یہ جو "میں" ہوتی ہے ناں اس کے بارے میں بڑے کہتے ہیں کہ اسکو نہ لکھنا چاہیے اور نہ محسوس کرنا چاہیے۔لیکن جب بات شروع سے شروع کرنا ہو تو سب سے پہلے اسی کا ذکر کیا جاتا ہے جو آغاز میں ہو تو اس طرح بات "میں" سے شروع ہوتی ہے۔یہ فطری طور پر یہ سوچتی ہے اوربلا تمیز سوچتی ہے کہ اسے کیا سوچنا چاہیے اورکیا اسے یہ سوچنا بھی چاہیے یا نہیں۔اور جب یہ سوچتا ہے تو یہ سوچتا ہے کہ یہ کون ہے، جو سامنے ہے وہ کون ہے،اور جو سامنے ہے کیا وہ واقعی سامنے ہے اور جو چھپا ہوا ہے وہ کہاں ہے اور کیسے ملے گا ۔یہ بالکل اسی طرح ہے کہ جسے انسان بیہوشی کے بعد آنکھ کھولے تو وہ سب سے پہلے یہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کون ہے، کہاں سے آ یا اور یہاں تک کون لے کر آ یا، وہ اپنے گرد و پیش کو غور سے دیکھتا اور پرکھتا ہے اور جب مانوس ہو جاتا ہے تو پر سکون ہو جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح جب انسان کا شعور ہوش میں آتا ہے تو وہ جس ذات میں قید ہوتا ہے اس سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے اور سب سے پہلے اسی ذات سے الجھ جاتا ہے۔یہی شعور پہلے پہل خود اپنے آپ سے غافل ہوتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ وہ جس جسم میں قید ہے وہ اسکو اس کے ماخز کا پتہ دے اور تعارف کروائے۔جبکہ جسم کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ خود تعارف کے معاملے میں شعور کے ہاتھوں مجبور ہوتا ہے کیونکہ تب تک جسم گناہوں اور گندگی سے اٹ چکا ہوتا ہے, اور یہ جو گناہ کی گندگی اور دھول ہوتی ہے اس میں انسان کی بصارت ختم ہو جاتی ہے وہ صحیح رستے کی پہچان نہیں کر پاتا اور بھٹکتا چلا جاتا ہے۔
یعنی اس تلاش کی کشمکش ہی انتہائی نازک مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ جب انسان کو اندھیرے میں مجبوراً بٹھا دیا دیا جائے تو وہ اسی طرف لپکے کا جہاں سے اسے روشنی کی کرن نظر آ ئے گی۔اب اس روشنی کو دیکھنے والی چیز آنکھ ہوئی اور آنکھ وہی دیکھتی ہے جو وہ دیکھنے کی عادی ہوتی ہے، نیک آنکھ نیک روشنی کی جانب لپکتی ہے۔چناچہ بری آنکھ برائی کی جانب لپکتی ہے اور ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنا ہاتھ یا جسم اس آگ میں جلا بیٹھتا ہے اور ایسے دل کہ جن میں حق کی طلب نہ ہو وہ اسی آگ میں مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں اور یہی آگ انکا مقدر ٹھہرتی ہے۔
جبکہ نیک اور پاکیزہ آنکھ اس روشنی میں شامل برائی کی سرخی کو جان لیتی ہے اور اس کی طرف بڑھنے سے روک دیتی ہے۔یہی نیک آنکھ اسی اندھیرے میں صبر اور شکر کا عملی پیکر بن جاتی ہے۔اور وہ حق کو جاننے اور پہچاننے کا تجسس اس میں پیہم موجود رہتا ہے۔ یہ اندھیرا در اصل "دنیا" ہے جس میں انسان کو بھیجا گیا ہے اور اس کے چارسو طرح طرح کی روشنیاں جلوہ گر ہیں۔کچھ رو شنیاں دیدہ زیب کانچ کے خوبصورت پیکروں میں قید ہیں اور ان سے دنیا کے مال و ہوس کی بھینی بھینی مگر مہلک بو اٹھ رہی ہے ۔ وہ بازار دنیا ہے جس میں انسانوں کو مقررہ وقت کے لیے بھیجا گیا ہے۔دنیا کا بازار بالکل دجال کی آزمائش کی طرح کا ہے کہ جس کے پاس ایک نہر ہو گی جسے وہ جنت کا نام دے اور ایک آگ ہوگی جسے وہ دوزخ کا نام دے گا۔ جو انسان دجال کی دوزخ کا انتخاب کرے گا وہ اللہ کی جنتوں اور رحمتوں کا مستحق قرار پائے گا اور جو دجال کی جنت کو اپنے لئے بہتر سمجھے گا وہ اللہ کے قہر اور عذاب کا مستحق ٹھہرے گا۔ اسی طرح دیکھنے والی آنکھ ، سننے والے کان ، اٹھنے والے ہاتھ اور سوچنے والے دماغ کو اس کاروبارِ دنیا میں نہایت فکر اور تدبر کے ساتھ اس روشنی کا نتخاب کرنا ہے جو بظاہر تو کم قیمت، بے وقعت اور دنیا میں تنگی کا باعث ہو مگر قیامت کے روز عظیم اجر ، رحمت ، نعمت اور جنت کا سبب بنے ، کہ جس میں دودھ اور شہد کی نہریں ہیں،اور سب سے بڑھ کر اس کا دیدار ہے کہ جس کے دیدار کی خواہش میں طور جل کر سرمہ بن گیا۔اور یہی مقام اس دنیا میں موجود تصوف ، کوشش اور عمل کی انتہا کا نام ہے۔
اللہ ہمیں عمل کی توفیق دے اور راہ حق پر استقامت عطا فرمائے۔
تحریر
محمد انس اعوان
یعنی اس تلاش کی کشمکش ہی انتہائی نازک مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ جب انسان کو اندھیرے میں مجبوراً بٹھا دیا دیا جائے تو وہ اسی طرف لپکے کا جہاں سے اسے روشنی کی کرن نظر آ ئے گی۔اب اس روشنی کو دیکھنے والی چیز آنکھ ہوئی اور آنکھ وہی دیکھتی ہے جو وہ دیکھنے کی عادی ہوتی ہے، نیک آنکھ نیک روشنی کی جانب لپکتی ہے۔چناچہ بری آنکھ برائی کی جانب لپکتی ہے اور ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنا ہاتھ یا جسم اس آگ میں جلا بیٹھتا ہے اور ایسے دل کہ جن میں حق کی طلب نہ ہو وہ اسی آگ میں مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں اور یہی آگ انکا مقدر ٹھہرتی ہے۔
جبکہ نیک اور پاکیزہ آنکھ اس روشنی میں شامل برائی کی سرخی کو جان لیتی ہے اور اس کی طرف بڑھنے سے روک دیتی ہے۔یہی نیک آنکھ اسی اندھیرے میں صبر اور شکر کا عملی پیکر بن جاتی ہے۔اور وہ حق کو جاننے اور پہچاننے کا تجسس اس میں پیہم موجود رہتا ہے۔ یہ اندھیرا در اصل "دنیا" ہے جس میں انسان کو بھیجا گیا ہے اور اس کے چارسو طرح طرح کی روشنیاں جلوہ گر ہیں۔کچھ رو شنیاں دیدہ زیب کانچ کے خوبصورت پیکروں میں قید ہیں اور ان سے دنیا کے مال و ہوس کی بھینی بھینی مگر مہلک بو اٹھ رہی ہے ۔ وہ بازار دنیا ہے جس میں انسانوں کو مقررہ وقت کے لیے بھیجا گیا ہے۔دنیا کا بازار بالکل دجال کی آزمائش کی طرح کا ہے کہ جس کے پاس ایک نہر ہو گی جسے وہ جنت کا نام دے اور ایک آگ ہوگی جسے وہ دوزخ کا نام دے گا۔ جو انسان دجال کی دوزخ کا انتخاب کرے گا وہ اللہ کی جنتوں اور رحمتوں کا مستحق قرار پائے گا اور جو دجال کی جنت کو اپنے لئے بہتر سمجھے گا وہ اللہ کے قہر اور عذاب کا مستحق ٹھہرے گا۔ اسی طرح دیکھنے والی آنکھ ، سننے والے کان ، اٹھنے والے ہاتھ اور سوچنے والے دماغ کو اس کاروبارِ دنیا میں نہایت فکر اور تدبر کے ساتھ اس روشنی کا نتخاب کرنا ہے جو بظاہر تو کم قیمت، بے وقعت اور دنیا میں تنگی کا باعث ہو مگر قیامت کے روز عظیم اجر ، رحمت ، نعمت اور جنت کا سبب بنے ، کہ جس میں دودھ اور شہد کی نہریں ہیں،اور سب سے بڑھ کر اس کا دیدار ہے کہ جس کے دیدار کی خواہش میں طور جل کر سرمہ بن گیا۔اور یہی مقام اس دنیا میں موجود تصوف ، کوشش اور عمل کی انتہا کا نام ہے۔
اللہ ہمیں عمل کی توفیق دے اور راہ حق پر استقامت عطا فرمائے۔
تحریر
محمد انس اعوان











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔