جدھر بھی جاؤ دستور اور آئین اپنا منہ کھولے کھڑا ہو تا ہے۔ویسے دستور کا مطلب وہ قوائد ضوابط ہیں جو ارباب اختیار طے کر دیں۔وہ جیسے مناسب سمجھیں ہم پر مسلط کر دیں اور ہم فقط تعظیم میں سر جکا ئیں اور اس دستور کے پابند ہو جائیں ۔پھر سے ارباب اختیار میں تبدیلی آئے اور یک دم ہی وہی قوانین جو پہلے نافذ ہوں اب کالعدم قرار دے دیے جائیں اور پھر ہمارے ہاتھوں میں دستور کی ایک نئی کاپی پکڑا دی جائے کہ جناب پہلے والا سب بھول جاؤ اب تمہارا اس پر ایمان لانا لازمی ہے۔ہے ناں مضحکہ خیز۔۔۔۔۔!
ہماری مثال تو ایسے شخص کی سی ہے جو حضرت یوسف ؑ کی جیل کا جیلر ہو جسے یہ بھی معلوم ہو کہ یوسفؑ بے گناہ ہیں اور وہ دلی طور پر بھی یہی چاہ رہا ہو کہ میں حضرت یوسف ؑ کو چھوڑ دوں لیکن مجبوری ہے صرف اور صرف آئین کی،دستور کی جو کہ شاہی مہر شدہ سکوں کے ساتھ نتھی کر دیے گئے ہیں۔۔۔ ہے ناں مضحکہ خیز۔۔۔۔!
چھوڑیے حضور میں تو آزاد منش انسان ہو کسی آئین و قانون کو نہیں مانتا۔۔ویسے میں مانوں بھی تو کیوں۔۔۔؟
خدا کا بنایا ہوا ہوتا تو مان بھی لیتا، تسلیم بھی کرتا لیکن انسان کا بنایا ہوا قانون میں کیوں تسلیم کروں ؟
تو پھر میں بھی اپنا زقانون خود ترتیب دے دیتا ہوں اب تو اس پر کسی کو اعتراض نہ ہوگا۔۔۔ہیں ناں؟
کیا میں انسان نہیں ہوں۔۔۔!
کیا کہا؟؟؟؟
اچھا تو یہ وجہ ہے کہ میری چمڑی گوری نہیں ہے،ورنہ میں ہزاروں میل دور سے بیٹھ کر کسی بھی جگہ ایک خود کار ہوائی جہاز کے ذریعے سے پورے کے پورے گاؤں کو چشم زدن میں خاک و خوں میں تبدیل کر دیتا اور ساری دنیا کو یہ بات ماننے پر مجبور کر دیتا کہ یہ سب دہشت گرد تھے۔
ہاں ٹھیک ہی تو ہے۔۔۔۔!
کیونکہ وہ آئین کو نہیں مانتے ۔۔!بس اللہ کے قرآن کو اپنا پہلا اور آخری دستور مانتے ہیں۔۔!
اسی لیے ساری دنیا کے انسان ان کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔۔
انہوں نے اللہ سے محبت میں پوری دنیا کے انسانوں کی دشمنی خرید لی ہے۔۔!
تحریر
ملک انس اعوان











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔