زندگی ایک دھوکہ ہی تو ہے بلکہ دھوکوں کا مجموعہ ہے۔
ہر طرف لفظوں
کے،چہروں کے،مزاجوں کے ، رویوں کے ،ظا ہر کے، باطن کے،حاضر کے ،غائب کے،اچھائیوں
کے،خوشیوں کے ،ہمدردی کے ،تکلیف کے،دوستی کے،رشتوں کے یہاں تک کہ خلوص کے دھوکے ہی
تو ہیں۔ اور یہی دھوکے تو جینے کا،زندہ رہنے کا اوراپنی شناخت قائم رکھنے کا سبق دیتے ہیں ۔یہی دھوکے اور فریب ہمیں سکھاتے ہیں کہ کس طرح رشتوں کو چھانٹی کیا جائے اور خون دے کر
پروان چڑھایا جائے۔یہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ کس طرح اچھائی اور برائی میں فرق کیا
جائےاور مخصوص حالات میں کس طرح کم سے کم برائی کا ساتھ دے کر اس جہانِ فانی میں دائمی خوشیاں حاصل
کی جائیں۔اور سبق حاصل کرنا بھی ایک فن ہے۔کہا جاتا ہے کہ اگر ایک گدھے کو خانہ کعبہ کا طواف بھی کروا دیا جائے تو وہ
گدھا ہی رہتا ہے۔ یعنی آپ اس دنیا میں آئے اوراور آنکھیں اور دل بند کیے
ایک پہلے سے طے کردہ پروگرام کو سرانجام دیتے ہوئے مر گئے تو آخر
میں کیا حاصل ہو ؟ کچھ بھی نہیں۔نہ کسی کو
آمد کا پتہ چلا اور نہ ہی کسی کو جانے کی خبر ہوئی۔ یہ دنیا تو آنکھیں اور
دل رکھنے والوں کی دنیا ہے۔سمجھنے اور سمجھانے والوں کی دنیا ہے۔ڈرنے اور ڈرانے
والوں کی دنیا ہے۔غور کرنے اور توجہ دلانے والوں کی دنیا ہے۔سب سے پہلے تو
تبدیلیوں کو باریکی سے محسوس اور پرکھنے والے دماغ کی ضرورت ہوتی ہےجو آپ کے گرد
چھوٹی سے چھوٹی تبدیلی کو بھی بھانپ لے ۔اس کے بعد آپ کے دماغ کا دائرہ ختم اور دل
کا کام شروع ہو جاتا ہے۔اور جب دل فیصلہ کرنے لگتا ہے تو وہ دراصل آپ اپنے اصل کااظہار کر رہے ہوتے ہیں۔جان لیجیے وہ
دل ،دل ہے ہی نہیں ہے جس میں خلوص موجود نہ ہو۔کیوں کہ خلوص دنیا کا وہ واحد جذبہ
ہے جو کبھی بھی آپکو گمراہ نہیں کرتا
۔ہمیشہ اچھائی اور بلندی کی طرف لے کر جاتا ہے۔اگر دشمنی بھی خلوص کے ساتھ کی جائے
تو باہمی کدورتیں مٹ جاتیں ہیں۔خلوص دنیا
کے ہر زہر کا تریاق ہے۔ اب اگلا مرحلہ پُر خلوص
دل کے ساتھ فیصلہ کرنے اور اُس پر ثابت قدم رہنے کا ہے۔اپنے نفس کو اپنے
ہاتھوںشکست دینے کا ہے۔یہ ''ع ش ق '' دراصل نفس کی نفی ہی تو ہے۔اور پھر جب اپنے یار
(اللہ) پر کامل ایمان ہو تو پھر 'تو ' اور
'میں' کا جھگڑا ہی ختم ہو جاتا ہے۔کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ۔
مریض
عشق ہے تو ودائے دل سمجھ دلبر کو
پھر
مرض جانے،دوا جانے،شفا جانے خدا جانے
پھر
ضد کیا انا کیا اور غرور کیا سب کچھ خودبخود انسان کے اندد ہی دفن ہو جاتا ہے۔پھر حکم بھی یارکا چلتا ہے دراصل یہ
معاملہ ہی سپردگی کا ہے،اپنے اندر کسی اور کا رنگ بھرنے کا ہے،کسی کےرنگ میں رنگ جانے کا ہے۔یعنی کہ ہم نے
دماغ سے بھی سوچا اور پُر خلوص دل سے
فیصلہ بھی کرلیا ۔نتیجے میں ہمیں وہ یقین ملتا ہے جو اس دنیا کی سبھی مشکلات کو
سہنے اور بڑی سے بڑی آزمائش کا سامنا کرنے کا حوصلہ اور انتہائی مشکل صورت حال میں
انسان کو ٹوٹنے اور بکھرنےسے بچا کر پُر
امید کر دیتا ہے۔پھر وہ مقام آتا ہے جب جب دنیا کے یہ تمام دھوکے انسان کے لیے
تکلیف کا باعث نہیں بنتے بلکے امید کا باعث بنتے ہیں۔اللہ ہمیں بھی یقینِ کامل اور اپنے دین پر ثابت قدمی عطا فرمائے۔
آمین
تحریر
ملک انس اعوان










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔