جیسا کہ امریکہ و یورپ کو پوری دنیا میں اپنی ننگی ثقافت اور نام نہاد تہذیب کے دفاع بلکے اس کے فروغ کا حق حاصل ہے تو پھر دوسروں کو بھی یہ حق لازمی طور پر حاصل ہونا چاہیے۔اب آپ کہیں گے کہ لو جی شروع ہو گیا مولوی۔۔!
لیکن یقین جانیے میں بھی آپ ہی کی طرح ایک یونیورسٹی کا طالب علم ہوں ،صرف ناظرہ پڑھ سکتا ہوں، اور باقائدہ کسی مدرسے کا طالب علم بھی نہیں ہوں۔لیکن میرے پاس سوچنے کو ایک دماغ بھی تو ہے اور دیکھنے کو آنکھیں بھی جو مجھے بتاتی ہیں کہ پاکستان میں 2001 کے بعد سے لا تعداد NGO’sکام کر رہی ہیں۔ان میں سے بہت سی NGO’sکو میں بذات خود بہت نزدیک سے جانتا ہوں اور ان کے طریقہ کار کو سمجھتا ہوں۔NGO’sکے نام پر پاکستان میں جو گھناؤنی سازش کی جا رہی ہے اس کا اثر اب ظاہر ہو رہا ہے،ان غیر حکومتی اداروں میں اکثریت کو UNDPکی جانب سے حمایت اور مالی امداد حاصل ہے۔کسی دور میں برصغیر کے دور افتادہ علاقوں میں عیسائی مشن بھیجے جاتے جن کے ساتھ اس وقت کا جدید سامان اور اشیاء ہوتیں اور وہ بر صغیر کے سادہ لوح انسانوں کو مغربی تہذیب کا ایک شاندار بت بنا کر دکھاتے کہ وہ اس کے سحر سے آزاد نہ ہو پاتے اور نتیجہً عیسائیت قبول کر لیتے۔
آج کل حالات بدل چکے ہیں برصغیر کے بھی 2 ٹکڑے ہو چکے ہیں اور اسلام کے نام پر بننے والی ریاست اپنا وجود لیے دنیا کے سامنے آ کھڑی ہے۔اس ریاست و مملکت خدادا کو اہل مغرب کبھی بھی مضبوط اور کامیاب نہیں دیکھنا چاہتے ۔اس لیے اس کی نظریاتی و فکری جڑوں کو کھوکھلا کرنے کے لیے ایک جنرل جنہیں ہم جنرل پرویز مشرف کے نام سے جانتے ہیں کے ذریعے NGO’Sکا پودا پاکستان میں لگایا جو اب پھل پھول کر ایک درخت کی صورت اختیات کر گیا ہے۔جن کا واحد کام نوجون نسل کے دل سے اپنی ثقافت کی محبت کو کھینچ نکالنا ہے۔
میرے ایک دوست پاکستان کی ایک بہترین نجی یونیورسٹی میں ایونٹ کمیٹی کے انچارج ہیں وہ بتاتے ہیں کہ جب ہر سمیسٹر میں "کلچر شو" کے نام سے ایک شاندارپروگرام منعقد کیا جاتا ہے اور بھاری بھاری فیسس ادا کر کے بیرون ِ ملک اور اندرونِ ملک سے گانے والوں اور والیوں کو بلایا جاتا ہے، جبکہ اس کا تمام خرچہ ایک NGOبرداشت کرتی ہے جبکہ اسی کی برادر این جی او تمام انتظامات سنبھالتی ہے۔
زرا سوچے۔۔۔۔!
کسی کو کیا پڑی کہ وہ ہزاروں کلومیٹر دور سے صرف اس ناچ گانے کے لیے فنڈز جاری کرے؟
یہ صرف ناچ گانا ہی نہیں بلکہ ایک پوری لابی ہے جو اس وقت نوجوانوں کو گھیرے ہوئے ہے۔اس لابی کا سب سے بہترین حربہ Women Empowermentہے۔میں ہر گز خواتین کے بنیادی حقوق کے خلاف نہیں ہوں صرف طریقہ کار سے اختلاف کر رہا ہوں۔دیکھیے جس طرح یہ خوتین کو آزادی دلا رہے ایسا ہرگز ممکن نہیں کیونکہ ایسا کرنے سے ہمارے معاشرے کو فطری توزن بگڑ جاتا ہے اور کئی ایسے مسائل جنم لیتے ہیں جن کا علاج موجودہ صورت حال میں ممکن نہیں ہو پاتا۔اب اگر اہل مغرب اپنے کتوں کو اپنے ساتھ سلاتے ہیں اور ماں باپ کو اولڈ ہوم میں بھیج دیتے ہیں تو یہ کوئی قابل تقلید عمل نہیں ہے۔ہمارا معاشرہ صرف اسی صورت قائم و دائم رہ سکتا ہے کہ اس کے فطری توازن کو قائم رکھا جائے۔ورنہ ایک محا ورہ تو آپ نے سن ہی رکھا ہوگا کہ
"کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی بھی بھول گیا"
تحریر
ملک انس اعوان
www.AnasNama.blogspot.com











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔