زبان ویسے تو فقط گوشت کا ایک لوتھڑا ہے لیکن جب یہ اثر کرنے پہ آتی ہے تو بے جان الفاظ کو بھی جنون اور عشق کے پر لگا دیتی ہے۔جب یہ کسی فلسفہ دان کے پاس ہوتی ہے تو اس سے فلسفہ جھڑتا ہے ،شاعر کے پاس ہو تو احساس کے دھاگے میں بندھے ہوئے پھولوں کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور اگر کسی جنگی جنون رکھنے والے شعلہ بیاں مقرر کے پاس ہوتو دل و دماغ میں انتقام اور دہشت کے ڈیرے ڈال دیتی ہے۔ کہیں اس کی تاثیر ترش اور کہیں شیریں۔اور صرف زبان تو کچھ بھی نہی ہےاگر الفاظ کا ساتھ نہ ہو۔ جب الفاظ کا وزن ، بناوٹ، باریکی اور ترتیب اہل سماعت کےزوق سے مطابقت قائم کرتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے گویا بیان کیا جانے والا منظر پوری آب و تاب اور لطافت کے ساتھ آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔وہ کہنے والے بھی کیا فن رکھتے ہیں اور وہ سننے والے بھی کیا زوق۔اور ایک ہم ہیں نہ تین میں اور نہ تیرہ میں بس سن کر واہ واہ کیے دیتے ہیں ۔۔۔۔۔اور اگر بات اس سے بھی بڑھ جائے تو ماشاءاللہ ، سبحان اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔اور اگر کچھ بھی سمجھ نہ آئے تو ۔۔۔۔ محفل ہی لوٹ لی آپنے تو۔۔۔۔!!!
تحریر
(انس اعوان)










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔