سر کے نیچے بازو کا تکیہ دیے، بند آنکھوں کے سامنے پھیلی ہوئی لا محدود غیر مرئی کائنات کے دھوئیں میں گویا میں اکلوتا تماش بین ہوں. رنگ ہا رنگ کی ان گنت کہکشائیں قطار اندر قطار ایک دوسرے سے ملتی اور جدا ہوتی ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں، جن کے پس منظر میں ان گنت بھانت بھانت کی بولیاں، لہجے، اور رویے "نوری گرد" کی صورت میں محو سفر ہیں. اس نوری گرد کے ایک ایک ذرے کا باہم فاصلہ سینکڑوں برس سے زیادہ طویل ہے، گویا صدیوں سے ان کا ربط "فاصلہ" ہی ہے . یہ تمام منظر اور پس منظر ایک ایسے گھماؤ دار سفر پہ روانہ ہیں جسکا محور اور مرکز اس کا وہ مرکز ہے جو اپنے آپ میں لا یعنی ہے .افسوس یہ ہے کہ تحریر(جو کہ بذات خود ایک صورت ہے) میں لانے سے پہلے وہ ہزاروں کہکشاؤں کا موجد ایک بے دیہان لمحہ محض ایک بے خیال لمحہ ہی تھا، جو تحریر میں ڈھل کر دیہان کی زد پہ آ چکا ہے.
ملک انس اعوان
Ad
موضوعات
(1)
اٹک
(14)
احساس
(1)
ادب
(11)
استنبول
(4)
اسلام
(61)
اسلام ،سیاسی
(1)
اشعار
(1)
اعتکاف
(1)
افسانہ
(1)
الحاد
(3)
امام
(1)
انس انقلابی
(1)
انس نامہ
(233)
آزادنظم
(5)
بچپن
(3)
بنگلہ دیش
(1)
بھارت
(1)
پاکستان
(58)
پہلا روزہ
(1)
تحریر
(137)
تحقیق
(44)
تخیل
(8)
ترجمہ
(1)
ترکی
(3)
تصوف
(15)
توبہ
(2)
ثقافت
(13)
جدید تعلیم
(6)
جماعت اسلامی
(9)
جمعیت
(1)
چائے
(1)
حا
(1)
حسن البنا
(1)
حمد
(1)
خط
(3)
خیال
(9)
دعا
(3)
دنیا
(6)
دوست
(13)
ڈائری
(14)
راہبانیت
(3)
رمضان المبارک
(2)
رنگ
(3)
روز نامچہ
(37)
زندگی
(81)
سائینس
(1)
سفر
(13)
سفرنامہ
(6)
سیاست
(30)
سید مودودی
(1)
سیدقطب
(2)
سیر
(8)
سیکیولرازم
(5)
شاعری
(111)
شوگران
(1)
علم
(28)
عید
(1)
غزل
(63)
غزل فلسفہ
(3)
فلسفہ
(36)
فلسفہ شہادت
(4)
قاضی حسین احمد
(2)
قواڈ کوپٹر
(1)
کاش
(28)
کرب
(3)
کشمیر
(1)
کھوڑ
(1)
گاؤں
(1)
لاہور
(4)
لسی
(1)
ماں
(2)
محرم
(1)
مزاحیہ تحریر
(37)
مسجد
(13)
مشرق وسطی
(3)
ملک انس اعوان
(13)
مودودی
(1)
مولوی
(3)
نعت
(1)
نوجوان
(13)
وادی سون
(1)
والد محترم
(2)
وضو
(1)
ہیومن ازم
(1)
یادداشت
(4)
یونیورسٹی
(10)
Anasinqilabi
(2)
Business
(1)
CIIT ATTOCK
(117)
Column
(29)
COMSATS ATTOCK
(112)
CSAC
(11)
English
(4)
humanism
(3)
Islam
(1)
Malik Anas Awan
(127)
Mother
(1)
Turkey
(1)
آمدو رفت
دیہان کی زد پہ
Muhammad Anas Awan
0
comments
0
comments