مسئلہ یہ ہے کہ لکھنا ہے

0 comments
ایک تو مسئلہ یہ ہے کہ لکھنا ہے، دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ لکھنا کیا ہے۔اول تو لکھنے کے لئے پہلے یہ سوچنا پڑتا ہے کہ کس کس کے لیے لکھا جائےکیونکہ اس مصلحت کو اپنائے بغیر ہم مارکیٹ میں نام نہیں بنا سکتے ، اس کا آسان سا طریقہ یہ ہے کہ کسی ایک مکتبہ فکر سے اپنے آپ کو منسلک کر لیجیے اور مخالف پر تابڑ توڑ حملے کرتے رہیے یوں آپکی قلمی رعایا میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہو سکے گا ،کچھ عرصے بعد مخالفین کے حق میں درمیانی سی dose (مقدار) کی ایک تحریر اچھال دیجیے یوں ایسے سامعین جو بس دو فریقین کے درمیان تماش بین کا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں وہ بھی آپکی جانب متوجہ ہوں گے اور اس طرح ہولی ہولی (آہستہ آہستہ) آپ مخالفین کے کیمپ میں بھی گُھس سکتے ہیں ،کیونکہ آج کل موجودہ گھوڑا سیاست کا قلمی میدان میں بھی بہت  اثر پڑا ہے،جس کے باعث توبہ کر کے مسلمان  ہونے والوں کی ہر جانب بہت مانگ ہے۔ اور یہ بھی دیکھا گیا ہے پارٹی بدلنے پر آپکو انعامات سے بھی نوازا جاتا ہے۔ بس یقین یہ رکھیے کہ جس کیمپ سے آپ پہلے آئے تھے وہ کافر تھا اور موجودہ مسلمان ، اور جو اگلا کیمپ ہو گا وہ بھی پچھلے کی طرح مسلمان تصور کیا جائے گا،بالکل اسی طرح جیسے نئی شریعت کے آنے پر پچھلی شریعت منسوخ ہو جاتی ہے۔
ایک بات تو طے ہے کہ لکھنے کے لیے بندے کا بے شرم ہونا بہت ضروری ہے، ورنہ "چس" (مزہ) نہیں آتی۔دوران تحریر کہیں نا ں کہیں ایک دو "جھلیاں"(بے وقوفیاں) ضرور مار دیں اس سے ایسا سواد محسوس ہوتا ہے جیسا سواد کھانا کھانے کے دوران زیرے کے اچاک دانت کے نیچے آنے پر آتا ہے۔
تحریر
محمد انس عوان


نوٹ: اس تصویر کو کاپی کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ ہماری واحد و منظور نظر عینک کی سیلفی ہے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔