نیم تاریک کمرے کی ادھ کھلی کھڑکی دھیمی رفتار سے چلتی ہوئی نیم گرم ہوا کے سنگ جھول رہی ہے جس کے سبب اس کھڑکی کے سامنے میز پر پڑے ہوئے چند تحریر شدہ کاغذ اوپر پڑے ہوئے قلم سے خود کو آزاد کروانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔جبکہ انکو لکھنے والا لکڑی کی کرسی پر آنکھیں بند کیے ہوئے نیم دراز ہے۔اس کے دونوں ہاتھوں نے میز کے سرے کو مضبوطی سے تھام رکھا ہے۔تھوڑی تھوڑی دیر بعد اس کی متلاشی آنکھیں کسی چیز کی تلاش میں اِدھر اُدھر دیکھتیں اور تھک کر بند ہوجاتیں۔
وہ کبھی اپنی گود میں پڑے ہوئے افسانے کے کسی کردار میں خود کو ڈھونڈتا اور کبھی کاغذ پہ لکھے ہوئے بے ربط الفاظ میں اپنے خدوخال دریافت کرنے کی کوشش کرتا مگر بے سود کسی تحریر کسی مطلع کسی مصرعے میں بھی وہ موجود نہیں ہے۔
کیونکہ وہ تو ابھی کہیں لکھا ،کہیں سمجھا ہی نہیں گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔!
اور تلاش اب تک جاری ہے۔
تحریر
ملک انس اعوان
وہ کبھی اپنی گود میں پڑے ہوئے افسانے کے کسی کردار میں خود کو ڈھونڈتا اور کبھی کاغذ پہ لکھے ہوئے بے ربط الفاظ میں اپنے خدوخال دریافت کرنے کی کوشش کرتا مگر بے سود کسی تحریر کسی مطلع کسی مصرعے میں بھی وہ موجود نہیں ہے۔
کیونکہ وہ تو ابھی کہیں لکھا ،کہیں سمجھا ہی نہیں گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔!
اور تلاش اب تک جاری ہے۔
تحریر
ملک انس اعوان











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔