ہنگامہ ِوضو

0 comments
ہم نے ایک بات محسوس کی ہے کہ آواز کا تقوی کے ساتھ  قریبی تعلق ہوتا ہے یا یوں کہیے کہ یہ باہم انتہائی قربت رکھتے ہیں اب آپ یہ سوچیں گے کہ یہ کیسا فلسفہ ہوا تو جناب ٹھہریے ہم بتائے دیتے ہیں کہ  واقعہ کیا ہے ۔  اگر آپ مسجد میں وضو کرنے جائیں تو  جو صاحب جتنے زیادہ نمازی اور پرہیز گار ہوں گے وہ اتنی ہی آواز کے ساتھ ناک صاف کر رہے ہوں گے گویا وہ تمام نمازی حضرات کو اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے ہوں ۔ ایک بار ہم مسجد میں وضو خانے میں بیٹھے تھے اور مسواک کے ذریعے اپنے دندان شریف کو چمکانے کی کوشش کر رہے تھے کہ ایک صاحب میرے سامنے آ بیٹھے ہاتھ دھوئے اور ایک شدید قسم کی کلی کرنے کے بعد ایک انتہائی شدید قسم کا غرارہ کیا جس کی آواز بالکل ذبح ہوتے  ہوئےکٹے (بھینس کا نر بچہ) کی طرح  تھی۔ اس کے بعد جب انہوں نے جاندار آواز کے ساتھ ناک صاف کیا اور تمام حاضرین  پر یہ بات واضح کر دی کہ موصوف نماز ادا  کرنے مسجد میں تشریف لا چکے ہیں ۔ جبکہ میں دوسری جانب ہکا بکا ان کو دیکھے جا رہا تھا۔موصوف سے ہماری جان پہچان تو پہلے سے ہی تھی چناچہ نماز کے بعد ہم نے انکی اصلاح کرنے کا سوچا اور انکے ساتھ ہی مسجد سے واپسی کے سفر پر ہو لئے۔ پہلے گھما پھرا کر دائیں بائیں ،اور شمال جنوب کی باتیں کیں اور آہستہ آہستہ اصل موضوع پر لے آ یا۔ میری بات سننے کے بعد انکا ردعمل بالکل  میری امید ِپختہ سے الٹ تھا۔انہوں بالترتیب میری عمر ، میری دنیاوی تعلیم ،میری دینی تعلیم اور  یونیورسٹی کا نام پوچھا اور گویا ہوئے
بیٹا میری عمر آپکی عمر   کے دو گنا سے بھی زیادہ ہے،میں نے فلاح  فلاں ادرے اور مدرسے تعلیم حاصل کی ہے
 اور وہ مجھ سے بہت زیادہ علم رکھتے ہیں
اس بعد انہوں نے جو کچھ کہا وہ مکمل طور پر ناقابل اشاعت ہے۔ قصہ مختصر انہوں نے یونیورسٹی کی تعلیم کو  فتنہ قرار دیا اور  کہا کہ اس کے ذریعے طلبا دین سے دور ہو رہے ہیں اور ان میں اخلاقیات ختم ہوتی جا رہی ہیں ۔
وہ دن اور آج کا دن  جب بھی کہیں آمنے سامنے وضو کرنے کا موقعہ ملتا ہے  میں 
In Rome ,do as the Romans do
کے مصداق پورے جوش و خروش سے وضو کرتا ہوں اور وہ موصوف مجھے دیکھ کر تلملا اٹھتے  ہیں۔

تحریر
ملک انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔