دنیا ایک دھوکہ ہی تو ہے۔۔!!!!

0 comments

زندگی ایک دھوکہ ہی تو ہے بلکہ دھوکوں کا مجموعہ ہے۔ ہر طرف لفظوں کے،چہروں کے،مزاجوں کے ، رویوں کے ،ظا ہر کے، باطن کے،حاضر کے ،غائب کے،اچھائیوں کے،خوشیوں کے ،ہمدردی کے ،تکلیف کے،دوستی کے،رشتوں کے یہاں تک کہ خلوص کے دھوکے ہی تو ہیں۔ اور یہی دھوکے تو جینے کا،زندہ رہنے کا اوراپنی شناخت  قائم رکھنے کا سبق دیتے ہیں ۔یہی  دھوکے اور فریب ہمیں سکھاتے ہیں کہ  کس طرح رشتوں کو چھانٹی کیا جائے اور خون دے کر پروان چڑھایا جائے۔یہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ کس طرح اچھائی اور برائی میں فرق کیا جائےاور مخصوص حالات میں کس طرح کم سے کم برائی کا  ساتھ دے کر اس جہانِ فانی میں دائمی خوشیاں حاصل کی جائیں۔اور سبق حاصل کرنا بھی ایک فن ہے۔کہا جاتا ہے کہ اگر ایک گدھے کو  خانہ کعبہ کا طواف بھی کروا دیا جائے تو وہ گدھا ہی رہتا ہے۔ یعنی  آپ اس دنیا      میں آئے اوراور آنکھیں اور دل بند کیے ایک  پہلے سے طے کردہ  پروگرام کو سرانجام دیتے ہوئے مر گئے تو آخر میں کیا حاصل ہو ؟ کچھ بھی نہیں۔نہ کسی کو  آمد کا پتہ چلا اور نہ ہی کسی کو جانے کی خبر ہوئی۔ یہ دنیا تو آنکھیں اور دل رکھنے والوں کی دنیا ہے۔سمجھنے اور سمجھانے والوں کی دنیا ہے۔ڈرنے اور ڈرانے والوں کی دنیا ہے۔غور کرنے اور توجہ دلانے والوں کی دنیا ہے۔سب سے پہلے تو تبدیلیوں کو باریکی سے محسوس اور پرکھنے والے دماغ کی ضرورت ہوتی ہےجو آپ کے گرد چھوٹی سے چھوٹی تبدیلی کو بھی بھانپ لے ۔اس کے بعد آپ کے دماغ کا دائرہ ختم اور دل کا کام شروع ہو جاتا ہے۔اور جب دل فیصلہ کرنے لگتا ہے تو وہ دراصل آپ  اپنے اصل کااظہار کر رہے ہوتے ہیں۔جان لیجیے وہ دل ،دل ہے ہی نہیں ہے جس میں خلوص موجود نہ ہو۔کیوں کہ خلوص دنیا کا وہ واحد جذبہ ہے جو کبھی بھی آپکو گمراہ  نہیں کرتا ۔ہمیشہ اچھائی اور بلندی کی طرف لے کر جاتا ہے۔اگر دشمنی بھی خلوص کے ساتھ کی جائے تو  باہمی کدورتیں مٹ جاتیں ہیں۔خلوص دنیا کے ہر زہر کا تریاق ہے۔ اب اگلا مرحلہ پُر خلوص  دل کے ساتھ فیصلہ کرنے اور اُس پر ثابت قدم رہنے کا ہے۔اپنے نفس کو اپنے ہاتھوںشکست دینے کا ہے۔یہ ''ع ش ق ''  دراصل نفس کی نفی ہی تو ہے۔اور پھر جب اپنے یار (اللہ) پر کامل ایمان ہو تو  پھر 'تو ' اور 'میں' کا جھگڑا ہی ختم ہو جاتا ہے۔کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ۔

مریض عشق ہے تو ودائے دل سمجھ دلبر کو
پھر مرض جانے،دوا جانے،شفا جانے خدا جانے
پھر ضد کیا انا کیا اور غرور کیا سب کچھ خودبخود انسان کے اندد ہی دفن ہو  جاتا ہے۔پھر حکم بھی یارکا چلتا ہے دراصل یہ معاملہ ہی سپردگی کا ہے،اپنے اندر کسی اور کا رنگ بھرنے کا ہے،کسی  کےرنگ میں رنگ جانے کا ہے۔یعنی کہ ہم نے دماغ  سے بھی سوچا اور پُر خلوص دل سے فیصلہ بھی کرلیا ۔نتیجے میں ہمیں وہ یقین ملتا ہے جو اس دنیا کی سبھی مشکلات کو سہنے اور بڑی سے بڑی آزمائش کا سامنا کرنے کا حوصلہ اور انتہائی مشکل صورت حال میں انسان کو ٹوٹنے  اور بکھرنےسے بچا کر پُر امید کر دیتا ہے۔پھر وہ مقام آتا ہے جب جب دنیا کے یہ تمام دھوکے انسان کے لیے تکلیف کا باعث نہیں بنتے بلکے امید کا باعث بنتے ہیں۔اللہ ہمیں بھی یقینِ کامل  اور اپنے دین پر ثابت قدمی عطا فرمائے۔
آمین
تحریر         

ملک انس اعوان

غزل

0 comments
غزل
کسی کا ذکر کسی کی زباں ہو گا
یہ زہر میرے سینے پہ جوان ہو گا
کردی زخمِ لبِ جگر کی شکایت کس نے
کمال کرتے ہیں  یہ کب مجھ سے بیاں ہوگا
وہ کہے بھی تو اُس کے ذکر پہ آئیں کیونکر
پہل آنکھوں پہ پھر زباں پر رواں ہو گا
کافر ہوگا  جونہ بولے تیری تعریف میں کچھ
مر ہی جائے جو تیری محفل میں بے زباں ہوگا
(ملک انس اعوان حزبیؔ)


وقت ،اعمال اور دور کھڑی توبہ،آخر پہل کون کرے؟

0 comments
کاش یہ وقت پیچھے کیا جاسکتا ۔کاش ہم زمانے کو اُلٹا چلا سکتے ۔کاش ہم اپنی غلطیاں سُدھار سکتے۔لیکن نہ وقت پیچھے جائے گا اور نہ ہی زمانہ اُلٹ چلے گا۔وقت کے درمیان ہم اور ہمارے اعمال ایک دوسے کا منہ تک رہے ہیں ۔ہر کوئی یہ سوچ رہا ہے پہل وہ کرے لیکن دونوں میں سے کسی کا دیہان بھی گزرتے ہوئے وقت کی جانب نہیں ہے ۔اگر ہم ایسے ہی کھڑے رہے تو ایک وقت ایسا بھی آئے گا  کہ وقت رک جائے گا اور ہمارے اور ہمارے اعمال کے درمیان آ کھڑا ہو گا اور تیسرا فریق بن جائے گا۔اب حساب شروع کیا جائے گا۔
 وقت کہے گا کہ آئے اللہ میں نے ان دونوں کو کافی وقت دیا کہ یہ توبہ کر لے لیکن یہ بدستور کھڑا رہا اور دیکھتا رہا۔اُسی لمحے اعمال چیخ اُٹھیں گے کہ ائے اللہ میرا کوئی قصور نہیں مجھے تو خود اس شخص نے پیدا کیا ہے،حرام اور گناہوں سے پال پوس کر بڑآ کیا ہے میں کس طرح اپنے بنانے والے کے آگے بول سکتا ہوں۔ یاد رکھیے کہ اعمال کبھی اپنے بنانے والے کو نہیں روکتے۔برے اعمال کو اگر روکنا ہے تو وقت کی لیمیٹ ختم ہونے سے پہلے توبہ کر لیں۔بس ایک دفعہ سچے دل سے توبہ۔ توبہ کرنے مین حرج ہی کیا ہے ۔اللہ راز رکھنے والا ہے وہ کسی اور کو خبر ہی نہیں ہونے دیتا کہ وہ تم سے راضی ہو گیا ہے۔توبہ کرو جب محسوس کرو کہ تمھارا دل گناہ پر مائل نہیں ہو رہا تو  سمجھ لینا کے اللہ اور تمھارا معاملہ طے پا گیا ہے۔بس ایک دفعہ جو معاملہ طے پا جائے پھر اپس پر ثابت قدم رہنا کہیں ایسا نہ ہو کے پھر تم اپنے پیدا کیے ہوئے اعمال کے فریب میں آ جاؤ۔دیکھو اعمال تو اولاد کی طرح ہوتے ہیں ۔اور اولاد تو ویسے ہی ایک فتنہ ہے۔فتنو سے بچ جاؤ۔اور دعا کرو کہ ہم سب جنت میں اکٹھے ہوں
آمین

قواڈ کوپٹر (QuadCopter) کیا ہوتا ہے؟

0 comments
آج کل ہمارے ملک میں انقلاب کا سیزن چل رہا ہے اور میڈیا اس حوالے سے کافی سر گرم نظر آ رہا ہے ۔آجکل اکثر ٹی وی پر فضائی مناظر دکھائے جاتے ہیں جو کہ کا فی فائدہ مند رہتا ہے۔اس مقصد کے لیے جس آلے کو استعمال کیا جاتا ہے اُس کو  قواڈکوپٹر کہا  جاتا ہے۔اسے کے لیے یو-اے-وی کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔یعنی بغیر پائیلٹ کے طیارہ۔دنیا کا پہلا قواڈ کوپٹر 1907 میں ایک فرانسیسی سائینس دان نے بنایا جو کہ صرف  چند فیٹ فضا میں بلند ہوا اس کے بعد کوششوں کا سلسلہ چل نکلا۔یہ پروگرام سالہا سال خفیہ ایجنسیوں  نے چھپائے رکھا اورایسے ماڈل بھی تیار کیے جو اپنے ساتھ 30 کیلیبر کی بندوق اور میزائیل کے کر بھی اُڑ سکتے ہیں۔
 تکنیکی طور پر یہ 4 پنکھوں والا طیارہ 1 پنکھے والے ہیلی کوپٹر سے آسان ہے کیو ںکہ اس میں ایک ہی ایکسل پر دوسرے نچلے پنکھے کو مخالف سمت میں گھمانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔اور 4 پنکھوں کی موجودگی سے پرواز متوازن ہو جاتی ہے۔آمنے   سامنے والے دونوں پنکھے ایک ہی سمت میں گھومتے ہیں اور دوسرے 2 پنکھے بھی اُلٹی سمت میں پہلے والے دونوں پنکھوں کے مخالف گھومتے ہیں۔
مارکیٹ میں برینڈڈ قواڈ کوپٹر جس کے ساتھ ایک عدد (ایچ-ڈی) کیمرہ بھی نصب ہوتا ہے پاکستانی روپوں میں کم از کم قیمت 1 لاکھ50 ہزار کے قریب ہے۔
چارجنگ کا وقت 1 گھنٹہ جبکہ اُڑان کا دورانیہ صرف 15 منٹ ہے۔پیکنگ میں ایک عدد رموٹ کنررولر،اضافی بیٹری،غیر اسمبل شدہ کچھ حصے اور ایک عدد بہترین کیمرہ ہوتا ہے۔کیمرہ وائیرلیس ٹیکنالوجی کے باعث آپکے کمپیوٹر سے بھی منسلک
ہو جاتا ہے۔جس کے ذریعے آپ دوران پرواز ائیریل ویو سے بھی لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ ایک جدیدی ترین غیر عسکری قواڈ کوپٹر کی تصویر دی گئی ہے۔
اس ٹیکنالوجی سے سائینس اور تحقیق  کے میدان میں سر گرم افراد کو بہت مدد ملی ہے-پاکستان کی نجی یونیورسٹیز میں بھی طالب علم اس کے کامیاب تجربے کر چکے ہیں
ملک انس اعوان

ہماری ثقافت

0 comments

جب ہم چھوٹے ہوا کرتے تھے تو بس ایک سرکاری چینل ہوا کرتا تھا۔پھر ہم نے اپنی آنکھوں سے ایک مار شل لاء  کا دور دیکھا۔اس دور کے دوران ہم کئی نئی چیزوں سے روشناس ہوئے۔ایک طرف ملک میں  این-جی-اوز کی بھرمار  ہو گئ اور دوسری طرف کئی ٹی وی چینلز نے اپنی نشریات کا آغاز کر دیا۔  ٹی وی نشریات کا دورانیہ بڑھا کر 24 گھنٹے کر دیا گیا۔آہستہ آہستہ ہمیں بتایا  جانے لگا کہ  ائے پاکستانی قوم تم تو انتہا پسند اور  بنیاد پرست قوم ہو اگر ترقی کرنی ہے تو تمہیں روشن خیال ہونا پڑے گا۔  اس مشن کو لے کر این-جی-اوز ملک بھر میں پھیل گئیں اور سب سے پہلے ہمارے امراء کو اپنے نظریات پر قائل کیا جانے لگا۔کہا جاتا ہے کہ  کسی بھی قوم کا امیر طبقہ دراصل  پورے معاشرے کا ٹرینڈ سیٹر  ہوتا ہے۔پھر اچانک سے ہمارے سامنے آزادی نسواں کا پرچم لیے خواتیں سڑکوں پر  آ گئیں ۔جگہ جگہ  اس حوالے سے  سیمینار اور تقاریب کا انعقاد ہونے لگا۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہی آزادی نسواں ہے۔آہستہ آہستہ یہ جن بوتل سے باہر آتا گیااور اتنا بڑا اور طاقت ور ہو گیا کے اس کو واپس  بوتل ڈالنا ممکن نہ رہا۔پھر میڈیا نے  ہمیں ثقافت کے نام پر گند دکھانا شروع کر دیا اور ہمیں بتایا جانے لگا کہ آپ کی اصل ثقافت تو ناچ گانا ہے۔ ہم پاکستانی ویسے ہی بہت بے فکر قوم ہیں فکر کرنے کام تو یہ قوم کب کا اسرائیل اور امریکہ کو دے چکی ہے۔ اب معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام پر عمل کرنا ہی مشکل ہو گیا ہے۔آپ کو تب تک تعلیم یافتہ مانا ہی نہیں جاتا جب تک آپ اوپر سے نیچے تک انگریز نظر نہ آئیں۔ہم ثقافت کے اعتبار سے اتنی طرقی کر چکے ہیں کہ ہمارے ملک میں اعلی تعلیمی اداروں میں اگر آپ شلوار قمیض زیب تن کر کے چلے جائیں تو ہزاروں آنکھیں آپکو اس طرح  سے دیکھ رہی ہوتیں ہے جیسے ناجانے آپ نے کیا جرم کر ڈالا ہے۔یہی نہیں بلکے ہمارے دارالحکومت اسلام آباد(جہاں اسلام کو آباد ہونا تھا) وہاں ایسے تعلیمی ادارے بھی موجودہیں جہاں آپ  سوائے جمعے کے دن کے اپنا قومی لباس نہیں پہن سکتے۔لیکن ہمارے تعلیمی اداروں میں کلچر ڈے کے نام سے ہر سال ایک دن ضرور منایا جاتا ہے جہاں  کلچر کے نام پرطوفانِ بدتمیزی اور رقص و سرور کی محفلیں سجائیں جاتیں ہیں۔عجیب بات یہ ہے  کہ اب اس پر فکر کی بجائے فخر کیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں اگر ہم یہ گمان کریں کہ ہماری مائیں  محمد بن قاسم اور صلاح الدین ایوبی جیسے فرزند پیدا کریں گی تو یہ انتہائی مضحکہ خیز ہوگا۔