"عید کا چاند نظر آگیا ہے" یہ وہ الفاظ ہیں کہ جن کو سننے کے لئے بچپن میں دل بیقرار رہتا تھا اور ہم ٹی وی سکرین کو ٹکٹکی باندھ کر روئیت حلال کا صبر آزما اجلاس سنتے،دیکھتے اور سر دھنتے، جس کی اس زمانے میں ہمیں کچھ سمجھ نہ آتی یا ہم سمجھنے کی کوشش ہی نہ کرتے لیکن اگر اختتام پر اجلاس میں شامل لوگ ایک دوسرے کو گلے مل رہے ہوتے تو اس سے واضح ہو جاتا کہ عید کا چاند نظر آ چکا ہے اور کل عید ہے۔ اور پھر عید کی لمبی تیاریاں شروع ہو جاتیں ۔قصہ مختصر اس سب میں جو خاص بات تھی وہ تھی "خوشی" جو شاید اب مجھسے کہیں کھوگئی ہے۔اب یہ سوچتا ہوں کہ عید کے دن بھی سورج مشرق سے نکلتا ہے اور مغرب میں غروب ہو جاتا ہے۔ آسمان اور زمین کا رنگ بھی معمول کے مطابق رہتا ہے ۔بس فرق ہے تو صبح ایک عدد نماز کا جس کو"نماز عید" کہا جاتا ہے۔جس میں سب نئے کپڑے پہن کر آ تے ہیں اور ایک دوسرے کو گلے لگاتے ہیں اور پھر اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے جاتے ہیں یا پھر میری طرح گھر جا کر سو جاتے ہیں۔ در اصل اب وہ پہلے سا وقت ہی نہیں رہا جب ایک دوسرے کے لیے وقت اور چاہت ہوا کرتی تھی۔اب تو ایسے دوست جن کو میں چاند نظر آنے پر بھی یاد کر لیا کرتا ہوں وہ مجھے عید کے دوسرے تیسرے دن بھی قسمت سے ہی یاد کرتے ہیں ۔اور ہم بھی گھر بیٹھے رہتے ہیں کہ اگر کسی کو ضرورت ہوئی تو وہ خود آ کر مل لے گا لیکن رشتے ضرورت سے تو نہیں بنھائے جاتے یہ تو احساس سے نبھائے جاتے ہیں ۔
عجیب بات ہے کہ مجھے ایسے خوشی کے موقعوں پر ایسی کیفیت کیوں طاری ہو جاتی ہے۔اور جب یہ غصہ کہیں نہیں نکتا تو لکھنے بیٹھ جاتا ہوں اور بس لکھتا ہی چلا جاتا ہوں یا کوئی اچھی سی کتاب سینے سے لگا کر بیٹھ جاتا ہوں صرف اسی لیے کہ
کتابیں ہمیشہ ایک سی رہتی ہیں کتنے ہی سال گزر جائیں کتنے ہی حالات بدل جائیں یہ کبھی دھوکہ نہیں دیتیں جتنا وقت ان سے چاہو یہ دے دیتی ہیں ۔اب تو فقط یہی میری دوست ہیں اور میری ہم راز بھی۔
تحریر
ملک انس اعوان
عجیب بات ہے کہ مجھے ایسے خوشی کے موقعوں پر ایسی کیفیت کیوں طاری ہو جاتی ہے۔اور جب یہ غصہ کہیں نہیں نکتا تو لکھنے بیٹھ جاتا ہوں اور بس لکھتا ہی چلا جاتا ہوں یا کوئی اچھی سی کتاب سینے سے لگا کر بیٹھ جاتا ہوں صرف اسی لیے کہ
کتابیں ہمیشہ ایک سی رہتی ہیں کتنے ہی سال گزر جائیں کتنے ہی حالات بدل جائیں یہ کبھی دھوکہ نہیں دیتیں جتنا وقت ان سے چاہو یہ دے دیتی ہیں ۔اب تو فقط یہی میری دوست ہیں اور میری ہم راز بھی۔
تحریر
ملک انس اعوان
![]() |
| http://trendyvivo.com/ |











وقت اب کبھی بھی پہلے جیسا نہیں ہو گا۔۔گزرا ہوا کل ہمیشہ بہتر لگتا ہے،،جب ہمارے بچے ہوں گے تو وہ ہمارے وقت پر رشک کریں گے اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا
خوب لکھا
سلامتی