غزل

0 comments
غزل
کسی کا ذکر کسی کی زباں ہو گا
یہ زہر میرے سینے پہ جوان ہو گا
کردی زخمِ لبِ جگر کی شکایت کس نے
کمال کرتے ہیں  یہ کب مجھ سے بیاں ہوگا
وہ کہے بھی تو اُس کے ذکر پہ آئیں کیونکر
پہل آنکھوں پہ پھر زباں پر رواں ہو گا
کافر ہوگا  جونہ بولے تیری تعریف میں کچھ
مر ہی جائے جو تیری محفل میں بے زباں ہوگا
(ملک انس اعوان حزبیؔ)


0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔