سیال ہوا

0 comments

ہمیں افسوس ہے کہ شیخوپورہ آ کر ہوا اور بادلوں سے اپنی دوستی کو برقرار نہیں رکھ پائے ، اس میں قصور صرف ہمارا ہی نہیں بلکہ اوروں کا بھی ہے. اول تو اب اہتمام سے ہوا کے انتظار میں بیٹھنا لاحاصل ہو چکا ہے کیونکہ سرسبز میدانی کھیتوں کو چھو کر آنے والی ہوا جب سڑک کے دونوں اطراف بھانت بھانت کے ان گنت کارخانوں کے سیاہی اگلتے بلند قامت دہانوں سے گزرتی ہے تو ان کی سیاہی اور کارخانوں میں کام کرنے والوں کی پریشانیاں اپنے تن بدن میں بھر لیتی ہے. اب یہ بےزار ہوا اگر کارخانوں کے صحن پھاند پھاند کر ہمارے تک پہنچی بھی تو کیا پہنچی؟
ارے ہاں بادلوں کا قصہ بھی کچھ ایسا ہی ہے مگر میدانی علاقوں کے بادل زرا مختلف مزاج کے ہوتے ہیں، یہ اہل پنجاب کی طرح سادہ ہی ہوتے ہیں اور انکے بارے میں ہر اندازہ درست ثابت ہوتا ہے. یہ آجائیں تو برستے ضرور ہیں، اس لیے ان میں تجسس کا عنصر نہ ہونے کے برابر ہے. اس طرح انتظار کا لطف جاتا رہتا ہے. اور رہی بات بارش کی تو اس سے پہلے ہی نفرت کا رشتہ ہے، بھلے نفرت کا ہی صحیح مگر ایک تعلق تو ہے جو غیر مشروط طور  پر ایک طویل عرصے سے نبھایا جا رہا ہے ....!

ملک انس اعوان

ناکارہ

0 comments

خوش ہیں بہت کہ میں بھی تہِ دام آ گیا
ناکارہ تھا بلا کا کسی کام آ گیا

ساقی سے لڑ رہا ہوں مگر احتیاط سے
یہ دیکھیے کہ ہاتھ میں پھر جام آ گیا

دربار شاہ میں سبھی خاموش تھے مگر
مرشد وہی ہے جس کے سر الزام آ گیا

ملک انس اعوان

مفکر امردو

0 comments

ہمارے ایک مفکر دوست جن کو حلقہ احباب نے سنجیدگی سے پڑھنا شروع کر دیا تھا، یونیورسٹی میں چھٹیاں ہونے پہ اپنے آبائی گاؤں چلے گئے. کچھ دنوں بعد انکا میسج ملا کہ ہم اور ایک اور ساتھی فلاں تاریخ کو گاؤں آ جائیں ،امرودوں کا سیزن چل رہا تھا لہذا ہم طے شدہ تاریخ پہ انکے گاؤں چلے گئے، صبح 10 بجے کا وقت تھا اس وقت عموماً زمیندار طبقہ ڈیروں پہ ہی پایا جاتا ہے اس لیے ہم سیدھا انکے ڈیرے پہ جا پہنچے. بوہڑ کے درخت کے نیچے موٹر سائیکل کھڑی کر کے دیکھا تو شٹالے (چارے کی ایک قسم) کے کھیت کو چیرتے ہوئے مفکرِ امت ہماری ہی جانب آ رہے تھے.
سلام دعا کے بعد ہم وہیں پی چارپائی پہ بیٹھ گئے اور مفکرِ امت نے ملازم کو امرود لانے کے لیے بھیج دیا. کچھ ہی دیر میں ملازم امرودوں کے ساتھ واپس آ گیا. اب صورتحال یہ تھی کہ ایک جانب مفکر صاحب امت کے درد پھرول (ٹٹولنا) رہے تو دوسری جانب نہایت توجہ سے درانتی کی مدد سے امرودوں کے سینے کھول رہے تھے. اسی اثنا میں مغربی جانب کی پگڈنڈی سے انکے والد محترم جو ایک سخت لیکن دل کے کھرے آدمی ہیں، بھی ہماری طرف آتے ہوئے دکھائی دیے. انکے والد صاحب سلام دعا کے بعد پاس لگےدستی نکلے پہ اپنے چیکڑ والے جوتے دھونے لگے.
پہلے والا منظر تو آپ کو یاد ہی ہوگا. والد صاحب کی آمد کے بعد مفکر صاحب کی آواز تو دھیمی پڑ چکی تھی مگر سلسلہ کلام جاری تھا، بات پاکستان سے ہوتے ہوئے مشرق وسطی میں پہنچ چکی تھی.
انکے والد صاحب نے گیلے جوتے جھاڑتے ہوئے اونچی آواز میں بیان جاری کیا
"مفکر پتر جے اج اک وی مجھ بھکی رہ گئی ناں تے تیریاں چباریاں میں بھن دیاں گا"
یہ بات سنتے ہی مفکر امت نے درانتی سنبھالی اور قدرے خفگی کے تاثر کے ساتھ کہنے لگے
"یہ تو ہمارے معاشرے کا طرز عمل ہے!"
یہ سنتے ہی انکے والد محترم نے فرمایا
"معاشرے دی وی.... آہو"
در اصل انہوں یہاں آہو نہیں بولا تھا، یہ ہم نے لکھا ہے تاکہ آپ پنجابی زبان کی فصاحت و بلاغت کا ادراک کر سکیں 😂😂
اس کے بعد انکے ابا جان سے تو باہمی دلچسپی کے امور پہ ہم کافی دیر گپ شپ کرتے رہے..... اس دوران کبھی کبھار شٹالے کے کھیت میں سے دانشور محترم کا سر برآمد ہوتا جو اپنے ابا جان کے متوجہ ہوتے ہی دوبارہ سبزے میں گم ہو جاتا 😂😂😂

ملک انس اعوان

عزیز دوست

0 comments

خیالات کے گھوڑے بھاگ بھاگ کر تھک چکے تھے. سر میں درد کی باریک ٹیسیں معلوم ہو کر معدوم ہوئی جا رہی تھیں. ہم سگریٹ نہیں پیتے تھے کہ جلا لیتے اور غبار دھوئیں میں اڑا دیتے لیکن  ہم نے انگوٹھی ضرور پہن رکھی تھی جسے ہم  دو سے تین بار اتار کر پہن چکے تھے.
خلا میں بھی دیکھ چکے تھے وہاں بھی ہمارے لیے کچھ نہیں تھا،کچھ بھی ایسا نہیں تھا کہ جس کو دیکھ کر ہم کچھ لمحات کے لیے اس میں محو ہو سکیں .
ریت کا وہ پہاڑ جو یہاں آنے سے پہلے ہم نے سوچ رکھا تھا ہاتھ میں پکڑی ریت کی مانند پھسلتا جا رہا تھا. اور اب اس پہاڑ کی جگہ ایک چٹیل میدان تھا جو ایک میز کا روپ دھارے ہماری نظروں کے سامنے پڑا ہوا تھا جس کی ایک جانب ہم دوسری جانب وہ بیٹھے ہوئے تھے.
ہم بات شروع نہیں کرنا چاہتے تھے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس رسمی گفتگو میں کون کون سے جملے کس کس ترتیب سے ادا کیے جائیں گے اور اس کے بعد سکوت کا دور شروع ہو جائے گا ......... لیکن یہی قیامت کی خامشی ان رسمی جملوں کے تبادلے کے بغیر ہی اب تک قائم تھی.
ہم کس طرح اسے بتاتے کہ اس کے ایک ایک facial expression اور اس کے پیچھے کی کہانی کو ہم جانتے ہیں، ہم جانتے ہیں کہ یہ ٹھہر ٹھہر کر ادا ہونے والے مختص جملے کہاں پیدا اور کیسے پیدا ہوتے ہیں اور کیونکر ہم تک پہنچائے جاتے ہیں.
ہم کیسے بتاتے کہ ہم اسکی سوچ کو سطحی سوچ گردانتے ہیں اور اس کو بدلنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں. ایسی کوشش جو اس کے خالی پن کو تو بھر دے لیکن اس کے زہن کے فطری سانچے کو تبدیل نہ کرے. وہ جیسے ہیں وہ ویسے ہی رہیں لیکن بدل بھی جائیں. یہاں الفاظ کی تسبیح بکھرنے لگتی ہے.
کیونکہ ہمارا مطلوبہ "معنی"تمام جزئیات کے ساتھ اس کے ہاں defined نہیں ہے. لیکن یہ ہمارے بیان کی کمزوری ہے معنی کی نہیں. ہم نہیں چاہتے کہ کسی معنی کو  بیان کرنے کے کے لیے ہم استعاروں سے مدد لینے کی ناکام کوشش کریں مبادا وہ کچھ ایسا معنی نہ سوچ لیں جو ہمارا مقصود ہی نہیں...!
ہم کانچ سے بنے ہوئے معنی کے اس عالیشان محل کو ایک  استعارے کی  زد پہ نہیں رکھ سکتے.....!
خلوص کی حدود کو چھوتی ہوئی اس لطیف احتیاط کو کوئی نام دینے سے  پہلے ہی ہم واپس اسی کرسی پہ واپس آ چکے ہوتے ہیں اور اسی اثنا میں آہستہ آہستہ دور دور سے آنے والی باریک باریک آوازیں سکوت کا شیرازہ بکھیر کر شور کا طوفان برپا کر چکی ہوتی ہیں، جس میں محض طے شدہ رسمی جملوں کے   تبادلے ہی ممکن ہو پاتے ہیں.
لیکن...... ائے عزیز دوست اتنے سالوں کی ڈھیروں ملاقاتوں اور ملاقاتوں کے لاکھوں جملوں کے بعد بھی ایسا بہت کچھ باقی ہے جو نہ تو سنا جا سکا ہے اور نہ کہا جا سکا ہے.

ملک انس اعوان


زندہ لاش

0 comments

ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ آپ کے پاس دیکھنے کے لیے آنکھیں ، سننے کے لیے کان ، بولنےکے لیے زبان،چلنے کے لیے ٹانگیں ،کام کاج کے لیے ہاتھ ،سوچنے کے لیے دماغ ، الغرض اپنے وجود کے ثبوت کے لیے آپ کے پاس ایک عدد جسم ہے ، اسی جسم کہ جس پہ آپ نے دور جدید سے مطابقت رکھنے واالا لباس زیت تن کر رکھا ہے ۔اس کے علاوہ آپ کے پاس ایک منفرد سی شخصیت ،حلقہ احباب ، یار ،دوست ،دشمن سب موجود ہیں ۔۔۔لیکن ٹھہریے !!!
آپ میں "احساس" نہیں ہے ۔۔۔۔معذرت کے ساتھ۔۔۔۔۔ انتہائی معزرت کے ساتھ میں آپکو کم از کم انسان نہیں کہہ سکتا، میں بول نہیں سکتا ، نہ ہی لکھ سکتا ہوں ۔ میرے نزدیک آپ ایک لاش ہیں ۔۔۔ایک خوبصورت ، زندہ ۔۔۔۔۔لاش۔۔۔۔۔۔۔!

ملک انس اعوان