مفکر امردو

0 comments

ہمارے ایک مفکر دوست جن کو حلقہ احباب نے سنجیدگی سے پڑھنا شروع کر دیا تھا، یونیورسٹی میں چھٹیاں ہونے پہ اپنے آبائی گاؤں چلے گئے. کچھ دنوں بعد انکا میسج ملا کہ ہم اور ایک اور ساتھی فلاں تاریخ کو گاؤں آ جائیں ،امرودوں کا سیزن چل رہا تھا لہذا ہم طے شدہ تاریخ پہ انکے گاؤں چلے گئے، صبح 10 بجے کا وقت تھا اس وقت عموماً زمیندار طبقہ ڈیروں پہ ہی پایا جاتا ہے اس لیے ہم سیدھا انکے ڈیرے پہ جا پہنچے. بوہڑ کے درخت کے نیچے موٹر سائیکل کھڑی کر کے دیکھا تو شٹالے (چارے کی ایک قسم) کے کھیت کو چیرتے ہوئے مفکرِ امت ہماری ہی جانب آ رہے تھے.
سلام دعا کے بعد ہم وہیں پی چارپائی پہ بیٹھ گئے اور مفکرِ امت نے ملازم کو امرود لانے کے لیے بھیج دیا. کچھ ہی دیر میں ملازم امرودوں کے ساتھ واپس آ گیا. اب صورتحال یہ تھی کہ ایک جانب مفکر صاحب امت کے درد پھرول (ٹٹولنا) رہے تو دوسری جانب نہایت توجہ سے درانتی کی مدد سے امرودوں کے سینے کھول رہے تھے. اسی اثنا میں مغربی جانب کی پگڈنڈی سے انکے والد محترم جو ایک سخت لیکن دل کے کھرے آدمی ہیں، بھی ہماری طرف آتے ہوئے دکھائی دیے. انکے والد صاحب سلام دعا کے بعد پاس لگےدستی نکلے پہ اپنے چیکڑ والے جوتے دھونے لگے.
پہلے والا منظر تو آپ کو یاد ہی ہوگا. والد صاحب کی آمد کے بعد مفکر صاحب کی آواز تو دھیمی پڑ چکی تھی مگر سلسلہ کلام جاری تھا، بات پاکستان سے ہوتے ہوئے مشرق وسطی میں پہنچ چکی تھی.
انکے والد صاحب نے گیلے جوتے جھاڑتے ہوئے اونچی آواز میں بیان جاری کیا
"مفکر پتر جے اج اک وی مجھ بھکی رہ گئی ناں تے تیریاں چباریاں میں بھن دیاں گا"
یہ بات سنتے ہی مفکر امت نے درانتی سنبھالی اور قدرے خفگی کے تاثر کے ساتھ کہنے لگے
"یہ تو ہمارے معاشرے کا طرز عمل ہے!"
یہ سنتے ہی انکے والد محترم نے فرمایا
"معاشرے دی وی.... آہو"
در اصل انہوں یہاں آہو نہیں بولا تھا، یہ ہم نے لکھا ہے تاکہ آپ پنجابی زبان کی فصاحت و بلاغت کا ادراک کر سکیں 😂😂
اس کے بعد انکے ابا جان سے تو باہمی دلچسپی کے امور پہ ہم کافی دیر گپ شپ کرتے رہے..... اس دوران کبھی کبھار شٹالے کے کھیت میں سے دانشور محترم کا سر برآمد ہوتا جو اپنے ابا جان کے متوجہ ہوتے ہی دوبارہ سبزے میں گم ہو جاتا 😂😂😂

ملک انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔