ایک منٹ کے لئے اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا موبائل بند کر کے نیچے رکھ دیجئے،اور اپنے ارد گرد موجود سبھی چیزوں سے لا تعلق ہو کر سوچیے کہ "میں" کون ہوں اور کہاں ہوں؟ اس 24 گھنٹے کی مصروف زندگی میں جہاں نہ صبح کا پتہ چلتا ہے اور نہ شام کا ،اور یوں ہی بہتے ہوئے پانی کی طرح وقت گزرتا چلا جاتا ہے۔ابھی ایک کام ختم نہیں ہوتا اور دوسرا شروع ہو جاتا ہے۔فرصت کا کوئی لمحہ بھی دستیاب نہیں،تو پھر ایک طرف آپ سے منسلک لوگوں کی آپ سے توقعات اور آپکی لوگوں کی ساتھ جڑی ہوئی توقعات آخر ان سب میں "میں" کہاں ہے؟؟
اصل بات ہی یہی ہے کہ اگر اس دنیا میں رہنا ہے تو "میں" سے انکار کرنا ہوگا،اور اس "میں " کو اپنے اندر سے ختم کرنا ہوگا،کیونکہ یہ دنیا دوسروں کی ہوتی ہے۔ایک دوسرے کے درمیان جو تعلقات اور توقعات ہوتی ہیں دنیا بس وہیں کہیں ہی ملتی ہے۔اسی دنیا کا اصول ہے کہ ہمیشہ دوسروں کے لیے جیو، تبھی تم دنیا میں یاد رکھے جاؤ گے اور بہت دیر تک تمہارا نام اہل دنیا کی زباں پہ رہے گا۔ اگر صرف "میں" ہی کو بچاتے رہے تو آخر میں "میں"بھی نہیں بچے گی اور دنیا بھی۔دراصل ہماری اپنی ذات تو فقط ایک بنک اکاؤنٹ میں موجود رقم کی سی ہے جس کو آخر کار کسی نہ کسی پہ خرچ ہو نا ہے اور اسے ایک نہ ایک دن ختم ہی ہونا ہے۔تو پھر پیچھے فقط یہ ہی ممکنہ رستہ بچتا ہے کہ اسے بہترین حکمت عملی کے ساتھ، بہترین مواقع تلاش کر کے بہترین وقت پہ بہترین لوگوں پر خرچ کر دی جائے۔
آخر یہ خرچ کرنے کے لیے ہی تو ہے۔۔۔!!!
تحریر
محمد انس اعوان
---











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔