وقت ،اعمال اور دور کھڑی توبہ،آخر پہل کون کرے؟

0 comments
کاش یہ وقت پیچھے کیا جاسکتا ۔کاش ہم زمانے کو اُلٹا چلا سکتے ۔کاش ہم اپنی غلطیاں سُدھار سکتے۔لیکن نہ وقت پیچھے جائے گا اور نہ ہی زمانہ اُلٹ چلے گا۔وقت کے درمیان ہم اور ہمارے اعمال ایک دوسے کا منہ تک رہے ہیں ۔ہر کوئی یہ سوچ رہا ہے پہل وہ کرے لیکن دونوں میں سے کسی کا دیہان بھی گزرتے ہوئے وقت کی جانب نہیں ہے ۔اگر ہم ایسے ہی کھڑے رہے تو ایک وقت ایسا بھی آئے گا  کہ وقت رک جائے گا اور ہمارے اور ہمارے اعمال کے درمیان آ کھڑا ہو گا اور تیسرا فریق بن جائے گا۔اب حساب شروع کیا جائے گا۔
 وقت کہے گا کہ آئے اللہ میں نے ان دونوں کو کافی وقت دیا کہ یہ توبہ کر لے لیکن یہ بدستور کھڑا رہا اور دیکھتا رہا۔اُسی لمحے اعمال چیخ اُٹھیں گے کہ ائے اللہ میرا کوئی قصور نہیں مجھے تو خود اس شخص نے پیدا کیا ہے،حرام اور گناہوں سے پال پوس کر بڑآ کیا ہے میں کس طرح اپنے بنانے والے کے آگے بول سکتا ہوں۔ یاد رکھیے کہ اعمال کبھی اپنے بنانے والے کو نہیں روکتے۔برے اعمال کو اگر روکنا ہے تو وقت کی لیمیٹ ختم ہونے سے پہلے توبہ کر لیں۔بس ایک دفعہ سچے دل سے توبہ۔ توبہ کرنے مین حرج ہی کیا ہے ۔اللہ راز رکھنے والا ہے وہ کسی اور کو خبر ہی نہیں ہونے دیتا کہ وہ تم سے راضی ہو گیا ہے۔توبہ کرو جب محسوس کرو کہ تمھارا دل گناہ پر مائل نہیں ہو رہا تو  سمجھ لینا کے اللہ اور تمھارا معاملہ طے پا گیا ہے۔بس ایک دفعہ جو معاملہ طے پا جائے پھر اپس پر ثابت قدم رہنا کہیں ایسا نہ ہو کے پھر تم اپنے پیدا کیے ہوئے اعمال کے فریب میں آ جاؤ۔دیکھو اعمال تو اولاد کی طرح ہوتے ہیں ۔اور اولاد تو ویسے ہی ایک فتنہ ہے۔فتنو سے بچ جاؤ۔اور دعا کرو کہ ہم سب جنت میں اکٹھے ہوں
آمین

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔