آئیے خود کو بدلتے ہیں

2 comments
کیونکہ سب انسان ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اور ان کی عادات و مزاج سبھی کا انحصار  ان کے ساتھ پیش آنے والے حالات و واقعات پر ہوتا ہے۔اسی طرح مختلف حالات و واقعات میں مختلف قسم کے رویے اور عادات جنم لیتے ہیں،جو زندگی کی آخری سانسوں کے ساتھ چلتے ہیں۔اب ایک عام آدمی شاید ایسا سوچنا بھی انتہائی مشکل ہو ،کیونکہ ایسا سوچنے کے لئے سب سے پہلے خود کو ایک ایسی (state) میں لے جانا پڑتا ہے جہاں آپ کا ذہن بالکل ایک کورے کاغذ کی مانند  ہوتا ہے،نہ وہ بائیں ہوتا ہے اور نہ دائیں،نہ ہاں میں اور نہ ہی "نہ"میں کیونکہ کسی کی "ہاں" کا دارومدار بھی اس کے ماضی کے تجربات پر ہے جو ممکنہ طور پر کسی اور کے لیے "نہ" کا باعث ہو۔اب تصور کیجیے ایک ایسے ماحول کا جہاں آپ کی ذات آپکے وجود کے خول سے باہر ہے اور اس کے کسی قسم کے بھی اثرات اس کے ارد گرد نہیں پڑ رہے۔ اب ایسا کیجیے کہ اپنی ذات کو اپنی ہی"ذات " سے جدا کیجئے اور جا کر ایک جج کی سیٹ سنبھال لیجئے۔
اب صورت حال کچھ یوں ہے کہ آپ کی ذات آپکے ہی سامنے ہاتھ باندھے تمام دوسرے لوگوں کی طرح کھڑی ہے۔ایک ایک طرف سے تمام لوگوں کی عادات و خصائل کاموازنہ کرنا شروع کردیجیے۔دیکھیے کہ "پرسن 1" میں کیا خامیاں اور کیا اچھائیاں ہیں ۔
اگر خامیاں ہیں تو ان کی وجہ کیا ہے اور اگر  خوبیاں ہیں ان کی بھی وجہ کیا ہے،ان سب کے پیچھے کیا محرکات ہیں ۔اب Randomlyکسی "پرسن2" کو اٹھا لیجئے اور اس کا موازنہ پہلے والے کے ساتھ کیجئے۔
اس طرح باری باری اپنے ارد گرد موجود سبھی لوگوں کا Dataمرتب کرتے جائیے۔اب سب سے آخر میں اس مرتب شدہ مواد کا اپنی ذات کے ساتھ موازنہ کیجیے۔اور دیکھیے کہ مجھ میں جو خامیاں ہیں ان کی وجہ کیا ہے؟
کیا یہ ہونی بھی چاہیئں یا نہیں؟
اگر ہونی چاہیئں تو کس کس کے ساتھ؟

فی آدمی اپنی ذاتی پالیسی کو ترتیب دیتے جائے، ان سوالات کو حل کرتے جائیے اس طرح آپ دیکھیں گے کہ آپ کی خامیاں یا تو دور ہو چکی ہوں گی،یا پھر ان میں خاطر خواہ بہتری آئی ہوگی۔اب آئیے دوسری طرف یعنی اچھائیوں کی طرف ، دیکھئے کہ آپ میں کتنی اچھائیاں موجود ہیں؟
جو اچھائیاں ہیں ان کی وجہ کیا ہے؟
کیا یہ ہونی بھی چاہیئں یا نہیں؟
اگر ہونی چاہیئں تو کس کس کے ساتھ؟
اور مذکورہ بالا عمل کو دہراتے جائیے۔آخر میں جب آپکی نظر آپکی ترتیب شدہ  شخصیت پر پڑے گی تو آپ خود کو پہلے سے بہت بہتر اور شاندار پائیں گے۔اگلا مرحلہ اپنے آپ کو اسی تخلیق شدہ سانچے کے مطابق ڈھالنا ہے۔
یاد رہے کوشش شرط ہے، اگر آپ خود کو بدل نہیں سکتے تو خیر سوچتے ہی رہیے کیونکہ اچھا سوچنے کا کچھ نقصان نہیں ہوتا،اور ایک اچھی سوچ ہی کسی اچھے عمل کی بنیاد ہوتی ہے۔۔۔
دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔۔۔۔!

تحریر
ملک انس اعوان
www.AnasNama.blogspot.com



شہر تو ایک سے ہی ہیں

0 comments
شہر تو ایک سے ہی ہیں
وہی رستے وہی گلیاں
وہی آبادیاں ساری
وہی گل کاریاں ساری
مگر یوں بھی نہیں ہوتا
شہر لوگوں سے بنتے ہیں
رویوں اور مزجوں سے
شہر رشتوں سے بنتے ہیں
سنو دیکھا ہے میں نے بھی
شہر کو اس طرح سے بھی
کہ جب دل کی خواہش ہو
بڑی بے چین طبیعت ہو
کوئی رستہ ہو انجانا سا
نہ ہو جس میں کوئی اپنا
بڑی ہی دیر تک چلتا
پاؤں کو دیکھ کر چلنا
کہیں پھر ٹوٹ کر گرنا
مسلسل سوچتے رہنے
اگر یہ زندگانی ہے
اگر یہ ہی کہانی ہے
تو پھر یہ ختم کب ہوگا
یہ دم بے دم کب ہو گا
یہ میرے جسم کے اندر
پڑی بے کار سی اک روح
نلکتی ہے کہ نکلے گی
میری بے زار سی اک روح
نتیجہ کچھ نہیں ہمدم
طریقہ کچھ نہیں ہمدم
فرارِ راہ نہیں ممکن
یاں میرا کچھ نہیں ہمدم
چلو اس دیس چلتے ہیں
بدل کر بھیس چلتے ہیں
جہاں نہ جسم کی ہو قید
جہاں روحوں کی بستی ہو
جہاں تیری نہ ہستی ہو
جہاں میری نہ ہستی ہو
نہ ہو "تو" اور "میں " کا جھگڑا
شہر تو ایک سے ہی ہیں
(انس اعوان)








ننگی ثقافت

0 comments
جیسا کہ امریکہ و یورپ کو پوری دنیا میں اپنی ننگی ثقافت اور نام نہاد تہذیب کے دفاع بلکے اس کے فروغ کا حق حاصل ہے تو پھر دوسروں کو بھی یہ حق لازمی طور پر حاصل ہونا چاہیے۔اب آپ کہیں گے کہ لو جی شروع ہو گیا مولوی۔۔!
لیکن یقین جانیے میں بھی آپ ہی کی طرح ایک یونیورسٹی کا طالب علم ہوں ،صرف ناظرہ پڑھ سکتا ہوں، اور باقائدہ کسی مدرسے کا طالب علم بھی نہیں ہوں۔لیکن میرے پاس سوچنے کو ایک دماغ بھی تو ہے اور دیکھنے کو آنکھیں بھی جو مجھے بتاتی ہیں کہ پاکستان میں 2001 کے بعد سے لا تعداد NGO’sکام کر رہی ہیں۔ان میں سے بہت سی NGO’sکو میں بذات خود بہت نزدیک سے جانتا ہوں اور ان کے طریقہ کار کو سمجھتا ہوں۔NGO’sکے نام پر پاکستان میں جو گھناؤنی سازش  کی جا رہی ہے اس کا اثر اب ظاہر ہو رہا ہے،ان غیر حکومتی اداروں میں اکثریت کو UNDPکی جانب سے حمایت اور مالی امداد حاصل ہے۔کسی دور میں برصغیر  کے دور افتادہ علاقوں میں عیسائی مشن بھیجے جاتے جن کے ساتھ اس وقت کا جدید سامان اور اشیاء ہوتیں اور وہ بر صغیر کے سادہ لوح  انسانوں کو  مغربی تہذیب کا ایک شاندار بت بنا کر دکھاتے کہ وہ اس کے سحر سے آزاد نہ ہو پاتے اور نتیجہً عیسائیت قبول کر لیتے۔
آج کل حالات بدل چکے ہیں برصغیر کے بھی 2 ٹکڑے ہو چکے ہیں اور اسلام کے نام پر بننے والی ریاست اپنا وجود لیے دنیا کے سامنے آ کھڑی ہے۔اس ریاست و مملکت خدادا کو اہل مغرب کبھی بھی مضبوط اور کامیاب نہیں دیکھنا چاہتے ۔اس لیے اس کی نظریاتی و فکری جڑوں کو کھوکھلا کرنے کے لیے ایک جنرل جنہیں ہم جنرل پرویز مشرف کے نام سے جانتے ہیں کے ذریعے NGO’Sکا پودا پاکستان میں لگایا جو اب پھل پھول کر ایک درخت کی صورت اختیات کر گیا ہے۔جن کا واحد کام نوجون نسل کے دل سے اپنی ثقافت کی محبت کو کھینچ نکالنا ہے۔
میرے ایک دوست پاکستان کی ایک بہترین نجی یونیورسٹی میں ایونٹ  کمیٹی کے انچارج ہیں وہ بتاتے ہیں کہ جب ہر سمیسٹر میں  "کلچر شو" کے نام سے ایک شاندارپروگرام منعقد کیا جاتا ہے اور بھاری بھاری فیسس ادا کر کے بیرون ِ ملک اور اندرونِ ملک سے گانے والوں اور والیوں کو بلایا جاتا ہے، جبکہ اس کا تمام خرچہ ایک NGOبرداشت کرتی ہے جبکہ اسی کی برادر این جی او تمام انتظامات سنبھالتی ہے۔
زرا سوچے۔۔۔۔!
کسی کو کیا پڑی کہ وہ ہزاروں کلومیٹر دور سے صرف اس ناچ گانے کے لیے فنڈز جاری کرے؟
یہ صرف ناچ گانا ہی نہیں بلکہ ایک پوری لابی ہے جو اس وقت نوجوانوں کو گھیرے ہوئے ہے۔اس لابی کا سب سے بہترین حربہ Women Empowermentہے۔میں ہر گز  خواتین کے بنیادی حقوق کے خلاف نہیں ہوں  صرف طریقہ کار سے اختلاف کر رہا ہوں۔دیکھیے جس طرح یہ خوتین کو آزادی دلا رہے ایسا ہرگز ممکن نہیں کیونکہ   ایسا کرنے سے ہمارے معاشرے کو فطری توزن بگڑ جاتا ہے اور کئی ایسے مسائل جنم لیتے ہیں جن کا علاج موجودہ صورت حال میں ممکن نہیں ہو پاتا۔اب اگر اہل مغرب اپنے کتوں کو اپنے ساتھ سلاتے ہیں اور ماں باپ کو اولڈ ہوم میں بھیج دیتے ہیں تو یہ کوئی قابل تقلید عمل نہیں ہے۔ہمارا معاشرہ صرف اسی صورت قائم و دائم رہ سکتا ہے کہ اس کے فطری توازن کو قائم رکھا جائے۔ورنہ ایک محا ورہ تو آپ نے سن ہی رکھا ہوگا کہ
"کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی بھی بھول گیا"
تحریر 
ملک انس اعوان
www.AnasNama.blogspot.com


انہوں نے اللہ سے محبت میں پوری دنیا کے انسانوں کی دشمنی خرید لی ہے۔۔!

0 comments

جدھر بھی جاؤ دستور اور آئین  اپنا منہ کھولے کھڑا ہو تا ہے۔ویسے دستور کا مطلب وہ قوائد ضوابط ہیں جو ارباب اختیار طے کر دیں۔وہ جیسے مناسب سمجھیں ہم پر مسلط کر دیں اور ہم فقط تعظیم میں سر جکا ئیں اور اس دستور کے پابند ہو جائیں ۔پھر سے  ارباب اختیار میں تبدیلی آئے اور یک دم ہی وہی  قوانین جو پہلے نافذ ہوں اب کالعدم  قرار دے دیے جائیں اور پھر ہمارے ہاتھوں میں دستور کی ایک نئی کاپی پکڑا دی جائے کہ جناب  پہلے والا سب بھول جاؤ اب  تمہارا اس پر ایمان لانا لازمی ہے۔ہے ناں مضحکہ  خیز۔۔۔۔۔!
ہماری مثال تو  ایسے شخص کی سی ہے جو حضرت یوسف ؑ کی جیل کا  جیلر ہو جسے یہ بھی معلوم ہو کہ یوسفؑ بے گناہ ہیں  اور وہ دلی طور پر  بھی یہی چاہ رہا ہو کہ میں حضرت یوسف ؑ کو چھوڑ دوں لیکن مجبوری ہے صرف اور صرف  آئین کی،دستور  کی جو کہ شاہی مہر شدہ  سکوں کے ساتھ نتھی کر دیے گئے ہیں۔۔۔ ہے ناں مضحکہ خیز۔۔۔۔!
چھوڑیے حضور میں تو آزاد منش انسان ہو کسی آئین و قانون کو نہیں مانتا۔۔ویسے میں مانوں بھی تو کیوں۔۔۔؟
خدا کا بنایا ہوا ہوتا تو مان بھی لیتا، تسلیم بھی کرتا  لیکن انسان کا بنایا ہوا قانون میں کیوں تسلیم کروں ؟
تو پھر میں بھی اپنا زقانون خود ترتیب دے دیتا ہوں اب تو اس پر کسی کو اعتراض نہ ہوگا۔۔۔ہیں  ناں؟
کیا میں انسان نہیں ہوں۔۔۔!
کیا کہا؟؟؟؟
اچھا تو یہ وجہ ہے کہ میری چمڑی گوری نہیں ہے،ورنہ میں ہزاروں میل دور سے بیٹھ کر کسی  بھی جگہ   ایک خود کار  ہوائی جہاز کے ذریعے سے پورے کے پورے گاؤں کو چشم زدن میں خاک و خوں میں تبدیل کر دیتا اور ساری دنیا کو یہ بات ماننے پر مجبور کر دیتا کہ یہ سب دہشت گرد تھے۔
ہاں ٹھیک ہی تو ہے۔۔۔۔!
کیونکہ وہ آئین کو نہیں مانتے ۔۔!بس اللہ کے قرآن کو اپنا پہلا اور آخری دستور  مانتے ہیں۔۔!
اسی لیے ساری دنیا کے انسان  ان کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔۔
انہوں نے اللہ سے محبت میں  پوری دنیا کے انسانوں کی دشمنی خرید لی ہے۔۔!

تحریر 
ملک انس اعوان 



اب تو ہم ماں کی گود میں پورے ہی نہیں آ پاتے

0 comments

ہم 90’sکے بچے اپنے بچپن میں انٹر ٹینمنٹ کے حوالے سے فقط پی ٹی وی کے نام سے واقف تھے۔اور وہ بھی خاص طورپر صبح سویرے کا مارننگ شو جس میں کارٹون دکھائے جاتے ،اسی وقت کا ہر بچے کو انتظار ہوتا اور میں تو یونیفارم پہن کر مکمل تیاری کے ساتھ  ٹی وی کا سامنے بیٹھ جاتا۔شاید کہ یہ کارٹون وہ واحد وجہ تھی جس کے باعث  میں وقت سے پہلے تیار ہو جاتا ورنہ میری عادات سے میرے احباب خوب واقف ہیں۔جیسے ہی  کارٹون ختم ہوتے ہم سکول کی جانب چل دیتے ۔ہمارا گھر اور سکول دونوں ہی نہر پر واقع تھے  جس کے باعث ہم خراماں خراماں روز گھر سے نہر کے ساتھ ساتھ اپنا بھاری بستہ اُٹھائے چلتے پائے  جاتے۔قریباً درمیان میں ایک پل تھا جس کی دونوں جانب سے  سڑکیں آپس میں آ ملتیں اور یوں ایک چوراہا سا بن جاتا۔پل کی چھوٹی دیوار پر ہم بیٹھ کر اپنے دوست کا انتظار کرتے جو حسب معمول اپنے والد کے ساتھ  پیدل آرہے ہوتے۔جب وہ پل پر پہنچتے تو میں بھی ان کے ساتھ ہو لیتا۔جب تک اس کے والد ساتھ رہتے ہمارے درمیان خاموشی قائم رہتی لیکن جیسے ہی سکول نزدیک آتا  اور اس کے والد واپس جانے کے لیے پلٹتے ،ہم دونوں آج کے دیکھے ہوئے کارٹون پر اپنے تبصرے پیش کرنے لگتے ۔اور اکثر ایسا ہوتا کہ ہم عین دروازے پر ایک دوسرے کا گریبان پکڑ کر لڑنا شروع کر دیتے،اللہ بھلا کرے "یاسین بھائی" کا جو مجھکو بچا لیتے کیونکہ ہم ان دنوں بیمار رہنے کے باعث بہت کمزور اور پتلے سے ہو چکے تھے۔
سیاست ہمارے اندر بچپن سے ہی موجود ہے۔جسمانی طور پر کمزور ہونے کے باعث ہم اپنے دوست سے بدلہ تو نہیں لے سکتے تھے اس لیے سارا دن ہم کسی اور لڑکے کے ساتھ جا بیٹھتے  اور  خوب کھِل کھلِاتے اور اپنے دوست کا مزاق اڑاتے ۔اور اس کا اثر یہ ہوتا کہ جیسے ہی بریک ہوتی میرے دوست شرمندہ شرمندہ سے ہو کر میرے قریب آ بیٹھتے اور رشوت کے طور پے اپنا ٹفن ہمارے سامنے رکھ دیتے اور بڑے پیار سے کہتے کہ "انس یار یہ کھا لے،اور "پکی" کر لے۔۔!" ہمیں بھی پتا ہوتا تھا کہ جناب محترم کی والدہ  بہت عمدہ پراٹھے بنا کر بھیجتی ہیں اس لیے ہم بھی صرف اسی شرط پہ صلح کرتے کہ تم اپنا آدھا ٹفن کھا کر مجھے دے دو گے اور باقی آدھا میں خود کھاؤں گا۔اسی طرح ہم اکثر و بیشتر اپنے دوستوں کا لنچ ہتھیا لیتے اور اگر بھوک زیادہ لگتی تو اپنے "گینگ" کو اکٹھا کرتے اور  کسی کمزور سے بچے کا ٹفن لے اڑتے ۔ بریک کے بعد ہمیشہ ہماری کلاس انچارج ہمیں کلاس کے باہر کھڑا کر دیتیں اور باری باری سب سے تفتیش کرتیں۔ہمیشہ کی طرح ہم درمیان میں سے کھسک جاتے اور اپنی کمزور صحت کا فائدہ اٹھاتے ،اور اپنی خودساختہ  شرافت کا لبادے اوڑھ کر ٹیچر کی آنکھ میں دھول جھونک کر اپنی جان بچا لیا کرتے۔سختی ہمیشہ ان کی ہی آتی جو ہمارے ساتھ  کاروائی کے دوران موجود ہوتے۔
میرے اس دور کے 2 بہترین دوستوں کے نام اسد اور اُسامہ رندھاوا ہیں۔اسامہ بھائی سے اب بھی رابطہ استوار ہے جبکہ اسد بھائی سے ایک عرصے سے کوئی رابطہ ممکن نہیں ہو سکا۔
والدہ مجھے گھر سے باہر کھیلنے نہیں جانے دیتیں تھیں چناچہ شروع ہی سے ہم کھیلوں کے بہت خلاف ہیں اور میڑک تک " نہ کھیلیں گے اور نہ کھیلنے دیں گے" کے اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے ۔گیند اٹھا کر بھاگ جاتے۔میرے گھر کے سامنے ہی ایک وسیع و عریض گراؤنڈ تھا جس میں شام کے وقت پوری کالونی کے بچے کھیل رہے ہوتے اور جب بھی انکی گیند ہماری چھت پر آتی تو ہم پہلے ہی جا کر اسے چھپا دیتے اور متعلقہ لڑکے کو اپنی پوری چھت کا معائینہ کروا کر کہتے کہ دیکھو بھائی اگر گیند یہاں ہوتی تو ،یہیں ،کہیں پڑی ہوتی!!!
اس باعث ہمارے پاس گیندوں کی ایک وسیع  collectionبن جاتی جسے ہم اپنے سکول کے دوستوں کو دے کر انکے لنچ باکس ہتھیا لیتے۔ میرا اپنا لنچ باکس ہمیشہ سے ہی بھرا رہتا۔کھانے پینے کے ہم بذات خود اتنے شوقین نہیں ہیں لیکن دوسروں کو تنگ کر کے جو لطف آتاہے  اس کا کوئی نعم البدل نہیں۔میں اپنے گھر کے بچوں میں سب سے بڑا ہوں اس لیے مجھے خاص اختیارات حاصل ہوتے۔انہی اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے ہم نے والدین سے بہت جلد ہی ضد کر کے BMX سائیکل منگوا لی جو کہ اس زمانے میں ہم عصر طالب علموں میں BMWکے مترادف مانی جاتی تھی۔قریباً 6 ماہ تو ہم سائیکل کو فقط گلی میں اپنے ساتھ ساتھ دوڑا کر شوق پورا کر لیتے ،اللہ بھلا کرے "زین العابدین" بھائی کا جو اب ناجانے کہاں اور کس حال میں ہوتے ہیں انہوں نے مجھے زبر دستی  سائیکل چلانی سکھائی۔اس بعد ہم ہوتے تھے اور ہماری وسیع و عریض کالونی کی سڑکیں، شام کو ہم نکلتے اور خوب سائیکل چلاتے۔اسی بہانے ہم محلے کے فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر  حصہ لیتے۔مثلاً دکان سے کسی کو کوئی چیز لا دینی جس سے محلے میں ہم نے خوب نیک نامی  کمائی۔اس وقت ہمارے پاس ایک 4x4جیپ ہوا کرتی تھی جو اکثر و بیشتر گھر کے سامنے کھڑی رہتی۔جب بھی بارش ہوتی ہم اس جیپ میں جا بیٹھتے اور شیشے چڑھا کر  بارش کے پانی کو بہتے ہوئے دیکھتے اور اگر اسی دوران کوئی کھانے کا انتظام ہو جاتا تو وہ بھی جیپ میں ہی لا کر کھاتے وگرنہ کچن سے کوئی بھی کھانے والی چیز اُڑا لاتے خاص طور پر چھوٹےبھائی کے لیے لایا گیا  خشک دودھ جو کہ  میرے لیے ہمیشہ سے ہی توجہ کا باعث  بنا رہتا۔
ہاسٹل کے کمرے میں یہ سب کچھ لکھتے ہوئے دل چاہ رہا ہے کہ کاش وہ لمحے پھر سے لوٹ آئیں  تاکہ میں انہیں پہلی بار کی نسبت بہتر طریقے سے گزار سکوں ۔لیکن وقت کبھی پیچھے نہیں جا سکتا۔یہ تو بس بہتی موجوں کی طرح بہتا چلا جا رہا ہے،بغیر رکے،بغیر تھمے،بغیر کسی کی پرواہ کیے۔اور ہماری حیثیت ایسی ہی  کسی موج کے اندر ایک چھوٹےسے ارتعاش  کے برابربھی نہیں۔۔۔۔۔
ہم تو دیکھتے ہی دیکھتے اتنے بڑے ہو چکے ہیں کہ اب ماں کی گود میں پورے ہی نہیں آ تے۔۔۔۔۔۔
تحریر
ملک انس اعوان




خیال

0 comments




خیال
--------



ہمیں ثابت قدم پاؤ

0 comments
یہ ہم نے مان رکھا تھا
یہ سب نے جان رکھا تھا
کہ تم جو انتہا چاہو
ہمیں ثابت قدم پاؤ
تماری ایک آہٹ پر
ہمیں تم منتظر پاؤ
ہوا کے تلخ تھپیڑوں میں
ہمیں  شیریں دہن پاؤ
مگر مشروط یہ بھی تھا
برابر عمر کی ڈوری
جلائیں گے
بجھائیں گے
جلا پائے؟
بُجھا پائے؟

------
ملک انس اعوان



مسئلہ یہ ہے کہ لکھنا ہے

0 comments
ایک تو مسئلہ یہ ہے کہ لکھنا ہے، دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ لکھنا کیا ہے۔اول تو لکھنے کے لئے پہلے یہ سوچنا پڑتا ہے کہ کس کس کے لیے لکھا جائےکیونکہ اس مصلحت کو اپنائے بغیر ہم مارکیٹ میں نام نہیں بنا سکتے ، اس کا آسان سا طریقہ یہ ہے کہ کسی ایک مکتبہ فکر سے اپنے آپ کو منسلک کر لیجیے اور مخالف پر تابڑ توڑ حملے کرتے رہیے یوں آپکی قلمی رعایا میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہو سکے گا ،کچھ عرصے بعد مخالفین کے حق میں درمیانی سی dose (مقدار) کی ایک تحریر اچھال دیجیے یوں ایسے سامعین جو بس دو فریقین کے درمیان تماش بین کا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں وہ بھی آپکی جانب متوجہ ہوں گے اور اس طرح ہولی ہولی (آہستہ آہستہ) آپ مخالفین کے کیمپ میں بھی گُھس سکتے ہیں ،کیونکہ آج کل موجودہ گھوڑا سیاست کا قلمی میدان میں بھی بہت  اثر پڑا ہے،جس کے باعث توبہ کر کے مسلمان  ہونے والوں کی ہر جانب بہت مانگ ہے۔ اور یہ بھی دیکھا گیا ہے پارٹی بدلنے پر آپکو انعامات سے بھی نوازا جاتا ہے۔ بس یقین یہ رکھیے کہ جس کیمپ سے آپ پہلے آئے تھے وہ کافر تھا اور موجودہ مسلمان ، اور جو اگلا کیمپ ہو گا وہ بھی پچھلے کی طرح مسلمان تصور کیا جائے گا،بالکل اسی طرح جیسے نئی شریعت کے آنے پر پچھلی شریعت منسوخ ہو جاتی ہے۔
ایک بات تو طے ہے کہ لکھنے کے لیے بندے کا بے شرم ہونا بہت ضروری ہے، ورنہ "چس" (مزہ) نہیں آتی۔دوران تحریر کہیں نا ں کہیں ایک دو "جھلیاں"(بے وقوفیاں) ضرور مار دیں اس سے ایسا سواد محسوس ہوتا ہے جیسا سواد کھانا کھانے کے دوران زیرے کے اچاک دانت کے نیچے آنے پر آتا ہے۔
تحریر
محمد انس عوان


نوٹ: اس تصویر کو کاپی کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ ہماری واحد و منظور نظر عینک کی سیلفی ہے۔

گیارہویں شریف اور اقامت دین

0 comments
ہمارے معاشرے میں جس طرح مسلکی تعصب کو اس ہوا دی جارہی کہ کے منبر و محراب بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں، ہر کوئی اپنی انتہا کو پکڑے ہوئے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے میں پیش پیش ہے۔انہی حالات میں ایک روز مجھے ایک مسجد میں جمعہ پڑھنے کا اتفاق ہوا جو بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتی تھی۔
امام مسجد نے خطاب شروع کیا تو مجھے یقین ہی نہ آیا کہ میں ایک بریلوی مسلک کی مسجد میں موجود ہوں حلانکہ تحریک اسلامی سے وابستگی کی بنا پر میں ہمیشہ کھلے ذہن کے ساتھ سب کی بات سنتا اور تسلیم کرتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ اسلام کو 2 چیزوں نے انتہائی نقصان پہنچایا ،
1:جاہل علما جنہوں نے بڑے بڑے جُبے اور توپیاں پہنی ہوتی ہیں ۔جنہوں نے علم کا نقلی لباس زیب تن کیا ہوا ہے۔
2:جعلی پیر اور گدی نشین

انکا کہنا تھا کہ ہم نے دین کو بس رسومات کی حد تک تک محدود کر رکھا ہے۔جبکہ اللہ کی جانب سے اسلام بطور ایک سسٹم کے پیش کیا گیا۔ہم نے صرف ان چیزوں کو تھام رکھا ہے جس سے اہل علاقہ و احباب میں ہماری خوب پزیرائی ہو اور شہرت میں اضافہ ہو۔اور دین کو رسومات کی حد تک محدود کرنے میں پیروں کا اہم کردار ہے۔ اسی کے باعث انکی درگاہیں اور خانقاہیں آباد رہتی ہیں۔ہم اکثر "گیارویں شریف" کا ورد کرتے نظر آتے ہیں  اور اس کا پر چار کرتے تھکتے نہیں ہیں، لیکن کیا کبھی کسی نے سوچا کی اس گیارہویں شریف کا مقصد کیا ہے اور اس کی اصل روح کیا ہے۔
ہم نے غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کی کی علمی شخصیت کے سامنے اپنی من گھڑک رسومات کا موٹا اور گہرے رنگ کا پردہ ڈال رکھا ہے،جس کے باعث عام آدمی کے سامنے ان کی علمی شخصیت چھپ کر رہ گئی ہے۔عام آدمی کے سامنے پیر کا وہی Concept ہے جو وہ اپنے پیروں کو دیکھ کر اخز کرتا ہے۔اگر پیر صاحب کی تعویز زیادہ کارگر ہے تو پیروکار کے ذہن میں یہی نقشہ بیٹھ جائے گا۔
گیارہوٰیں شریف تو غوث اعظم ؒ کی کئی تحریکوں میں سے محض ایک ہے، جبکے انکی دیگر تحریکوں سے عام آدمی کو روشناس نہیں کروایا جاتا۔اس کا مقصد  مسلم معاشرے میں ایک ایسا ںظام دینا تھا جس کی وجہ سے آپکا کوئی مسلمان بھائی بھوکا نہ سوئے۔یہ کیا بات ہوئی کہ آپ گیارویں شریف کے نام پر ان پیروں اور علماء کی مٹھیاں گرم کرتے رہیں جن کو اس کی زرا بھی ضرورت نہیں ہے۔آپ اپنے محلے میں ایک کمیٹی قائم کریں جو اپکے محلے کا سروے کرنے کے بعد غریب اور مساکین کی ایک فہرست تیار کرے جس میں بیواؤں کو ترجیع حاصل ہو پھر ہر مہینے کی 11 تاریخ کو کچھ رقم کا معاونت ان کے گھروں تک باعزت طور پر پہنچا دی جائے،اس طرح آپ کی گیارہویں شریف بھی ہو جائے گی اور اس کی اصل روح بھی پوری ہوسکے گی،اور اس کا عملی نمونہ امام صاحب نے بھاٹی گیٹ لاہور میں ایک مسجد کے اندر جب تک وہ وہاں رہے پیش کرتے رہے۔
میرا پختہ گمان ہے کہ اب ان امام صاحب کے اس مسجد میں دن تھوڑے رہ گئے ہیں۔۔۔۔۔!

تحریر
محمد انس اعوان


میں نے کبھی دوست نہیں بنائے

0 comments

 زندگی میں بہت سے لوگوں سے واسطہ پڑا، کبھی چلتے ہوئے ،کبھی کسی مصیبت میں،کبھی فرصت میں ،کبھی بھیڑ میں اور کبھی پریشانی میں۔ ہر کسی کے ساتھ ایک مختلف معاملہ پیش آیا اور مختلف قسم کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس مختصر سی زندگی میں ہر موڑ پرایک نیا سبق سیکھا۔میری ہمیشہ سے ہی کوشش رہی کہ میں چیزوں کو زرا مختلف طریقے سے سمجھا کروں اور یہ سوچ پیدا کرنے کا سہرا پنجاب کالج شیخوپورہ میں ہونے والی ایک تقریب ہے جس میں ایک مقرر کا فقرہ "Always try to see the things from an different angle" میری زندگی کا ایک حصہ بن چکا ہے۔
میں نے اس دن کے  بعد سے اپنی ذات کے اندر بہت سی تبدیلیاں کی ہیں اور مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ صحیح ہیں یا غلط ۔ رہی بات دوستی کی تو میرے نزدیک کوئی بھی کسی کا دوست نہیں ہوتا ، بس انسان اپنی فطرت کے طابع ہونے کی وجہ سے کسی نا کسی کا سہارہ تلاش کرتا ہے۔ ایسا سایہ جس کے اندر بیٹھ کر وہ کچھ دیر سستا لے اور آرام کرلے۔اور میں آب تک ایسا کوئی انــــــــــــــسان تلاش نہیں کرپایا،شاید ایسی کسی چیز کا بھی وجود اس جہان میں نہیں ہے۔یہ بھی ان ہزاروں چیزوں کی طرح ہمارے سوچ اور ذہن کا ایک تصوراتی محل ہے ہے جس کے اندر ہم نے وفا رکھ دی ہے۔
اب بہتر یہی ہے کہ اس دھوکے کے محل میں رہنے کی بجائے حقیقت پسندی کو اپنایا جائے۔جوبھی آپ کی زندگی میں آئے بھلے کچھ لمحات کے لیےہی لیکن اس پر اپنے اچھے نقوش چھوڑ دیجیےکیونکہ اچھےاخلاق پر کچھ خرچ نہیں آتا۔
اور ان انسانوں میں دوست تلاش کرنے کی بجائے کتابوں میں دوست تلاش کیجیے۔کتاب وہ دوست ہے جس کے صفحات کبھی بھی تبدیل نہیں ہوتے۔ہزار سال بعد بھی سرورق پر وہی "ٹائیٹل" سجا ہوتا ہے جو آپ چھوڑ جاتے ہیں۔ بلکے ہر بار پڑھنے سے کچھ نئے سوالات کا جواب مل جاتا ہے۔
اسی لیے مجھے دوستوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔۔۔

تحریر
انس اعوان




کوئی فرہاد ہوتا ہو

0 comments
ہم   عشق  کے در و    بام    میں    بند
منتظر ہیں    کوئی   فرہاد     ہوتا    ہو
ڈھونڈتا ہوں اس سے کلام کی صورت
کسی صورت جو اس سے کلام ہوتا ہو
غرقابِ  دریا ہیں ہم  بے نام  سے   پتھر
منتظر  ہیں  سطح  سے الہام   ہوتا  ہو
بڑی    دلچسپ   ہیں    حکایتیں   انکی
حلال وہی ہے جو مجھ پہ  حرام ہوتا ہو
ائے  ناصح   تیری   نصیحتیں  کیسی
مگر  جب  عشق  بے  لگام   ہوتا   ہو
منظورِنظر وہی   ہیں محفلیں  جن میں
بعد از  شام وحشتوں کا  اہتمام ہوتا  ہو
ہے جستجو کہ اُڑ جاؤں مگر وہاں تک
 جہاں   تک  آسمانوں  کا اختتام  ہوتا  ہو
ممکن     ہوتو  محیط   ہو   سالوں    پر
باہم   نگاہوں   سے    جو   کلام   ہوتا ہو
کیا خوب  ہو  کہ    مرقد  پہ      میرے
ہم   سے بے   آسروں    کا آرام   ہوتا ہو
یہ     آرزو   ہے   کہ    میرے      سر
سارے شہر کی نفرتوں کا  الزام ہوتا ہو
عیش    ہو    جائے   ہم    اسیروں   کی
انکی  گلی سے   جو کوئی کام ہوتا   ہو
یوں تھک کر گریں  پہلے سفر سے ہم
بس واں آخری سفر   کا انتظام  ہوتا ہو

(محمد انس اعوان)
-----------