شاید ہم کچھ بھول رہےہیں

0 comments
23 مارچ کا دن بڑی دھوم دھام اور رنگوں کی روشنی میں دھل کر بیت گیا۔سارا دن ٹی وی سکرین پر پریڈ کے مناظر قومی وحدت کے تصوت کو واضح کرتے رہے۔ہاتھ میں بندوق پکڑے خاکی وردی میں ملبوس پاک فوج کے جوان دشمن کی آنکھیں نوچ ڈالنے کے عزم کا اظہار کرتے نظر آئے۔لوگوں نے اس دن کی مناسبت سے مناسب تیاریاں کیں گھروں میں قومی ترانے گونجتے رہے اور کچھ منچلے اپنی موٹر سائیکلوں پر بیٹھے پورے شہر کی سڑکیں ناپنے میں مصروف رہے۔لیکن آج شام ڈھلے میں کچھ کمی سی محسوس کر رہا ہوں۔
شاید بحیثیت قوم ہم کچھ بھول رہے ہیں ۔کچھ ایسا بھی ہے جو اس شور و غوں غاں میں چھپ کر رہ گیا ہے۔یہ اقبال کا وہ تصور ہے جو انہوں برصغیر کے مسلمانوں کے سامنے رکھا تھا۔وہی تصور کے جس کی عملی تصویر میں لاکھوں مہاجرین کی بے یارو مددگار پڑی ہوئی لاشوں اور نیزے کو جگر کے پار کرنے والوں ہزاروں نوجوانوں کا خون شامل ہے۔ یہ وہی تصور تھا کہ جس نے "Champion of Hindu Muslim Unity"کےخطاب یافتہ ایک عظیم انسان کہ جس کو دنیا محمد علی جناح کے نام سے جانتی ہے کو ایک مملکت خداداد  کے قیام کا بیڑا اپنا سر اُٹھانے کا فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا۔
آج جب ایک ٹی وی چینل پر مغربی تہذیب کی نمائیندگی کرتی ہوئی ایک خاتون قیام پاکستان پر گفتگو کرتی نظر آ رہی تھی تو دل میں ایک کانٹا سا چبھ گیا اور سر شرمندگی سے جھک گیا۔ہاں علامہ محمد اقبال ؒ ہم شرمندہ ہیں اور ہم شرمندہ ہیں ان لاکھوں بے گور لاشوں سے جو ایک اسلامی فلاحی ریاست کا خواب لیے اس دنیا سے اپنی خان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے رخصت ہو گئیں ۔ان کی کھلی ہوئی آنکھیں آج بھی ہمیں دیکھ کر آنسوؤں سے لبریز ہوں گی ۔کیا یہی وہ تصور تھا؟
آج سیاست سے لے کر معیشت تک اور انفرادیت سے لے اجتماعیت تک ہمارے پاس سب کچھ ہے سوائے اسلام کے وہی اسلام جو دو قومی نظریے کی بنیاد بنا اور یہی تو پاکستان کی اصل روح ہے کہ جس کی بدولت ہمیں یہ زمین کا ٹکڑا اللہ تعالی کی ذات اقدس کی جانب سے عطا کیا گیا۔آخر کب تک اس شور و غوں غاں کے اندر نظریہ پاکستان جو درحقیقت نظریہ اسلام ہے دبایا جاتا ر ہے گا ۔یاد رکھیے کہ اسلام کا ہر محاز پر دفاع ہم ملت اسلامیہ کے نوجوانوں کو ہی کرنا ہے۔پھر سے تحریک پاکستان کی اصل روح کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے اور اسے تعبیر کی شکل میں ڈھالنے کے عزم پیہم کی ضرورت ہے۔اور مایوس تو وہ ہوں کہ جن کا خدا نہیں ہے۔پوری قوم کی  امیدیں اب ان نوجوانوں سے ہیں جنہوں کے کبھی سوشل ازم اور سیکولر ازم کا مردانہ وار مقابلہ پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں میں کیا تھا۔اور وہ اب بھی اپنی پوری آ ب و تاب کے ساتھ پاکستان کی اصل روح کو بیدار کرنے کے لیے خون جگر جلانے کو تیار ہیں۔
قانونِ یہوداں ختم ہو
انجیل بھی ہے تحریف شدہ
دم توڑ گئے الحادی بھی
احمد ﷺ کی شریعت زندہ ہے
----------------------------------------------------------------------------------------------------
تحریر 
ملک انس اعوان


0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔