میں اک شام ہوں اندھیروں میں اتر جاؤں گا
میں اک جام ہوں بھرنے دو چھلک جاؤں گا
فقط دیکھو کہ میں ریت کی مورت سا ہوں
جس طرح سے بھی پکڑو گے بکھر جاؤں گا
کوئی مجھکو کہاں ، کیسے بھُلا پائے گا
میں اک آسیب ہوں چہروں میں اتر جاؤں گا
میں کسی خواب کو پورا نہیں ہونے دوں گا
اپنی قسمت کے ستاروں سے الجھ جاؤں گا
کوئی کب تک مجھے پابندِ روایت رکھے
میں نہ بخشوں گا مگر مٹی میں اتر جاؤں گا
میرے بچے میرے ہونے کی گواہی دیں گے
میں تخیل کے مناظر میں اتر جاؤں گا
ائے ماہتاب تیری تاب نہیں ہے مجھ میں
میں اگر رات کو نکلوں گا تو جل جاؤں گا
---
ملک انس اعوان
4 جولائی 2015
12بج کر 30 منٹ
15 رمضان المبارک
(پورے چاند کی رات)











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔