مجھے صحیح سے تو یاد نہیں کہ میں نے اپنا پہلا روزہ کب رکھا لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ جب سے حوش سنبھالی ہے ہم نے کبھی بھی افطاری کی سنت کو نہیں چھوڑا۔بچپن مین والدہ صبح اٹھ کر سحری تیار کر رہی ہوتیں تو ہم بھی ہاتھ منہ دھو کر اور سر پر جالی دار ٹوپی سجا کر باورچی خانے میں بیٹھ جاتے جیسی ہی پہلی روٹی پک کر اترتی ہم اسے حاصل کرنے کا مطالبہ کر دیتے جو کہ ہماری ضدی طبعیت کو دیکھتے ہوئے کثرت رائے سے منظور کر لیا جاتا۔پھر لکڑی کی "چوکی" ( جسے پنجاب میں پیڑی بھی کہا جاتا ہے،انتہائی چھوٹے قد کی چارپائی) پر ہر ٹانگ پر ٹانگ دھرے سحری تناول فرماتے اور آخر میں چائے کا عین جمہوری مطالبہ بھی کر دیتے جو اکثر و بیشتر رد کر دیا جاتا اور ہم اپنا سا منہ لے کر بیٹھ جاتے کہ اچھی بھلی سحری کا ایک اہم رکن رہ گیا ہے اور سارا دن یہ احساس دل کو ستاتا رہتا۔ سحری کرنے کے بعد والد صاحب کے ہمراہ مسجد کی جانب روانگی ہوتی تو دوران سفر میں اپنے والد کے قدم کے برابر قدم اٹھانے کی کوشش کرتا جس کے باعث نہار منہ چوٹیں بھی لگتیں اور سر زنش بھی۔
نماز کے بعد ہم سو جاتے اور تب تک نہ اٹھتے جب تک والدہ ہمیں خود نہ اٹھاتیں ۔ جب اٹھ جاتے تو جیسے ہی بھوک یا پیاس ستاتی اپنی والدہ محترمہ کے پاس جا پہچتے اور ایک اچھے سائل کی طرح مسئلہ پوچھتے کہ اگر بچے نے روہ رکھا ہو اور اسے بھوک لگ جائے تو وہ کیا کرے؟
والدہ ہماری طبعیت سے خوب واقف ہیں اور وہ کہا کرتیں کہ بیٹا بچوں کا روزہ صرف دن 11 بجے تک کا ہوتا ہے جس پر ہم عین 11 بجے کا انتظار کرتے اور روزہ افطار کر لیتے اور روزہ افطار کرنے کے بعد ایک ہی دن میں دوسرے روزے کی نیت کر لیتے۔ دوسری افطاری ہماری عام مسلمانوں کے ساتھ ہوا کرتی جس میں ہم پورے مذہبی جوش و خروش کا عملی مظاہرہ پیش کرتے اور کوئی بھی پکوان اپنے ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔
بہت چھوٹی عمر سے ہی جو عادت والدین نے ڈالی وہ اب پختہ ترین ہو چکی ہے اور گزشتہ کئی سال سے الحمداللہ شاید ہی کچھ روزے ہوں جو ہم نے چھوڑے ہوں ۔
فلحال آپ زیر نظر تصویر دیکھ کر دل کھٹا کیجئے۔۔۔۔۔!
تحریر
ملک انس اعوان











ماشا اللہ عمدہ
یہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔
بچپن کے روزوں کی یادیں "بلاگز" کی صرت میں ڈھلتی جارہی ہیں کہیں معصوم مسکراہٹیں ہیں تو کہیں چلبلاتی اٹھکیلیاں کرتی شرارتیں اور ان سب کے درمیان ایک مشترکہ "حسین لمحہ" ماؤں کی محبتوں اور چاہتوں بھرے پکوانوں کا ہے کہ اس ذکر کے بغیرشاید کوئی بھی روداد مکمل نہیں ہو پاتی
سحری کی خواب ناک یاد بہت اچھی بہت خوبصورت ۔۔۔۔ پڑھنے والوں کو بھی اپنے بچپن کے دور میں لے گئی ۔
بچپن کی یادوں میں گم ہوکر لکھی تحریر بہت خوب تھی واہ ۔۔ بچپن میں یہ کھانے کا بھوت صرف مجھے پر ہی سوار رہتا تھا یہ اکثر میں بچپن کی یادوں پر سوچا کرتی اور اب نہ اتنا شوق رہتا ہے نہ وہ چیزیں اتنی زیادہ اچھی لگتی ہیں ۔آپ کے بچپن کی باتیں سنکر لگا میں اکیلی نہیں تھی ایسی ۔۔ اچھی لکھی آپ نے یہ تحریر