ہمیں ثابت قدم پاؤ

0 comments
یہ ہم نے مان رکھا تھا
یہ سب نے جان رکھا تھا
کہ تم جو انتہا چاہو
ہمیں ثابت قدم پاؤ
تماری ایک آہٹ پر
ہمیں تم منتظر پاؤ
ہوا کے تلخ تھپیڑوں میں
ہمیں  شیریں دہن پاؤ
مگر مشروط یہ بھی تھا
برابر عمر کی ڈوری
جلائیں گے
بجھائیں گے
جلا پائے؟
بُجھا پائے؟

------
ملک انس اعوان



0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔