھپانا بھی حرام ہے اور اس میں جھوٹ بولنا بھی حرام، اس پر کوئی معاوضہ لینا بھی حرام، اس میں محض ایک سیاسی ہار جیت اور دنیا کا کھیل سمجھنا بڑی بھاری غلطی ہے، آپ جس امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں، شرعاً آپ اس کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ شخص اپنے نظریے اور علم و عمل اور دیانت داری کی رو سے اس کام کا اہل اور دوسرے امیدواروں سے بہتر ہے، جس کام کے لیے یہ انتخابات ہو رہے ہیں، اس حقیقت کو سامنے رکھیں کہ آپ کے ووٹ اور شہادت کے ذریعہ جو نمائندگی سکسی اسمبلی میں پہنچے گا، وہ اس سلسلے میں جتنے اچھے یا برے اقدامات کرے گا، ان کی ذمہ داری آپ پر بھی عائد ہوگی، آپ بھی اس کے ثواب یا عذاب میں شریک ہوں گے۔"

ملک انس اعوان
malikanasawan11@gmail.com


بھارت کو 15 ہزار نئے شہری کیسے ملے؟

1 comments
موجودہ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ایک بہت بڑی دلدلی  پٹی  ہے جو زمانہ قدیم سے ہی متنازعہ شمار کی جاتی رہی ہے۔ یہ ہے رنگ پور اور کوچ بیہار کا درمیانی علاقہ جو پہلے دو ریاستوں کی صورت میں اپنا وجود قائم رکھے ہوئے تھا۔ مغلوں کی برصغیر میں آمد کے بعد سن 1713 میں مغل اور ریاست بیہار کے راجہ کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا گیا لیکن دونوں فریقین حد بندی کرنے میں ناکام رہے، یہ جان بوجھ کر کی گئی یا اس میں کسی کا مفاد تھا اس بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں لگایا جا سکا۔کیونکہ یہ علاقہ شدید دلدلی اور دشوار گزار ہے چناچہ اس لیے مغل اس جانب زیادہ دلچسپی نہ رکھتے تھے۔بعد ازاں 1947 میں رنگپور مشرقی پاکستان میں شامل ہو گیا اور باقی بیہار بھارت میں لیکن درمیانی علاقہ زمانہ قدیم کی طرح متنازعہ ہی رہا جس کو حل کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش 1958 میں بھارت کی جانب سے وزیر اعظم  جواہر لال نہرو اور پاکستان کی جانب سے اس وقت کے وزیر اعظم  فیروز خان
نون نے کی جو بعد میں بھارتی سپریم کورٹ نے ناقابل قبول قرار دے دی اور 1971 کے بعد  بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کے بعد  بھی یہ معاملہ جوں کا توں قائم رہا۔
اب صورت حال یہ ہے کہ بیہار کے ساتھ ہی آسام کا علاقہ ہے جہاں چند شدت پسند تنظیمیں بھارتی حکومت کو کڑا وقت دے رہی ہیں اور بھارت کے لیے روز بروز مشکلات پیدا کر رہی ہیں ۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہی متنازعہ علاقہ تھا جہاں سے اسلحہ اور منشایات دونوں ممالک سے آر پار بھیجی جاتی تھیں ۔ اس حوالے سے دونوں مملک کی حکومتیں نہایت سنجیدگی سے کام کرتی رہیں ۔جبکہ اس علاقے کے رہائیشی پچھلے 68 سالوں سے کسی بھی ملک کی شہریت حاصل کرنے سے قاصر تھے۔ اس علاقے میں افراد کی کل تعداد 50 ہزار کے قریب ہے۔ جس کو  جون 2015 میں دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ بھارتی شہریت حاصل کرنے والے افراد کی تعداد 15 ہزار کے قریب ہے جبکہ  بنگلہ دیشی شہریت حاصل کرنے والے افراد کی تعداد 36 ہزار ہے.   بھارت ، بنگلہ دیش بارڈر کی کُل لمبائی 4100 کلومیٹر ہے جبکہ جدید تقسیم سے پہلے 111 بھارتی ملکیتی خطے بنگلہ دیش کے پاس تھے اور 51 بنگالہ دیشی ملکیتی خطے بھارت کے پاس تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان 54 دریا بہتے ہیں جس میں سے قابل ذکر ٹیسٹا دریا ہے جو اسی علاقے میں ہے جس کے پانی کی تقسیم اب تک نہیں ہو سکی۔ 
اس تقسیم کے بعد ایسے علاقے جو بنگلہ دیش سے بھارت کے حصے میں چلے گئے وہاں خوب جشن منایا گیا ، کیک کاٹے گئے اور تقریبات کا انعقاد کیا گا اور جگہ جگہ یہ لکھا گیا ہے "بالآخر 68 سال بعد آزادی مل ہی گئی" یہ تما م تقریبات بحیثیت ایک پاکستانی کے کسی خنجر سے کم نہیں ہیں اور یہ ہمارے ماضی کے حکمرانوں کی مشرقی پاکستان میں کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
دوسری جانب سری لنکا کی حکومت چائنہ کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتی ہے اور وہ آسام کے علاقے میں بھی دلچسپی رکھتی ہے اسی خطرے کو بھانپتے ہوئے مودی کے اسی سال ڈھاکہ کے دورے کے دوران اک معاملے کو حل کر دیا۔
دنیا اپنے مفادات کے لئے دوسروں کی زمین میں دلچسپی لے رہی ہے اور ایک ہم ہیں کہ جو پہلے سے ہے اس کا بھی حشر کیے جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔!!!

تحریر
ملک انس اعوان 
ٹویٹر:AnasInqilabi


گواہی

0 comments
دریائے راوی کے کنارے کھڑے ہو کر  مجھے دریا کے گدلے پانی میں اس نفس شمار معاشرے کا عکس نظر آ رہا تھا۔ بالکل اندر سے  آلودہ دھویں سے بھرے ہوئے جس کے پار کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا ہے۔میری دائیں جانب ناجانے کس جانور کا صدقے کا گوشت سرخ مومی تھیلوں میں تھامے ہوئے  چندغریب دوسرے غریبوں کو جو وہاں گاڑیوں میں گزرتے ہیں، پیسے لے کر اتنی ہی مالیت کا گوشت فضا میں اچھال دیتے ہیں جو اس بڑے شہر کی بڑی چیلیں حلال سمجھ کر پانی میں گرنے سے پہلے اچک  کر کھا لیتی ہیں اور اس کے حلال ہونے کی گواہی ساتھ ہی ساتھ دریا کا آہنی جھولتا ہو پل دے رہا ہوتا ہے۔۔۔۔۔!


انس اعوان

تلاش جاری ہے

0 comments
نیم تاریک کمرے کی ادھ کھلی کھڑکی دھیمی رفتار سے چلتی ہوئی نیم گرم ہوا کے سنگ جھول رہی ہے جس کے سبب اس کھڑکی کے سامنے میز پر پڑے ہوئے چند تحریر شدہ کاغذ اوپر پڑے ہوئے قلم سے خود کو آزاد کروانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔جبکہ انکو لکھنے والا لکڑی کی کرسی پر آنکھیں بند کیے ہوئے نیم دراز ہے۔اس کے دونوں ہاتھوں نے میز کے سرے کو مضبوطی سے تھام رکھا ہے۔تھوڑی تھوڑی دیر بعد اس کی متلاشی آنکھیں کسی چیز کی تلاش میں اِدھر اُدھر دیکھتیں اور تھک کر بند ہوجاتیں۔
وہ کبھی اپنی گود میں پڑے ہوئے افسانے کے کسی کردار میں خود کو ڈھونڈتا اور کبھی کاغذ پہ لکھے ہوئے بے ربط الفاظ میں اپنے خدوخال دریافت کرنے کی کوشش کرتا مگر بے سود کسی تحریر کسی مطلع کسی مصرعے میں بھی وہ موجود نہیں ہے۔
کیونکہ وہ تو ابھی کہیں لکھا ،کہیں سمجھا ہی نہیں گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔!
اور تلاش اب تک جاری ہے۔

تحریر
ملک انس اعوان



کیسی عید؟

2 comments
"عید کا چاند نظر آگیا ہے" یہ وہ الفاظ ہیں کہ جن کو سننے کے لئے بچپن میں دل بیقرار رہتا تھا اور ہم ٹی وی سکرین کو ٹکٹکی باندھ کر روئیت حلال کا صبر آزما اجلاس سنتے،دیکھتے اور سر دھنتے، جس کی اس زمانے میں ہمیں کچھ سمجھ نہ آتی یا ہم سمجھنے کی کوشش ہی نہ کرتے  لیکن اگر اختتام پر اجلاس میں شامل لوگ ایک دوسرے کو گلے مل رہے ہوتے تو اس سے واضح ہو جاتا کہ عید کا چاند نظر آ چکا ہے اور کل عید ہے۔ اور پھر عید کی لمبی تیاریاں شروع ہو جاتیں ۔قصہ مختصر اس سب میں جو خاص بات تھی وہ تھی "خوشی" جو شاید اب مجھسے کہیں کھوگئی ہے۔اب یہ سوچتا ہوں کہ عید کے دن بھی سورج مشرق سے نکلتا ہے اور مغرب میں غروب ہو جاتا ہے۔ آسمان اور زمین کا رنگ بھی معمول کے مطابق رہتا ہے ۔بس فرق ہے تو صبح ایک عدد نماز کا جس کو"نماز عید" کہا جاتا ہے۔جس میں سب نئے کپڑے پہن کر آ تے ہیں اور ایک دوسرے کو گلے لگاتے ہیں اور پھر اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے جاتے ہیں یا پھر میری طرح گھر جا کر سو جاتے ہیں۔ در اصل اب وہ پہلے سا وقت ہی نہیں رہا جب ایک دوسرے کے لیے وقت اور چاہت ہوا کرتی تھی۔اب تو ایسے دوست جن کو میں چاند نظر آنے پر بھی یاد کر لیا کرتا ہوں وہ مجھے عید کے دوسرے تیسرے دن بھی قسمت سے ہی یاد کرتے ہیں ۔اور ہم بھی گھر بیٹھے رہتے ہیں کہ اگر کسی کو ضرورت ہوئی تو وہ خود آ کر مل لے گا لیکن رشتے ضرورت سے تو نہیں بنھائے جاتے یہ تو احساس سے نبھائے جاتے ہیں ۔
عجیب بات ہے کہ مجھے ایسے خوشی کے موقعوں پر ایسی کیفیت کیوں طاری ہو جاتی ہے۔اور جب یہ غصہ کہیں نہیں نکتا تو لکھنے بیٹھ جاتا ہوں اور بس لکھتا ہی چلا جاتا ہوں یا کوئی اچھی سی کتاب سینے سے لگا کر بیٹھ جاتا ہوں صرف اسی لیے کہ
کتابیں ہمیشہ ایک سی رہتی ہیں کتنے ہی سال گزر جائیں کتنے ہی حالات بدل جائیں یہ کبھی دھوکہ نہیں دیتیں جتنا وقت ان سے چاہو یہ دے دیتی ہیں ۔اب تو فقط یہی میری دوست ہیں اور میری ہم راز بھی۔

تحریر
ملک انس اعوان

http://trendyvivo.com/

نا مکمل

0 comments
جو میں ضبط کرتا ہوں 
وہی تحریر کرتا ہوں
کبھی پورا نہیں ہوتا
سبھی کچھ نہ مکمل ہے

میرے احساس کی الجھن
میرے احباب کا گلشن
وہاں سب رنگ ادھورے ہیں
سبھی کچھ نا مکمل ہے

کوئی ہستی  نہیں میری
کوئی  رستہ نہیں میرا
کوئی کتبہ نہیں میرا
سبھی کچھ نا مکمل ہے

کوئی تدبیر حکمت کی
کوئی والی امانت کا
کہاں پر مر گیا واعظ
سبھی کچھ نا مکمل ہے

محبت راس آجائے
خدانخواستہ تم کو
سنو روح کے نکلنے تک
سبھی کچھ نا مکمل ہے

ملک انس اعوان





ہمارے علماء کی ناکامی

1 comments
ہمارے علماء کی ناکامی:
------------
نوٹ:
یہ تحریر لکھنے سے پہلے کئی بار سوچنا پڑا اور بالآخر لکھنے کا فیصلہ کر ہی لیا، میں مانتا ہوں کہ مجھے دینی علوم کی ا،ب کا بھی پتہ نہیں ہے اور نہ میں میں کوئی فارغ التحصیل عالم یا مفتی ہوں بس جو محسوس کیا وہ بتانا چاہ رہا ہوں چناچہ میری بات کو کسی مخصوص فرد، مسلک یا ادارے پر حملہ تصور نہ کیا جائے اور اسے صرف علمی حد تک رکھا جائے اور بے شک کھل کر تنقید کی جائے۔اور مجھے کسی مسلک سے مت جوڑا جائے۔
---------------------------------------------------


ایک اسلام پسند ہونے کے باعث سوشل میڈیا سے لے کر عام زندگی تک ہمارا سامنا ہر قسم کے لوگوں سے ہوتا ہے اور مختلف لوگوں کا نقطہ نظر سننے کا موقع ملتا ہے۔
فلحال پاکستان میں  فکری و سیاسی طور پر2 قسم کے طقبے موجود ہیں ایک "اسلام پسند"  اور دوسرے "لبرل ،ملحد وغیرہ وغیرہ"
اب دو خیمے موجود ہیں ایک جس پر اسلام کا پرچم ہے ۔اس پرچم کے نیچے اور دیگر پرچم بھی اورگروہ بھی موجود ہیں ۔اب ہوتا یہ ہے کہ ہم مسلکی اختلافات کی بنیاد پر چند مسالک کو اس  خیمے سے باہر نکال چکے ہیں ۔ مثلاً شیعہ اور بریلوی
ان دونوں کے اندرانتہائی   اچھے علماء بھی موجود ہیں اور   نظریہ خلافت و حکومت بھی۔ اب میں بات کھل کر کرنا چاہ رہا ہوں ۔
اہل تشیع  نے جب اس بات کو محسوس کیا کہ اب ان کا گزارہ اس  اسلام پسند  خیمے میں ممکن نہیں ہے تو وہ  اپنی بقا کے لئے لبرل طبقے میں جا ملے۔ جس کا نقصان اسلام پسند طبقے کو تو ہوا ہی لیکن  اس کا سب سے بڑا نقصان خود اسی مسلک کو اٹھانا پڑا موجودہ دور میں  شیعہ علماء اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اب ایک عام  شیعہ نوجوان دین سے بیزاری برتنے لگا ہے۔اور وہ خدا کے من گھڑک تصور  کا شکار ہے اور قدرے "نیچری" بھی۔
اب یہی نوجوان  سوشل میڈیا پر "بے دینوں " کی جانب سے اسلام پسندوں پر حملہ آور ہوتے ہیں اور شدید نقصان پہنچاتے ہیں ۔حلانکہ دونوں مین زمیں آسمان کا فرق ہے۔ ایک خدا کو ماننے والا اور دوسرا  خدا کا انکاری ۔لیکن ایسا ہورہا ہے۔
اب دوسری جانب ہمارے پاس  رہ گئے بریلوی ۔ ان کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہ انتہا کہ شخصیت پرست ہیں اس لیے یہ کسی ایک شخصیت پر متفق نہیں ہو پاتے وگرنہ پاکستان میں ان کی تعداد بہت بہت زیادہ ہے۔ان میں واحد سیاسی تدبر رکھنے والی شخصیت  "علامہ شاہ احمد نورانی " مولانا انس نورانی کے والد محترم تھے جنہوں نے اس مسلک کو  سیاسی بصیرت عطا کی۔
اب ایک عام بریلوی سیاسی  طور پر  سیاسی دین  سے نا واقف ہے۔اور مجھے دور دور تک  اس کے آثار بھی نظر نہیں آ رہے اس لیے انکا وزن بھی اسلام مخالف پلڑے میں ڈلتا رہے گا۔
یہ لوگ نہ خود کچھ کریں گے بلکہ ہر ہونے والی  اچھی تبدیلی میں رکاوٹ کا باعث بنیں گے۔
اس لیے لبرل  پاکستان میں  آزاد خیال سیاسی جماعتوں سے افراد اکٹھے کر کے  غیر محسوس کن طریقے سے انہیں اپنے نظریے  کا شکار بنا رہے ہیں ۔ 
-----------
یہ ہمارے علماء کی ناکامی ہے کہ اب ایک اسلام پسند کو بیک وقت بے دینوں کے ساتھ  اور اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ فکری و سیاسی طور پر لڑنا پڑ رہا۔
تمام مسالک کو ایک اسلامی اور عین شرعی مقصد کے حصول کے لئے متحد رکھنا ہر صورت علماء کا ہی کام ہے جو وہ نہیں کر سکے اور جس کا خمیازہ آج اس پوری قوم کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

تحریر
ملک انس اعوان 



ہنگامہ ِوضو

0 comments
ہم نے ایک بات محسوس کی ہے کہ آواز کا تقوی کے ساتھ  قریبی تعلق ہوتا ہے یا یوں کہیے کہ یہ باہم انتہائی قربت رکھتے ہیں اب آپ یہ سوچیں گے کہ یہ کیسا فلسفہ ہوا تو جناب ٹھہریے ہم بتائے دیتے ہیں کہ  واقعہ کیا ہے ۔  اگر آپ مسجد میں وضو کرنے جائیں تو  جو صاحب جتنے زیادہ نمازی اور پرہیز گار ہوں گے وہ اتنی ہی آواز کے ساتھ ناک صاف کر رہے ہوں گے گویا وہ تمام نمازی حضرات کو اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے ہوں ۔ ایک بار ہم مسجد میں وضو خانے میں بیٹھے تھے اور مسواک کے ذریعے اپنے دندان شریف کو چمکانے کی کوشش کر رہے تھے کہ ایک صاحب میرے سامنے آ بیٹھے ہاتھ دھوئے اور ایک شدید قسم کی کلی کرنے کے بعد ایک انتہائی شدید قسم کا غرارہ کیا جس کی آواز بالکل ذبح ہوتے  ہوئےکٹے (بھینس کا نر بچہ) کی طرح  تھی۔ اس کے بعد جب انہوں نے جاندار آواز کے ساتھ ناک صاف کیا اور تمام حاضرین  پر یہ بات واضح کر دی کہ موصوف نماز ادا  کرنے مسجد میں تشریف لا چکے ہیں ۔ جبکہ میں دوسری جانب ہکا بکا ان کو دیکھے جا رہا تھا۔موصوف سے ہماری جان پہچان تو پہلے سے ہی تھی چناچہ نماز کے بعد ہم نے انکی اصلاح کرنے کا سوچا اور انکے ساتھ ہی مسجد سے واپسی کے سفر پر ہو لئے۔ پہلے گھما پھرا کر دائیں بائیں ،اور شمال جنوب کی باتیں کیں اور آہستہ آہستہ اصل موضوع پر لے آ یا۔ میری بات سننے کے بعد انکا ردعمل بالکل  میری امید ِپختہ سے الٹ تھا۔انہوں بالترتیب میری عمر ، میری دنیاوی تعلیم ،میری دینی تعلیم اور  یونیورسٹی کا نام پوچھا اور گویا ہوئے
بیٹا میری عمر آپکی عمر   کے دو گنا سے بھی زیادہ ہے،میں نے فلاح  فلاں ادرے اور مدرسے تعلیم حاصل کی ہے
 اور وہ مجھ سے بہت زیادہ علم رکھتے ہیں
اس بعد انہوں نے جو کچھ کہا وہ مکمل طور پر ناقابل اشاعت ہے۔ قصہ مختصر انہوں نے یونیورسٹی کی تعلیم کو  فتنہ قرار دیا اور  کہا کہ اس کے ذریعے طلبا دین سے دور ہو رہے ہیں اور ان میں اخلاقیات ختم ہوتی جا رہی ہیں ۔
وہ دن اور آج کا دن  جب بھی کہیں آمنے سامنے وضو کرنے کا موقعہ ملتا ہے  میں 
In Rome ,do as the Romans do
کے مصداق پورے جوش و خروش سے وضو کرتا ہوں اور وہ موصوف مجھے دیکھ کر تلملا اٹھتے  ہیں۔

تحریر
ملک انس اعوان

پہلا روزہ

5 comments
مجھے صحیح سے تو یاد نہیں کہ میں نے اپنا پہلا روزہ کب رکھا لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ جب سے حوش سنبھالی ہے ہم نے کبھی بھی افطاری کی سنت کو نہیں چھوڑا۔بچپن مین والدہ صبح اٹھ کر سحری تیار کر رہی ہوتیں تو ہم بھی ہاتھ منہ دھو کر اور سر پر جالی دار ٹوپی سجا کر باورچی خانے میں بیٹھ جاتے جیسی ہی پہلی روٹی پک کر اترتی ہم اسے حاصل کرنے کا مطالبہ کر دیتے جو کہ ہماری ضدی طبعیت کو دیکھتے ہوئے کثرت رائے سے منظور کر لیا جاتا۔پھر لکڑی کی "چوکی" ( جسے پنجاب میں پیڑی بھی کہا جاتا ہے،انتہائی چھوٹے قد کی چارپائی) پر ہر ٹانگ پر ٹانگ دھرے سحری تناول فرماتے اور آخر میں چائے کا عین جمہوری مطالبہ بھی کر دیتے جو اکثر و بیشتر رد کر دیا جاتا اور ہم اپنا سا منہ لے کر بیٹھ جاتے کہ اچھی بھلی سحری کا ایک اہم رکن رہ گیا ہے اور سارا دن یہ احساس دل کو ستاتا رہتا۔ سحری کرنے کے بعد والد صاحب کے ہمراہ مسجد کی جانب روانگی ہوتی تو دوران سفر میں اپنے والد کے قدم کے برابر قدم اٹھانے کی کوشش کرتا جس کے باعث نہار منہ چوٹیں بھی لگتیں اور سر زنش بھی۔ 
نماز کے بعد ہم سو جاتے اور تب تک نہ اٹھتے جب تک والدہ ہمیں خود نہ اٹھاتیں ۔ جب اٹھ جاتے تو جیسے ہی بھوک یا پیاس ستاتی اپنی والدہ محترمہ کے پاس جا پہچتے اور ایک اچھے سائل کی طرح مسئلہ پوچھتے کہ اگر بچے نے روہ رکھا ہو اور اسے بھوک لگ جائے تو وہ کیا کرے؟ 
والدہ ہماری طبعیت سے خوب واقف ہیں اور وہ کہا کرتیں کہ  بیٹا بچوں کا روزہ صرف دن 11 بجے تک کا ہوتا ہے جس پر ہم عین 11 بجے کا انتظار کرتے اور روزہ افطار کر لیتے اور روزہ افطار کرنے کے بعد ایک ہی دن میں دوسرے روزے کی نیت کر لیتے۔ دوسری افطاری ہماری عام مسلمانوں کے ساتھ ہوا کرتی جس میں ہم پورے مذہبی جوش و خروش کا عملی مظاہرہ پیش کرتے اور کوئی بھی پکوان اپنے ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔
 بہت چھوٹی عمر سے ہی جو عادت والدین نے ڈالی وہ اب پختہ ترین ہو چکی ہے اور گزشتہ کئی سال سے الحمداللہ شاید ہی کچھ روزے ہوں جو ہم نے چھوڑے ہوں ۔
فلحال آپ زیر نظر تصویر دیکھ کر دل کھٹا کیجئے۔۔۔۔۔!

تحریر 
ملک انس اعوان

68 سال کا بوڑھا

1 comments
 وہ لگ بھگ 68 سالوں سے اسی دروازے کو دیکھ رہا ہے جہاں سے کبھی  شیراونی پہنے کوئی فرد داخل ہوتا ہے اور کبھی  دھم دھم کی آواز کے ساتھ وردی پہنے بھاری بھاری فوجی بوٹوں والاکوئی آدمی اس گھر  کی دہلیز کو روندتا چلا جاتا ہے۔
کتنے سال کتنے موسموں اور کتنے لوگوں کو دیکھنے والا شخص اب اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے۔اس کی چھوٹی چھوٹی اندرونی بیماریاں اب ایک ناسور کی شکل اختیار کر چکی ہیں ۔اس کے بالوں میں زمانے کی گردش کے بائث چاندی اتر آئی ہے اور گہرے زخموں کے بائث اس کے کپکپاتے ہاتھ اسکے جسم کا ساتھ نہیں دے پا رہے ہیں ۔
اس کا ایک بازو کئی سال پہلے کاٹ کر مشرق کی جانب پھینک دیا گیا اور اس کو اٹھا کر گھر کے مغربی حصے میں پھینک دیا گیا۔اس کی شاہ رگ بھی ایک دشمن کے ہاتھ میں ہے اور وہ کھڑکی جہاں سے سورج کی  نوخیز  کرنیں گھر کے آنگن میں داخل ہو رہی ہیں وہاں کھڑا ہو کر گلی کے بیچ میں باہم لڑتے ہوئے بچوں سے چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ 
میرے بچو!

 مجھے بچا لو۔۔۔!



تحریر
ملک انس اعوان 



ذوق دعا

0 comments
 میرے ذوق کو فہم سے سرشار کرے
خدا میرے لہجے کو پر اسرار کرے
پھوٹے جس سے تخلیق کی کونپل 
اس قدر میرے ذہن میں انتشار کرے
اترے مجھ پہ کوشش عذاب کی صورت
خدا مجھے سکوں سے بےزار کرے
جھک جائےجب جبیں سجدے میں
خدا مجھ پہ جنتیں آشکار کرے

ملک انس اعوان 




شاید

0 comments
یہ میں ہوں   کوئی اور  نہیں  ہے   شاید
میں سمجھتا ہوں کوئی اور نہیں ہے شاید
یہ حقیقت ہے کہ  احساس سز  ا دیتا   ہے
اب یوں پاگل  کوئی اور نہیں   ہے   شاید
جو ہے  ،    سو  ہے  ،  یوں  ہی   ہوگا
اب اس پر کوئی زور  نہیں   ہے    شاید
روح پنجرے سے  اڑ     گئی  کب    کی
اب مجھ  میں  کوئی شور  نہیں ہے  شاید

ملک انس اعوان