جب ہم چھوٹے ہوا کرتے تھے تو بس ایک سرکاری
چینل ہوا کرتا تھا۔پھر ہم نے اپنی آنکھوں سے ایک مار شل لاء کا دور دیکھا۔اس دور کے دوران ہم کئی نئی چیزوں سے روشناس ہوئے۔ایک
طرف ملک میں این-جی-اوز کی بھرمار ہو گئ اور دوسری طرف کئی ٹی وی چینلز نے اپنی نشریات کا آغاز کر
دیا۔ ٹی وی نشریات کا دورانیہ بڑھا کر 24 گھنٹے کر دیا گیا۔آہستہ آہستہ ہمیں بتایا جانے لگا کہ
ائے پاکستانی قوم تم تو انتہا پسند اور بنیاد پرست قوم ہو اگر ترقی کرنی ہے تو تمہیں روشن خیال ہونا پڑے گا۔ اس مشن کو لے کر این-جی-اوز ملک بھر میں
پھیل گئیں اور سب سے پہلے ہمارے امراء کو اپنے نظریات پر قائل کیا جانے لگا۔کہا
جاتا ہے کہ کسی بھی قوم کا امیر طبقہ
دراصل پورے معاشرے کا ٹرینڈ سیٹر ہوتا ہے۔پھر اچانک سے ہمارے سامنے آزادی نسواں
کا پرچم لیے خواتیں سڑکوں پر آ گئیں ۔جگہ
جگہ اس حوالے سے سیمینار اور تقاریب کا انعقاد ہونے لگا۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے دنیا کا سب سے بڑا
مسئلہ ہی آزادی نسواں ہے۔آہستہ آہستہ یہ جن بوتل سے باہر آتا گیااور اتنا بڑا اور
طاقت ور ہو گیا کے اس کو واپس بوتل ڈالنا
ممکن نہ رہا۔پھر میڈیا نے ہمیں ثقافت کے نام پر گند دکھانا شروع کر دیا
اور ہمیں بتایا جانے لگا کہ آپ کی اصل ثقافت تو ناچ گانا ہے۔ ہم پاکستانی ویسے ہی بہت بے فکر قوم ہیں فکر
کرنے کام تو یہ قوم کب کا اسرائیل اور امریکہ کو دے چکی
ہے۔ اب معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ
پاکستان میں اسلام پر عمل کرنا ہی مشکل ہو گیا ہے۔آپ کو تب تک تعلیم یافتہ مانا ہی
نہیں جاتا جب تک آپ اوپر سے نیچے تک انگریز نظر نہ آئیں۔ہم ثقافت کے اعتبار سے اتنی طرقی
کر چکے ہیں کہ ہمارے ملک میں اعلی تعلیمی اداروں میں اگر آپ شلوار قمیض زیب تن کر
کے چلے جائیں تو ہزاروں آنکھیں آپکو اس طرح
سے دیکھ رہی ہوتیں ہے جیسے ناجانے آپ نے کیا جرم کر ڈالا ہے۔یہی نہیں بلکے
ہمارے دارالحکومت اسلام آباد(جہاں اسلام کو آباد ہونا تھا) وہاں ایسے تعلیمی ادارے
بھی موجودہیں جہاں آپ سوائے جمعے کے دن کے اپنا قومی لباس نہیں پہن
سکتے۔لیکن ہمارے تعلیمی اداروں میں کلچر ڈے کے نام سے ہر سال ایک دن ضرور منایا
جاتا ہے جہاں کلچر کے نام پرطوفانِ بدتمیزی اور رقص و سرور کی محفلیں
سجائیں جاتیں ہیں۔عجیب بات یہ ہے کہ اب اس
پر فکر کی بجائے فخر کیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں اگر ہم یہ گمان کریں کہ
ہماری مائیں محمد بن قاسم اور صلاح الدین
ایوبی جیسے فرزند پیدا کریں گی تو یہ انتہائی مضحکہ خیز ہوگا۔
Ad
موضوعات
(1)
اٹک
(14)
احساس
(1)
ادب
(11)
استنبول
(4)
اسلام
(61)
اسلام ،سیاسی
(1)
اشعار
(1)
اعتکاف
(1)
افسانہ
(1)
الحاد
(3)
امام
(1)
انس انقلابی
(1)
انس نامہ
(233)
آزادنظم
(5)
بچپن
(3)
بنگلہ دیش
(1)
بھارت
(1)
پاکستان
(58)
پہلا روزہ
(1)
تحریر
(137)
تحقیق
(44)
تخیل
(8)
ترجمہ
(1)
ترکی
(3)
تصوف
(15)
توبہ
(2)
ثقافت
(13)
جدید تعلیم
(6)
جماعت اسلامی
(9)
جمعیت
(1)
چائے
(1)
حا
(1)
حسن البنا
(1)
حمد
(1)
خط
(3)
خیال
(9)
دعا
(3)
دنیا
(6)
دوست
(13)
ڈائری
(14)
راہبانیت
(3)
رمضان المبارک
(2)
رنگ
(3)
روز نامچہ
(37)
زندگی
(81)
سائینس
(1)
سفر
(13)
سفرنامہ
(6)
سیاست
(30)
سید مودودی
(1)
سیدقطب
(2)
سیر
(8)
سیکیولرازم
(5)
شاعری
(111)
شوگران
(1)
علم
(28)
عید
(1)
غزل
(63)
غزل فلسفہ
(3)
فلسفہ
(36)
فلسفہ شہادت
(4)
قاضی حسین احمد
(2)
قواڈ کوپٹر
(1)
کاش
(28)
کرب
(3)
کشمیر
(1)
کھوڑ
(1)
گاؤں
(1)
لاہور
(4)
لسی
(1)
ماں
(2)
محرم
(1)
مزاحیہ تحریر
(37)
مسجد
(13)
مشرق وسطی
(3)
ملک انس اعوان
(13)
مودودی
(1)
مولوی
(3)
نعت
(1)
نوجوان
(13)
وادی سون
(1)
والد محترم
(2)
وضو
(1)
ہیومن ازم
(1)
یادداشت
(4)
یونیورسٹی
(10)
Anasinqilabi
(2)
Business
(1)
CIIT ATTOCK
(117)
Column
(29)
COMSATS ATTOCK
(112)
CSAC
(11)
English
(4)
humanism
(3)
Islam
(1)
Malik Anas Awan
(127)
Mother
(1)
Turkey
(1)











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔