عزیز دوست

0 comments

خیالات کے گھوڑے بھاگ بھاگ کر تھک چکے تھے. سر میں درد کی باریک ٹیسیں معلوم ہو کر معدوم ہوئی جا رہی تھیں. ہم سگریٹ نہیں پیتے تھے کہ جلا لیتے اور غبار دھوئیں میں اڑا دیتے لیکن  ہم نے انگوٹھی ضرور پہن رکھی تھی جسے ہم  دو سے تین بار اتار کر پہن چکے تھے.
خلا میں بھی دیکھ چکے تھے وہاں بھی ہمارے لیے کچھ نہیں تھا،کچھ بھی ایسا نہیں تھا کہ جس کو دیکھ کر ہم کچھ لمحات کے لیے اس میں محو ہو سکیں .
ریت کا وہ پہاڑ جو یہاں آنے سے پہلے ہم نے سوچ رکھا تھا ہاتھ میں پکڑی ریت کی مانند پھسلتا جا رہا تھا. اور اب اس پہاڑ کی جگہ ایک چٹیل میدان تھا جو ایک میز کا روپ دھارے ہماری نظروں کے سامنے پڑا ہوا تھا جس کی ایک جانب ہم دوسری جانب وہ بیٹھے ہوئے تھے.
ہم بات شروع نہیں کرنا چاہتے تھے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس رسمی گفتگو میں کون کون سے جملے کس کس ترتیب سے ادا کیے جائیں گے اور اس کے بعد سکوت کا دور شروع ہو جائے گا ......... لیکن یہی قیامت کی خامشی ان رسمی جملوں کے تبادلے کے بغیر ہی اب تک قائم تھی.
ہم کس طرح اسے بتاتے کہ اس کے ایک ایک facial expression اور اس کے پیچھے کی کہانی کو ہم جانتے ہیں، ہم جانتے ہیں کہ یہ ٹھہر ٹھہر کر ادا ہونے والے مختص جملے کہاں پیدا اور کیسے پیدا ہوتے ہیں اور کیونکر ہم تک پہنچائے جاتے ہیں.
ہم کیسے بتاتے کہ ہم اسکی سوچ کو سطحی سوچ گردانتے ہیں اور اس کو بدلنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں. ایسی کوشش جو اس کے خالی پن کو تو بھر دے لیکن اس کے زہن کے فطری سانچے کو تبدیل نہ کرے. وہ جیسے ہیں وہ ویسے ہی رہیں لیکن بدل بھی جائیں. یہاں الفاظ کی تسبیح بکھرنے لگتی ہے.
کیونکہ ہمارا مطلوبہ "معنی"تمام جزئیات کے ساتھ اس کے ہاں defined نہیں ہے. لیکن یہ ہمارے بیان کی کمزوری ہے معنی کی نہیں. ہم نہیں چاہتے کہ کسی معنی کو  بیان کرنے کے کے لیے ہم استعاروں سے مدد لینے کی ناکام کوشش کریں مبادا وہ کچھ ایسا معنی نہ سوچ لیں جو ہمارا مقصود ہی نہیں...!
ہم کانچ سے بنے ہوئے معنی کے اس عالیشان محل کو ایک  استعارے کی  زد پہ نہیں رکھ سکتے.....!
خلوص کی حدود کو چھوتی ہوئی اس لطیف احتیاط کو کوئی نام دینے سے  پہلے ہی ہم واپس اسی کرسی پہ واپس آ چکے ہوتے ہیں اور اسی اثنا میں آہستہ آہستہ دور دور سے آنے والی باریک باریک آوازیں سکوت کا شیرازہ بکھیر کر شور کا طوفان برپا کر چکی ہوتی ہیں، جس میں محض طے شدہ رسمی جملوں کے   تبادلے ہی ممکن ہو پاتے ہیں.
لیکن...... ائے عزیز دوست اتنے سالوں کی ڈھیروں ملاقاتوں اور ملاقاتوں کے لاکھوں جملوں کے بعد بھی ایسا بہت کچھ باقی ہے جو نہ تو سنا جا سکا ہے اور نہ کہا جا سکا ہے.

ملک انس اعوان


0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔