زندگی میں بہت سے لوگوں سے واسطہ پڑا، کبھی چلتے ہوئے ،کبھی کسی مصیبت میں،کبھی فرصت میں ،کبھی بھیڑ میں اور کبھی پریشانی میں۔ ہر کسی کے ساتھ ایک مختلف معاملہ پیش آیا اور مختلف قسم کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس مختصر سی زندگی میں ہر موڑ پرایک نیا سبق سیکھا۔میری ہمیشہ سے ہی کوشش رہی کہ میں چیزوں کو زرا مختلف طریقے سے سمجھا کروں اور یہ سوچ پیدا کرنے کا سہرا پنجاب کالج شیخوپورہ میں ہونے والی ایک تقریب ہے جس میں ایک مقرر کا فقرہ "Always try to see the things from an different angle" میری زندگی کا ایک حصہ بن چکا ہے۔
میں نے اس دن کے بعد سے اپنی ذات کے اندر بہت سی تبدیلیاں کی ہیں اور مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ صحیح ہیں یا غلط ۔ رہی بات دوستی کی تو میرے نزدیک کوئی بھی کسی کا دوست نہیں ہوتا ، بس انسان اپنی فطرت کے طابع ہونے کی وجہ سے کسی نا کسی کا سہارہ تلاش کرتا ہے۔ ایسا سایہ جس کے اندر بیٹھ کر وہ کچھ دیر سستا لے اور آرام کرلے۔اور میں آب تک ایسا کوئی انــــــــــــــسان تلاش نہیں کرپایا،شاید ایسی کسی چیز کا بھی وجود اس جہان میں نہیں ہے۔یہ بھی ان ہزاروں چیزوں کی طرح ہمارے سوچ اور ذہن کا ایک تصوراتی محل ہے ہے جس کے اندر ہم نے وفا رکھ دی ہے۔
اب بہتر یہی ہے کہ اس دھوکے کے محل میں رہنے کی بجائے حقیقت پسندی کو اپنایا جائے۔جوبھی آپ کی زندگی میں آئے بھلے کچھ لمحات کے لیےہی لیکن اس پر اپنے اچھے نقوش چھوڑ دیجیےکیونکہ اچھےاخلاق پر کچھ خرچ نہیں آتا۔
اور ان انسانوں میں دوست تلاش کرنے کی بجائے کتابوں میں دوست تلاش کیجیے۔کتاب وہ دوست ہے جس کے صفحات کبھی بھی تبدیل نہیں ہوتے۔ہزار سال بعد بھی سرورق پر وہی "ٹائیٹل" سجا ہوتا ہے جو آپ چھوڑ جاتے ہیں۔ بلکے ہر بار پڑھنے سے کچھ نئے سوالات کا جواب مل جاتا ہے۔
اسی لیے مجھے دوستوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔۔۔
تحریر
انس اعوان











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔