ہم عشق کے در و بام میں بند
منتظر ہیں کوئی فرہاد ہوتا ہو
ڈھونڈتا ہوں اس سے کلام کی صورت
کسی صورت جو اس سے کلام ہوتا ہو
غرقابِ دریا ہیں ہم بے نام سے پتھر
منتظر ہیں سطح سے الہام ہوتا ہو
بڑی دلچسپ ہیں حکایتیں انکی
حلال وہی ہے جو مجھ پہ حرام ہوتا ہو
ائے ناصح تیری نصیحتیں کیسی
مگر جب عشق بے لگام ہوتا ہو
منظورِنظر وہی ہیں محفلیں جن میں
بعد از شام وحشتوں کا اہتمام ہوتا ہو
ہے جستجو کہ اُڑ جاؤں مگر وہاں تک
جہاں تک آسمانوں کا اختتام ہوتا ہو
ممکن ہوتو محیط ہو سالوں پر
باہم نگاہوں سے جو کلام ہوتا ہو
کیا خوب ہو کہ مرقد پہ میرے
ہم سے بے آسروں کا آرام ہوتا ہو
یہ آرزو ہے کہ میرے سر
سارے شہر کی نفرتوں کا الزام ہوتا ہو
عیش ہو جائے ہم اسیروں کی
انکی گلی سے جو کوئی کام ہوتا ہو
یوں تھک کر گریں پہلے سفر سے ہم
بس واں آخری سفر کا انتظام ہوتا ہو
(محمد انس اعوان)
-----------
مگر جب عشق بے لگام ہوتا ہو
منظورِنظر وہی ہیں محفلیں جن میں
بعد از شام وحشتوں کا اہتمام ہوتا ہو
ہے جستجو کہ اُڑ جاؤں مگر وہاں تک
جہاں تک آسمانوں کا اختتام ہوتا ہو
ممکن ہوتو محیط ہو سالوں پر
باہم نگاہوں سے جو کلام ہوتا ہو
کیا خوب ہو کہ مرقد پہ میرے
ہم سے بے آسروں کا آرام ہوتا ہو
یہ آرزو ہے کہ میرے سر
سارے شہر کی نفرتوں کا الزام ہوتا ہو
عیش ہو جائے ہم اسیروں کی
انکی گلی سے جو کوئی کام ہوتا ہو
یوں تھک کر گریں پہلے سفر سے ہم
بس واں آخری سفر کا انتظام ہوتا ہو
(محمد انس اعوان)
-----------











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔