اب تو ہم ماں کی گود میں پورے ہی نہیں آ پاتے

0 comments

ہم 90’sکے بچے اپنے بچپن میں انٹر ٹینمنٹ کے حوالے سے فقط پی ٹی وی کے نام سے واقف تھے۔اور وہ بھی خاص طورپر صبح سویرے کا مارننگ شو جس میں کارٹون دکھائے جاتے ،اسی وقت کا ہر بچے کو انتظار ہوتا اور میں تو یونیفارم پہن کر مکمل تیاری کے ساتھ  ٹی وی کا سامنے بیٹھ جاتا۔شاید کہ یہ کارٹون وہ واحد وجہ تھی جس کے باعث  میں وقت سے پہلے تیار ہو جاتا ورنہ میری عادات سے میرے احباب خوب واقف ہیں۔جیسے ہی  کارٹون ختم ہوتے ہم سکول کی جانب چل دیتے ۔ہمارا گھر اور سکول دونوں ہی نہر پر واقع تھے  جس کے باعث ہم خراماں خراماں روز گھر سے نہر کے ساتھ ساتھ اپنا بھاری بستہ اُٹھائے چلتے پائے  جاتے۔قریباً درمیان میں ایک پل تھا جس کی دونوں جانب سے  سڑکیں آپس میں آ ملتیں اور یوں ایک چوراہا سا بن جاتا۔پل کی چھوٹی دیوار پر ہم بیٹھ کر اپنے دوست کا انتظار کرتے جو حسب معمول اپنے والد کے ساتھ  پیدل آرہے ہوتے۔جب وہ پل پر پہنچتے تو میں بھی ان کے ساتھ ہو لیتا۔جب تک اس کے والد ساتھ رہتے ہمارے درمیان خاموشی قائم رہتی لیکن جیسے ہی سکول نزدیک آتا  اور اس کے والد واپس جانے کے لیے پلٹتے ،ہم دونوں آج کے دیکھے ہوئے کارٹون پر اپنے تبصرے پیش کرنے لگتے ۔اور اکثر ایسا ہوتا کہ ہم عین دروازے پر ایک دوسرے کا گریبان پکڑ کر لڑنا شروع کر دیتے،اللہ بھلا کرے "یاسین بھائی" کا جو مجھکو بچا لیتے کیونکہ ہم ان دنوں بیمار رہنے کے باعث بہت کمزور اور پتلے سے ہو چکے تھے۔
سیاست ہمارے اندر بچپن سے ہی موجود ہے۔جسمانی طور پر کمزور ہونے کے باعث ہم اپنے دوست سے بدلہ تو نہیں لے سکتے تھے اس لیے سارا دن ہم کسی اور لڑکے کے ساتھ جا بیٹھتے  اور  خوب کھِل کھلِاتے اور اپنے دوست کا مزاق اڑاتے ۔اور اس کا اثر یہ ہوتا کہ جیسے ہی بریک ہوتی میرے دوست شرمندہ شرمندہ سے ہو کر میرے قریب آ بیٹھتے اور رشوت کے طور پے اپنا ٹفن ہمارے سامنے رکھ دیتے اور بڑے پیار سے کہتے کہ "انس یار یہ کھا لے،اور "پکی" کر لے۔۔!" ہمیں بھی پتا ہوتا تھا کہ جناب محترم کی والدہ  بہت عمدہ پراٹھے بنا کر بھیجتی ہیں اس لیے ہم بھی صرف اسی شرط پہ صلح کرتے کہ تم اپنا آدھا ٹفن کھا کر مجھے دے دو گے اور باقی آدھا میں خود کھاؤں گا۔اسی طرح ہم اکثر و بیشتر اپنے دوستوں کا لنچ ہتھیا لیتے اور اگر بھوک زیادہ لگتی تو اپنے "گینگ" کو اکٹھا کرتے اور  کسی کمزور سے بچے کا ٹفن لے اڑتے ۔ بریک کے بعد ہمیشہ ہماری کلاس انچارج ہمیں کلاس کے باہر کھڑا کر دیتیں اور باری باری سب سے تفتیش کرتیں۔ہمیشہ کی طرح ہم درمیان میں سے کھسک جاتے اور اپنی کمزور صحت کا فائدہ اٹھاتے ،اور اپنی خودساختہ  شرافت کا لبادے اوڑھ کر ٹیچر کی آنکھ میں دھول جھونک کر اپنی جان بچا لیا کرتے۔سختی ہمیشہ ان کی ہی آتی جو ہمارے ساتھ  کاروائی کے دوران موجود ہوتے۔
میرے اس دور کے 2 بہترین دوستوں کے نام اسد اور اُسامہ رندھاوا ہیں۔اسامہ بھائی سے اب بھی رابطہ استوار ہے جبکہ اسد بھائی سے ایک عرصے سے کوئی رابطہ ممکن نہیں ہو سکا۔
والدہ مجھے گھر سے باہر کھیلنے نہیں جانے دیتیں تھیں چناچہ شروع ہی سے ہم کھیلوں کے بہت خلاف ہیں اور میڑک تک " نہ کھیلیں گے اور نہ کھیلنے دیں گے" کے اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے ۔گیند اٹھا کر بھاگ جاتے۔میرے گھر کے سامنے ہی ایک وسیع و عریض گراؤنڈ تھا جس میں شام کے وقت پوری کالونی کے بچے کھیل رہے ہوتے اور جب بھی انکی گیند ہماری چھت پر آتی تو ہم پہلے ہی جا کر اسے چھپا دیتے اور متعلقہ لڑکے کو اپنی پوری چھت کا معائینہ کروا کر کہتے کہ دیکھو بھائی اگر گیند یہاں ہوتی تو ،یہیں ،کہیں پڑی ہوتی!!!
اس باعث ہمارے پاس گیندوں کی ایک وسیع  collectionبن جاتی جسے ہم اپنے سکول کے دوستوں کو دے کر انکے لنچ باکس ہتھیا لیتے۔ میرا اپنا لنچ باکس ہمیشہ سے ہی بھرا رہتا۔کھانے پینے کے ہم بذات خود اتنے شوقین نہیں ہیں لیکن دوسروں کو تنگ کر کے جو لطف آتاہے  اس کا کوئی نعم البدل نہیں۔میں اپنے گھر کے بچوں میں سب سے بڑا ہوں اس لیے مجھے خاص اختیارات حاصل ہوتے۔انہی اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے ہم نے والدین سے بہت جلد ہی ضد کر کے BMX سائیکل منگوا لی جو کہ اس زمانے میں ہم عصر طالب علموں میں BMWکے مترادف مانی جاتی تھی۔قریباً 6 ماہ تو ہم سائیکل کو فقط گلی میں اپنے ساتھ ساتھ دوڑا کر شوق پورا کر لیتے ،اللہ بھلا کرے "زین العابدین" بھائی کا جو اب ناجانے کہاں اور کس حال میں ہوتے ہیں انہوں نے مجھے زبر دستی  سائیکل چلانی سکھائی۔اس بعد ہم ہوتے تھے اور ہماری وسیع و عریض کالونی کی سڑکیں، شام کو ہم نکلتے اور خوب سائیکل چلاتے۔اسی بہانے ہم محلے کے فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر  حصہ لیتے۔مثلاً دکان سے کسی کو کوئی چیز لا دینی جس سے محلے میں ہم نے خوب نیک نامی  کمائی۔اس وقت ہمارے پاس ایک 4x4جیپ ہوا کرتی تھی جو اکثر و بیشتر گھر کے سامنے کھڑی رہتی۔جب بھی بارش ہوتی ہم اس جیپ میں جا بیٹھتے اور شیشے چڑھا کر  بارش کے پانی کو بہتے ہوئے دیکھتے اور اگر اسی دوران کوئی کھانے کا انتظام ہو جاتا تو وہ بھی جیپ میں ہی لا کر کھاتے وگرنہ کچن سے کوئی بھی کھانے والی چیز اُڑا لاتے خاص طور پر چھوٹےبھائی کے لیے لایا گیا  خشک دودھ جو کہ  میرے لیے ہمیشہ سے ہی توجہ کا باعث  بنا رہتا۔
ہاسٹل کے کمرے میں یہ سب کچھ لکھتے ہوئے دل چاہ رہا ہے کہ کاش وہ لمحے پھر سے لوٹ آئیں  تاکہ میں انہیں پہلی بار کی نسبت بہتر طریقے سے گزار سکوں ۔لیکن وقت کبھی پیچھے نہیں جا سکتا۔یہ تو بس بہتی موجوں کی طرح بہتا چلا جا رہا ہے،بغیر رکے،بغیر تھمے،بغیر کسی کی پرواہ کیے۔اور ہماری حیثیت ایسی ہی  کسی موج کے اندر ایک چھوٹےسے ارتعاش  کے برابربھی نہیں۔۔۔۔۔
ہم تو دیکھتے ہی دیکھتے اتنے بڑے ہو چکے ہیں کہ اب ماں کی گود میں پورے ہی نہیں آ تے۔۔۔۔۔۔
تحریر
ملک انس اعوان




0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔