ہمارے معاشرے میں جس طرح مسلکی تعصب کو اس ہوا دی جارہی کہ کے منبر و محراب بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں، ہر کوئی اپنی انتہا کو پکڑے ہوئے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے میں پیش پیش ہے۔انہی حالات میں ایک روز مجھے ایک مسجد میں جمعہ پڑھنے کا اتفاق ہوا جو بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتی تھی۔
امام مسجد نے خطاب شروع کیا تو مجھے یقین ہی نہ آیا کہ میں ایک بریلوی مسلک کی مسجد میں موجود ہوں حلانکہ تحریک اسلامی سے وابستگی کی بنا پر میں ہمیشہ کھلے ذہن کے ساتھ سب کی بات سنتا اور تسلیم کرتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ اسلام کو 2 چیزوں نے انتہائی نقصان پہنچایا ،
1:جاہل علما جنہوں نے بڑے بڑے جُبے اور توپیاں پہنی ہوتی ہیں ۔جنہوں نے علم کا نقلی لباس زیب تن کیا ہوا ہے۔
2:جعلی پیر اور گدی نشین
انکا کہنا تھا کہ ہم نے دین کو بس رسومات کی حد تک تک محدود کر رکھا ہے۔جبکہ اللہ کی جانب سے اسلام بطور ایک سسٹم کے پیش کیا گیا۔ہم نے صرف ان چیزوں کو تھام رکھا ہے جس سے اہل علاقہ و احباب میں ہماری خوب پزیرائی ہو اور شہرت میں اضافہ ہو۔اور دین کو رسومات کی حد تک محدود کرنے میں پیروں کا اہم کردار ہے۔ اسی کے باعث انکی درگاہیں اور خانقاہیں آباد رہتی ہیں۔ہم اکثر "گیارویں شریف" کا ورد کرتے نظر آتے ہیں اور اس کا پر چار کرتے تھکتے نہیں ہیں، لیکن کیا کبھی کسی نے سوچا کی اس گیارہویں شریف کا مقصد کیا ہے اور اس کی اصل روح کیا ہے۔
ہم نے غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کی کی علمی شخصیت کے سامنے اپنی من گھڑک رسومات کا موٹا اور گہرے رنگ کا پردہ ڈال رکھا ہے،جس کے باعث عام آدمی کے سامنے ان کی علمی شخصیت چھپ کر رہ گئی ہے۔عام آدمی کے سامنے پیر کا وہی Concept ہے جو وہ اپنے پیروں کو دیکھ کر اخز کرتا ہے۔اگر پیر صاحب کی تعویز زیادہ کارگر ہے تو پیروکار کے ذہن میں یہی نقشہ بیٹھ جائے گا۔
گیارہوٰیں شریف تو غوث اعظم ؒ کی کئی تحریکوں میں سے محض ایک ہے، جبکے انکی دیگر تحریکوں سے عام آدمی کو روشناس نہیں کروایا جاتا۔اس کا مقصد مسلم معاشرے میں ایک ایسا ںظام دینا تھا جس کی وجہ سے آپکا کوئی مسلمان بھائی بھوکا نہ سوئے۔یہ کیا بات ہوئی کہ آپ گیارویں شریف کے نام پر ان پیروں اور علماء کی مٹھیاں گرم کرتے رہیں جن کو اس کی زرا بھی ضرورت نہیں ہے۔آپ اپنے محلے میں ایک کمیٹی قائم کریں جو اپکے محلے کا سروے کرنے کے بعد غریب اور مساکین کی ایک فہرست تیار کرے جس میں بیواؤں کو ترجیع حاصل ہو پھر ہر مہینے کی 11 تاریخ کو کچھ رقم کا معاونت ان کے گھروں تک باعزت طور پر پہنچا دی جائے،اس طرح آپ کی گیارہویں شریف بھی ہو جائے گی اور اس کی اصل روح بھی پوری ہوسکے گی،اور اس کا عملی نمونہ امام صاحب نے بھاٹی گیٹ لاہور میں ایک مسجد کے اندر جب تک وہ وہاں رہے پیش کرتے رہے۔
میرا پختہ گمان ہے کہ اب ان امام صاحب کے اس مسجد میں دن تھوڑے رہ گئے ہیں۔۔۔۔۔!
تحریر
محمد انس اعوان
میرا پختہ گمان ہے کہ اب ان امام صاحب کے اس مسجد میں دن تھوڑے رہ گئے ہیں۔۔۔۔۔!
تحریر
محمد انس اعوان











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔