ہم بھلا ٹِک کر کہاں ٹھہرے ہیں

0 comments
اچھے ہیں جو شیریں دہن ٹھہرے ہیں
ہم سے کڑوے تو بے زمن ٹھہرے ہیں
عجیب بات ہےکہ آج میرے مرقد پر 
دلخراش سے کچھ لوگ ٹھہرے ہیں
قریہ قریہ تھی میرے پاؤں کی دھول
میرے دشمن بھی لاجواب ٹھہرے ہیں
مت  کیجیے گا اب نقوش پا کو تلاش
ہم بھلا ٹِک کر کہاں ٹھہرے ہیں


(ملک انس اعوان)



0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔