دیہان کی زد پہ

0 comments

سر کے نیچے بازو کا تکیہ دیے، بند آنکھوں کے سامنے پھیلی ہوئی لا محدود غیر مرئی کائنات کے دھوئیں میں گویا میں اکلوتا تماش بین ہوں. رنگ ہا رنگ کی ان گنت کہکشائیں قطار اندر قطار ایک دوسرے سے ملتی اور جدا ہوتی ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں، جن کے پس منظر میں ان گنت بھانت بھانت کی بولیاں، لہجے، اور رویے "نوری گرد" کی صورت میں محو سفر ہیں. اس نوری گرد کے ایک ایک ذرے کا باہم فاصلہ سینکڑوں برس سے زیادہ طویل ہے، گویا صدیوں سے ان کا ربط "فاصلہ" ہی ہے . یہ تمام منظر اور پس منظر ایک ایسے گھماؤ دار سفر پہ روانہ ہیں جسکا محور اور مرکز  اس کا وہ مرکز ہے جو اپنے آپ میں لا یعنی ہے .افسوس یہ ہے کہ تحریر(جو کہ بذات خود ایک صورت ہے) میں لانے سے پہلے وہ ہزاروں کہکشاؤں کا موجد ایک بے دیہان لمحہ محض ایک بے خیال لمحہ ہی تھا، جو تحریر میں ڈھل کر دیہان کی زد پہ آ چکا ہے.
ملک انس اعوان