شہر تو ایک سے ہی ہیں

0 comments
شہر تو ایک سے ہی ہیں
وہی رستے وہی گلیاں
وہی آبادیاں ساری
وہی گل کاریاں ساری
مگر یوں بھی نہیں ہوتا
شہر لوگوں سے بنتے ہیں
رویوں اور مزجوں سے
شہر رشتوں سے بنتے ہیں
سنو دیکھا ہے میں نے بھی
شہر کو اس طرح سے بھی
کہ جب دل کی خواہش ہو
بڑی بے چین طبیعت ہو
کوئی رستہ ہو انجانا سا
نہ ہو جس میں کوئی اپنا
بڑی ہی دیر تک چلتا
پاؤں کو دیکھ کر چلنا
کہیں پھر ٹوٹ کر گرنا
مسلسل سوچتے رہنے
اگر یہ زندگانی ہے
اگر یہ ہی کہانی ہے
تو پھر یہ ختم کب ہوگا
یہ دم بے دم کب ہو گا
یہ میرے جسم کے اندر
پڑی بے کار سی اک روح
نلکتی ہے کہ نکلے گی
میری بے زار سی اک روح
نتیجہ کچھ نہیں ہمدم
طریقہ کچھ نہیں ہمدم
فرارِ راہ نہیں ممکن
یاں میرا کچھ نہیں ہمدم
چلو اس دیس چلتے ہیں
بدل کر بھیس چلتے ہیں
جہاں نہ جسم کی ہو قید
جہاں روحوں کی بستی ہو
جہاں تیری نہ ہستی ہو
جہاں میری نہ ہستی ہو
نہ ہو "تو" اور "میں " کا جھگڑا
شہر تو ایک سے ہی ہیں
(انس اعوان)








0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔