بدلتا جا رہا ہوں

0 comments
میں بدلتا جا رہا ہوں
لمحہ لمحہ
 بکھرتا جا رہا ہوں
اَن چھوئی موم کی صورت
گرمیِ ہجر میں ڈھل کر
حدت شوق میں جل کر
پگھلتا جا رہا ہوں
شرم دے رہی ہے زیب
خود کو اور 
میں
اُلجھتا جا رہاہوں
گویا میرے ہم عصروں میں
کوئی بھی میرا ہم عصر نہیں
یعنی
اپنے مرکز سے
بھٹکتا جا رہا ہوں
دیدہ ذیب و خوش رنگ
عکس ہائے دنیا میں
دلوں سے
اترتا جارہا ہوں
میں بدلتا جا رہا ہوں
-----
انس اعوان


شاید ہم کچھ بھول رہےہیں

0 comments
23 مارچ کا دن بڑی دھوم دھام اور رنگوں کی روشنی میں دھل کر بیت گیا۔سارا دن ٹی وی سکرین پر پریڈ کے مناظر قومی وحدت کے تصوت کو واضح کرتے رہے۔ہاتھ میں بندوق پکڑے خاکی وردی میں ملبوس پاک فوج کے جوان دشمن کی آنکھیں نوچ ڈالنے کے عزم کا اظہار کرتے نظر آئے۔لوگوں نے اس دن کی مناسبت سے مناسب تیاریاں کیں گھروں میں قومی ترانے گونجتے رہے اور کچھ منچلے اپنی موٹر سائیکلوں پر بیٹھے پورے شہر کی سڑکیں ناپنے میں مصروف رہے۔لیکن آج شام ڈھلے میں کچھ کمی سی محسوس کر رہا ہوں۔
شاید بحیثیت قوم ہم کچھ بھول رہے ہیں ۔کچھ ایسا بھی ہے جو اس شور و غوں غاں میں چھپ کر رہ گیا ہے۔یہ اقبال کا وہ تصور ہے جو انہوں برصغیر کے مسلمانوں کے سامنے رکھا تھا۔وہی تصور کے جس کی عملی تصویر میں لاکھوں مہاجرین کی بے یارو مددگار پڑی ہوئی لاشوں اور نیزے کو جگر کے پار کرنے والوں ہزاروں نوجوانوں کا خون شامل ہے۔ یہ وہی تصور تھا کہ جس نے "Champion of Hindu Muslim Unity"کےخطاب یافتہ ایک عظیم انسان کہ جس کو دنیا محمد علی جناح کے نام سے جانتی ہے کو ایک مملکت خداداد  کے قیام کا بیڑا اپنا سر اُٹھانے کا فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا۔
آج جب ایک ٹی وی چینل پر مغربی تہذیب کی نمائیندگی کرتی ہوئی ایک خاتون قیام پاکستان پر گفتگو کرتی نظر آ رہی تھی تو دل میں ایک کانٹا سا چبھ گیا اور سر شرمندگی سے جھک گیا۔ہاں علامہ محمد اقبال ؒ ہم شرمندہ ہیں اور ہم شرمندہ ہیں ان لاکھوں بے گور لاشوں سے جو ایک اسلامی فلاحی ریاست کا خواب لیے اس دنیا سے اپنی خان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے رخصت ہو گئیں ۔ان کی کھلی ہوئی آنکھیں آج بھی ہمیں دیکھ کر آنسوؤں سے لبریز ہوں گی ۔کیا یہی وہ تصور تھا؟
آج سیاست سے لے کر معیشت تک اور انفرادیت سے لے اجتماعیت تک ہمارے پاس سب کچھ ہے سوائے اسلام کے وہی اسلام جو دو قومی نظریے کی بنیاد بنا اور یہی تو پاکستان کی اصل روح ہے کہ جس کی بدولت ہمیں یہ زمین کا ٹکڑا اللہ تعالی کی ذات اقدس کی جانب سے عطا کیا گیا۔آخر کب تک اس شور و غوں غاں کے اندر نظریہ پاکستان جو درحقیقت نظریہ اسلام ہے دبایا جاتا ر ہے گا ۔یاد رکھیے کہ اسلام کا ہر محاز پر دفاع ہم ملت اسلامیہ کے نوجوانوں کو ہی کرنا ہے۔پھر سے تحریک پاکستان کی اصل روح کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے اور اسے تعبیر کی شکل میں ڈھالنے کے عزم پیہم کی ضرورت ہے۔اور مایوس تو وہ ہوں کہ جن کا خدا نہیں ہے۔پوری قوم کی  امیدیں اب ان نوجوانوں سے ہیں جنہوں کے کبھی سوشل ازم اور سیکولر ازم کا مردانہ وار مقابلہ پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں میں کیا تھا۔اور وہ اب بھی اپنی پوری آ ب و تاب کے ساتھ پاکستان کی اصل روح کو بیدار کرنے کے لیے خون جگر جلانے کو تیار ہیں۔
قانونِ یہوداں ختم ہو
انجیل بھی ہے تحریف شدہ
دم توڑ گئے الحادی بھی
احمد ﷺ کی شریعت زندہ ہے
----------------------------------------------------------------------------------------------------
تحریر 
ملک انس اعوان


زندگی خرچ کیجئے

0 comments
ایک منٹ کے لئے اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا موبائل بند کر کے نیچے رکھ دیجئے،اور اپنے ارد گرد موجود سبھی چیزوں سے لا تعلق ہو کر سوچیے کہ "میں" کون ہوں اور کہاں ہوں؟ اس 24 گھنٹے کی مصروف زندگی میں جہاں نہ صبح کا پتہ چلتا ہے اور نہ شام کا ،اور یوں ہی بہتے ہوئے پانی کی طرح وقت گزرتا چلا جاتا ہے۔ابھی ایک کام ختم نہیں ہوتا اور دوسرا شروع ہو جاتا ہے۔فرصت کا کوئی لمحہ بھی دستیاب نہیں،تو پھر ایک طرف آپ سے منسلک لوگوں کی آپ سے توقعات اور آپکی لوگوں کی ساتھ جڑی ہوئی  توقعات آخر ان سب میں "میں" کہاں ہے؟؟
اصل بات ہی یہی ہے کہ اگر اس دنیا میں رہنا ہے تو "میں" سے انکار کرنا ہوگا،اور اس "میں " کو اپنے اندر سے ختم کرنا ہوگا،کیونکہ یہ دنیا دوسروں کی ہوتی ہے۔ایک دوسرے کے درمیان جو تعلقات اور توقعات ہوتی ہیں دنیا بس وہیں کہیں ہی ملتی ہے۔اسی دنیا کا اصول ہے کہ ہمیشہ دوسروں کے لیے جیو، تبھی تم دنیا میں یاد رکھے جاؤ گے اور بہت دیر تک تمہارا نام اہل دنیا کی زباں پہ رہے گا۔ اگر صرف "میں" ہی کو بچاتے رہے تو آخر میں "میں"بھی نہیں بچے گی اور دنیا بھی۔دراصل ہماری اپنی ذات تو فقط ایک بنک اکاؤنٹ میں موجود رقم کی سی ہے جس کو آخر کار کسی نہ کسی پہ خرچ ہو نا ہے اور اسے ایک نہ ایک دن ختم ہی ہونا ہے۔تو پھر پیچھے فقط یہ ہی ممکنہ رستہ بچتا ہے کہ اسے بہترین حکمت عملی کے ساتھ، بہترین مواقع تلاش کر کے بہترین وقت پہ بہترین لوگوں پر خرچ کر دی جائے۔
آخر یہ خرچ کرنے کے لیے ہی تو ہے۔۔۔!!!
تحریر
محمد انس اعوان
---

ماورا

0 comments
کبھی رندوں کی محفل سے
بکھر کر ناتواں آؤ
بہت گہرے تسلسل سے
تا حدِ انتہا آؤ
کبھی میری محبت میں
سبھی سے ناروا آؤ
دہن کی بات کرتے ہو 
 زمن سے ماورا آؤ


ہم بھلا ٹِک کر کہاں ٹھہرے ہیں

0 comments
اچھے ہیں جو شیریں دہن ٹھہرے ہیں
ہم سے کڑوے تو بے زمن ٹھہرے ہیں
عجیب بات ہےکہ آج میرے مرقد پر 
دلخراش سے کچھ لوگ ٹھہرے ہیں
قریہ قریہ تھی میرے پاؤں کی دھول
میرے دشمن بھی لاجواب ٹھہرے ہیں
مت  کیجیے گا اب نقوش پا کو تلاش
ہم بھلا ٹِک کر کہاں ٹھہرے ہیں


(ملک انس اعوان)



محفل ہی لوٹ لی آپنے تو

0 comments
زبان ویسے تو فقط گوشت کا ایک لوتھڑا ہے لیکن جب یہ اثر کرنے پہ آتی ہے تو بے جان الفاظ کو بھی جنون اور عشق کے پر لگا دیتی ہے۔جب یہ کسی فلسفہ دان کے پاس ہوتی ہے تو اس سے فلسفہ جھڑتا ہے ،شاعر کے پاس ہو تو احساس کے دھاگے میں بندھے ہوئے پھولوں کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور اگر کسی جنگی جنون رکھنے والے شعلہ بیاں مقرر کے پاس ہوتو دل  و دماغ میں انتقام اور دہشت کے ڈیرے ڈال دیتی ہے۔ کہیں اس کی تاثیر ترش اور کہیں  شیریں۔اور صرف زبان تو کچھ بھی نہی  ہےاگر الفاظ کا ساتھ نہ ہو۔ جب الفاظ کا وزن ، بناوٹ، باریکی اور ترتیب اہل سماعت کےزوق سے مطابقت قائم کرتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے گویا  بیان کیا جانے والا منظر پوری آب و تاب اور لطافت کے ساتھ آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔وہ کہنے والے بھی کیا فن رکھتے ہیں اور وہ سننے والے بھی کیا زوق۔اور ایک ہم ہیں نہ تین میں اور نہ تیرہ میں بس  سن کر واہ واہ کیے دیتے ہیں ۔۔۔۔۔اور اگر بات اس سے بھی بڑھ جائے تو ماشاءاللہ ، سبحان اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔اور اگر کچھ بھی سمجھ نہ آئے تو ۔۔۔۔ محفل ہی لوٹ لی آپنے تو۔۔۔۔!!!

تحریر

(انس اعوان)

انسانیت

0 comments
اجی یہ زندگی ہے،جہاں پھیلتے ہوئے صبح کے اجلے بھی ہیں اور ڈھلتی ہوئی شام کے سائے بھی، کہیں قہقہوں کی گلکاریاں اور کہیں نوحہ گری، بیک وقت کسی کے لئے آرام جاں اور کسی دوسرے کے لیے اذیت ِ و مصیبت ۔ کہیں خواہشات کے خوبصور ت رنگین و دلکش محل اور کہیں تپتے ہوئے سورج سے جھلستی ہوئی زمین کے نیزے پر ناچتی ہوئی کسی غریب کی بھوک ۔زرا ایک ہی دیوار کے دو پہلو دیکھیے ،ایک طرف مخمل کے دیدہ زیب بستر میں سونے والا کسی امیر زادے کا بچہ اور اسی دیوار کی دوسری جانب بغیر چھت کے اپنے باذؤں کی مدد سے اپنے جسم کو چھپائے ہوئے کسی غریب زادے کا ٹھنڈا یخ بستر۔اسی ایک آسمان کے نیچے ہے۔اُسی آسمان کے نیچے جہاں آپ اور میں رہتے ہیں۔
لیکن خیر جانے دیجیے ہمیں اس سے لیا لینا دینا۔یہ تو اپنی اپنی قسمت کی بات ہے اپنا پنا نصیب ہے۔لیکن ایک چیز  جو ہم ہر بار بھول جاتے ہیں وہ ہے 
"انسانیت"

------
ملک انس اعوان
-----