کیونکہ سب انسان ایک
دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اور ان کی عادات و مزاج سبھی کا انحصار ان کے ساتھ پیش آنے والے حالات و واقعات پر
ہوتا ہے۔اسی طرح مختلف حالات و واقعات میں مختلف قسم کے رویے اور عادات جنم لیتے
ہیں،جو زندگی کی آخری سانسوں کے ساتھ چلتے ہیں۔اب ایک عام آدمی شاید ایسا سوچنا
بھی انتہائی مشکل ہو ،کیونکہ ایسا سوچنے کے لئے سب سے پہلے خود کو ایک ایسی (state) میں لے جانا
پڑتا ہے جہاں آپ کا ذہن بالکل ایک کورے کاغذ کی مانند ہوتا ہے،نہ وہ بائیں ہوتا ہے اور نہ دائیں،نہ
ہاں میں اور نہ ہی "نہ"میں کیونکہ کسی کی "ہاں" کا دارومدار
بھی اس کے ماضی کے تجربات پر ہے جو ممکنہ طور پر کسی اور کے لیے "نہ" کا
باعث ہو۔اب تصور کیجیے ایک ایسے ماحول کا جہاں آپ کی ذات آپکے وجود کے خول سے باہر
ہے اور اس کے کسی قسم کے بھی اثرات اس کے ارد گرد نہیں پڑ رہے۔ اب ایسا کیجیے کہ
اپنی ذات کو اپنی ہی"ذات " سے جدا کیجئے اور جا کر ایک جج کی سیٹ سنبھال
لیجئے۔
اب صورت حال کچھ یوں
ہے کہ آپ کی ذات آپکے ہی سامنے ہاتھ باندھے تمام دوسرے لوگوں کی طرح کھڑی ہے۔ایک
ایک طرف سے تمام لوگوں کی عادات و خصائل کاموازنہ کرنا شروع کردیجیے۔دیکھیے کہ
"پرسن 1" میں کیا خامیاں اور کیا اچھائیاں ہیں ۔
اگر خامیاں ہیں تو ان
کی وجہ کیا ہے اور اگر خوبیاں ہیں ان کی
بھی وجہ کیا ہے،ان سب کے پیچھے کیا محرکات ہیں ۔اب Randomlyکسی
"پرسن2" کو اٹھا لیجئے اور اس کا موازنہ پہلے والے کے ساتھ کیجئے۔
اس طرح باری باری
اپنے ارد گرد موجود سبھی لوگوں کا Dataمرتب کرتے جائیے۔اب سب سے آخر میں اس مرتب شدہ مواد کا اپنی
ذات کے ساتھ موازنہ کیجیے۔اور دیکھیے کہ مجھ میں جو خامیاں ہیں ان کی وجہ کیا ہے؟
کیا یہ ہونی بھی
چاہیئں یا نہیں؟
اگر ہونی چاہیئں تو
کس کس کے ساتھ؟
فی آدمی اپنی ذاتی
پالیسی کو ترتیب دیتے جائے، ان سوالات کو حل کرتے جائیے اس طرح آپ دیکھیں گے کہ آپ
کی خامیاں یا تو دور ہو چکی ہوں گی،یا پھر ان میں خاطر خواہ بہتری آئی ہوگی۔اب
آئیے دوسری طرف یعنی اچھائیوں کی طرف ، دیکھئے کہ آپ میں کتنی اچھائیاں موجود ہیں؟
جو اچھائیاں ہیں ان
کی وجہ کیا ہے؟
کیا یہ ہونی بھی
چاہیئں یا نہیں؟
اگر ہونی چاہیئں تو
کس کس کے ساتھ؟
اور مذکورہ بالا عمل
کو دہراتے جائیے۔آخر میں جب آپکی نظر آپکی ترتیب شدہ شخصیت پر پڑے گی تو آپ خود کو پہلے سے بہت بہتر
اور شاندار پائیں گے۔اگلا مرحلہ اپنے آپ کو اسی تخلیق شدہ سانچے کے مطابق ڈھالنا
ہے۔
یاد رہے کوشش شرط ہے،
اگر آپ خود کو بدل نہیں سکتے تو خیر سوچتے ہی رہیے کیونکہ اچھا سوچنے کا کچھ نقصان
نہیں ہوتا،اور ایک اچھی سوچ ہی کسی اچھے عمل کی بنیاد ہوتی ہے۔۔۔
دعاؤں میں یاد رکھیے
گا۔۔۔۔!
تحریر
ملک انس اعوان
www.AnasNama.blogspot.com











شخصٰت کو نکھارے کے لیے اچھی تجویز، امی دہے ایسی تحریرں پڑھنے کو ملتی رہیں نگے
آپ کی زرہ نوازی ہے ورنہ ہم کس قابل تھے۔انشاءاللہ میں اس سلسلے کو جاری رکھوں گا