فروزاں ہم نہیں ہوں گے

0 comments
اپنی زندگی تو ایک ٹرین کی طرح ہے جہاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر سٹیشن قائم ہیں۔ہر سٹیشن پرلوگ سوار ہو جاتے ہیں۔کچھ آشنا بن جاتے ہیں اور کچھ خاموشی قائم رکھتے ہیں۔لیکن جیسے ہی اگلا سٹیشن  آتا ہے آشنا اور نا آشنا سب  برابر ہو جاتے ہیں اور اتر جاتے ہیں۔سفر کا تعلق ٹوٹ جاتا ہے اور نئے لوگ سوار ہو جاتے۔الگ الگ طبعیت اور مزاج کے حامل لوگ پھر سے شریک سفر بنتے ہیں۔وقت گزرتا چلا جاتا ہے۔میری دونوں  جانب منظر اور چہرے بدلتے رہتے ہیں۔دل میں خواہش رہتی ہے کہ کوئی تو چہرہ اور منظر ان آنکھوں کے سامنے ٹھہر جائے لیکن کبھی حالات اور کبھی وقت اثر انداز ہو جاتا ہے۔ذہن میں ایک لسٹ سی تیار ہو جاتی ہے۔ہزاروں  چہرے ،لہجے،مزاج اور واقعات کی فہرست تیار ہو جاتی ہے۔جب کبھی زندگی کا گزر کسی سنسان  اور بے آباد سٹیشن سے ہوتا ہے تو چند لمحے میں سفر روک لیتا ہوں۔اور پلٹ کر ماضی میں لوگوں کی فہرست دیکھنے لگتا ہوں،اور سوچتا ہوں کہ اس خاموشی سے تومطلبی لوگوں کی وہ چہل پہل ہی اچھی تھی جن کے لیے میری حیثیت بس منزل پر پہنچانے کے لیے ایک وسیلے کی  تھی۔ان کے ہونے سے کم از کم کچھ رونق تو تھی۔میں مانتا ہوں  کہ وہ کچھ مطلب و مصلحت کے تحط  ہی میرا ساتھ نبھا رہے تھےلیکن ساتھ تو تھے۔چلو زیادہ نہیں  ایک سٹیشن سے دوسرے سٹیشن تک کا ساتھ تو موجود رہا۔لیکن اب سٹیشنز کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ایک ایک کر کے سب اپنی اپنی منزلوں کی جانب گامزن ہو جائیں گے۔اورمیرا آخری سٹیشن آ جائے گا۔پھر بھی ان کو کچھ فرق نہیں پڑے گا۔میرے بعد وہ کسی اورگاڑی میں سوار ہو جائیں  گے۔سفر جاری رہے گا لیکن ہم نہیں ہوں گے۔


چراغِ زندگی ہوگا فروزاں، ہم نہیں ہونگے
چمنمیں آئے گی فصل بہاراں، ہم نہیں ہونگے

ہمارے ڈوبنے کے بعد ابھریں گےنئے تارے 
جبیں دہر پہ چھٹکے گی افشاں، ہم نہیں ہوں گے
نہ تھا اپنی ہی قسمت میں طلوع مہر کا جلوہ 
سحر ہو جائے گی شامِ غریباں، ہم نہیں ہوں گے
-------------
تحریر


ملک انس اعوان

آپ میں اور لوگوں میں کچھ تو فرق ہونا چاہیے

0 comments
ایک لمحے کے لیے اپنے آپ کو ایک تاریک کمرے میں لے جائیں اور اپنے سامنے ایک دیا رکھ لیں،اب اُس دیے کو جلا دیں۔زرا سا غور کرنے پر آپ یہ بات جان لیں گے پورے کمرے کو روشن کرنے لئے ایک دھاگے کو مسلسل جلنا پڑتا ہے۔تب جا کر آپ اپنے ارد گرد بکھری ہوئی کئی چیزوں کو دیکھ سکتے ہیں۔یہی معاملہ ہمارے معاشرے کا ہے۔ہم اگر کچھ اچھا کرنا چاہیں یا دوسروں کے لیے روشنی کا ذریعہ بننا چاہیں تو سب سے پہلےبذات خود قربانی اور ایثار کے لیے تیار ہو جائیں۔
پہلے ہی اپنے آپ کو اس کے لیے تیار رکھیں ۔اور دل میں وسعت پیدا کر لیجیے۔کیونکہ آپ ان ہزاروں افراد سے مختلف ہیں جو کہ آپ کے ارد گرد  موجود ہیں۔ آپ کی سوچ آپ کا عمل بالکل عام آدمی کے ذہنی لیول سے زیادہ ہے۔جب آپ پریکٹیکل فیلڈمیں نکلتے ہیں تو یہی عام ذہنیت کے لوگ آپ پر طعنے کستے اور آپ کو مزاح کا نشانہ بناتے ہیں۔اور  ہم ایک لمحے کے لیے یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ،ہم تو انہی لوگوں کے لیے کام کر رہے ہیں جو آج ہم پر طعنے کس رہے ہیں،کیوں نہ اس کام کو روک دیا جائے۔
بس یہاں  اپنے آپ کو سنبھالنے سمجھانے کی ضرورت ہے کہ اگر یہ بھی اتنا شعور اور فہم رکھتے تو آج ہمارے ہم قدم ہوتے۔آخر ہم میں اور ان میں کچھ تو فرق تھا کہ ہم خدمت میں مصروف  ہیں اور وہ صرف طنز کرنے میں۔ہمیشہ پُر امید اور پُر عزم رہیے،کیونکہ  بے جان اجسام  اور تنکے ہمیشہ دریا کی موجوں  کے رُخ پربہتے ہیں جبکہ زندہ اور با ضمیر افراد ہمیشہ تند وتیز موجوں سے ٹکر لیتے ہیں اور مشکلات کا سامناکرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں کو راہنمائی کرنے والا صرف ایک فرد ہوتا ہے جس کو ہم ‘’لیڈر’’ کہتے ہیں۔ شرم، جھجھک،خوف سب اتار پھینکیے،آگے بڑھیےحوصلے ،عزم اور صبر کے ساتھ۔وگرنہ ہزاروں عام آدمیوں کی طرح کسی روز مر جائیں گے اور پتہ بھی نہیں چلے گا۔
اگر اس دنیا میں آ ہی گئے ہیں جاتے جاتے کچھ ایسا کر جاتے ہیں جو ہمارے بعد والوں کے لیے  مثال ہو،اور باعث افتخار ہو۔اپنے آپ کو آئینے میں غور سے دیکھیے اور اپنے اندر چھپے ہوئے ڈر کو تلاش کیجیے،اور پھر اس ڈر کا سامنا کر کے اُس سے چھٹکارا حاصل کیجیے۔اگر کہیں مشکل اور مصیبت آن پڑے تو گھبرائیے مت بلکے اُس سے بڑی مصیبت کو یاد کیجیے ۔اس طرح آپ کو درپیش مصیبت گھٹ جائے گی۔اور چھوٹی لگنے لگے گی۔اور چھوٹی باتوں اور چھوٹی ذہنیت کے لوگوں کو نظر انداز کر دیجیےاس طرح آپ کی بات بڑی اور قد اونچا ہو جائے گا۔
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔
تحریر

ملک انس اعوان

اپنا جواب تیار رکھیے

0 comments
آج کل ہم اکثر و بیشتر یہی رونا روتے دکھائی دیتے ہیں کہ پاکستان کے حالات بہتر نہیں ہیں،فلاں فلاں مسائل ہیں۔اور تان یہاں آ کر ٹوٹتی ہے کہ ان مسائل کا کوئی حل نہیں ہے۔اور پھر وہی ایک مجموعی مایوسی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے جس کا شکار آج ہماری پوری قوم ہے۔یاد رکھیے کہ جب کسی فوجی کو محاذ جنگ پر بھیجا جاتا ہے تو پہلے اس کی تربیت ویسے ہی حالات و صورت حال میں کی جاتی ہے تاکہ جنگ کے وقت فوجی کو مشکل پیش نہ آئے۔لیکن آج اسلامی جمہوریہ پاکستان  کے ت پرائیویٹ تعلیمی ادارے جن حالات کے حساب سے ہماری نسل و نوع کی تربیت کر رہے ہیں ویسے حالات شاید مستقبل قریب میں ممکن نہ ہوں۔یہی وجہ ہے کہ یہاں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد طالب علم  پاکستانی معاشرے میں مکمل طور پر فٹ نہیں ہو پاتے اور اُن کی پہلی ترجیع بیرون ملک روزگار کی تلاش ہوتی ہے۔
ہاتھی کیونکہ ایک بہت بڑا اور مضبوط  جسم کا مالک جانور ہوتا ہے اس لیے پرانے وقتوں  میں اس کو قابو میں کرنے کے لیے ہاتھی کے بچے کے پاؤں میں  ایک زنجیر باندھ دی جاتی ہے۔اور اس کے گرد ایک دائرہ لگا دیا جاتا ہے۔اس دائرے کے درمیاں میں ایک لکڑی گاڑھ دی جاتی ہے۔ہاتھی زور لگا لگا کر تھک جاتا ہے اور اسی دائرے کو اپنی کُل کائنات سمجھ  بیٹھتا ہے۔
اب یہی کام تعلیمی ادارے کر رہے ہیں۔جہاں سوچنے ،سمجھنے اور سوچ کے اظہار  پر پابندی ہے۔آپ کو ایک کنویں کے اندر بند کر دیا جاتا ہے تاکہ آپ  شعور کی روشنی کو نہ پا سکیں۔ورنہ آپ  کی سوچ بلند ہو جائے گی ۔آپ اپنے حقوق کی بات کریں گے۔اور ان حقوق کو پانے کی عملی کوشش کریں گے۔

تاریخ شاہد ہے کہ  یہ’’ بلڈی سویلین’’جب کسی کام کی ٹھان لیتے ہیں وہ ہو کر رہتی ہے۔ایک دو قربانیوں سے اگر فصل گل کی بنیاد رکھی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔سیاست سے لے کر معاشرت سب فنون ایک طالب علم کے لئے ضروری ہیں۔کیونکہ انہی طلبہ نے مستقبل میں اس معاشرے کا حصہ بننا اور  اس کو پروان چڑھانا ہے۔آپ آج ہی طلبہ کو دیکھ کر مستقبل کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے جدید تعلیمی اداروں میں فحاشی،عریانی،رنگین محافل،رقص و سرور کی اجازت تو ہے لیکن  جیسے ہی آپ کسی مذہبی سرگرمی کو کرنے کی کوشش کریں گے ۔آپ کے سامنے آپ کا اپنا دارہ دیوار بن کر کھڑا ہو جائے گا۔ہمین سوچنا چاہیے کہ ہم مستقبل کے لیے کیسے ماں اور باپ پیدا کر رہے ہیں۔۔اور یاد رکھیے کہ قیامت کے روز اس کا حساب آپسے لیا جائےگا۔۔اپنے جوابات تیار رکھیے۔۔۔۔
ملک انس اعوان حزبی


کتاب بہترین دوست

0 comments


کوئی بھی کتاب اچھی لگے تو اُسے اُٹھا کر لے آتا ہوں اپنے کمرے کی الماری میں رکھ دیتا ہوں۔اب تو صورت حال یہ ہے کہ وہ پڑی ہوئی کتاب پڑی ہی رہتی ہے اور گرد چاٹتی رہتی ہے۔روزانہ رات کو سوتے وقت ایک احساس پیدا ہوتا ہے کہ چلوکل کچھ پڑھ کر سوئیں گے لیکن پھر اسی طرح رات سے صبح اور پھر صبح سے رات ہو جاتی ہے۔اور اس احساس کے پیدا ہونے کی وجہ کتاب کی وہ خصوصیات ہیں جو انسانوں میں نہیں پائی جاتیں۔ان کتابوں کے دلوں پر سیاہ عرق سے لکھی ہوئی عبارتیں کبھی تبدیل نہیں ہوتیں ۔ان کے ماتھے پر  وہی عنوان  سجے ہوتے ہیں جو آپ آخری بار چھوڑ کر گئے تھے۔آپ چاہے انہیں ایک عرصے بعد ہی کیوں نہ کھولیں وہ آپکو اپنے اُسی خاص مزاج،چال اور  رنگ میں نظر آئیں گی۔اس کی جلد زرا سا صاف کرنے پر اپنی اصل حالت میں آ جاتی ہے۔اچھا ہے جو ان کتابوں کے اندر دل نہیں ہے تبھی تو وہ سب کے ساتھ مخلص ہیں۔ایک ہم ہیں جو کتابوں کے صاف  صفحات پر اپنے ہاتھوں  کے نشان چھوڑ جاتے ہیں لیکن وہ کبھی شکایت نہیں کرتی، اپنے دامن میں اُس کو چھُپا لیتی ہے۔لیکن یاد رکھتی ہے بالکل اُسی مظلوم کی طرح جس پر ظلم کیا گیا ہو۔کیونکہ ظالم تو ظلم بھول سکتا لیکن مظلوم نہیں۔کچھ لوگ  ان کتابوں   جیسے بھی ہوتےہیں۔باہر سے بالکل خاموش اور چپ ،لیکن اُن کے اندر کئی سمندر  بیک وقت  موجزن ہوتے ہیں۔ایک ایک لہر میں ہزاروں دریاؤں کی موجیں بل کھا رہی ہوتی ہیں ۔اور امید کے سورج کی کرنیں  ان طوفانوں سے منعکس ہو کر ان کی آنکھو ں کی زینت بن رہی ہوتیں ہیں۔اور ایسے لوگوں کی صحبت میں آپکو ہزاروں کتابوں کا عرق دستیاب ہوتا ہے۔اور مجھے ایسے ہی روشن اور کشادہ چہروں کی تلاش رہتی ہے۔

کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے

0 comments
کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے
سب سر سے گزرتا جا رہا ہے
ابھی یہیں پہ پڑا ہوا تھا میں
ناجانے کون گزرتا جا رہا ہے
گمان میں تھا گمان آفریں جو وقت
بے سبب تھا جو گزرتا جا رہا ہے
یوں نہ دیکھی کبھی بیچا ر گی تیری
پانی قبر سے گزرتا جا رہا ہے
اُلٹ دِکھتا ہے غم روزگار مجھے


آدمی زہر میں اترتا جا رہا ہے

بچشم دل

0 comments
شب مرگ شب فراق ہی تھی
یہ زندگی محض اتفاق ہی تھی
جنوں تو نہ آیا لبِ بام کبھی
پرقبا، تا گریباں چاک ہی تھی
ہزار نقاب تا جمال  حائل کبھی
 ہر ادا بچشمِ دل بے باک ہی تھی
------
ملک انس اعوان

جیت

0 comments
ائے میری ہار کے منتظر لوگو۔۔۔!
پہل مجھے جیت تو لینے دو۔۔۔۔!

مسجد اور ہم،تقاضے اور حل

0 comments
ہم نے مسجد کو بس ایک عبادت گاہ کا مقام بخشا ہوا ہے۔جبکہ مسجد کو ایک کمیونٹی سینٹر ہونا چاہیے۔کیونکہ اسلام 25 فیصد عبادات اور 75 فیصد معاشرت اور معاملات پر مشتمل ہے۔آج ہم اپنے معاشرے کے چند اہم مسائل  کے حل مسجد سے ہی نکالنے کی کوشش کریں گے۔
ہمارے ملک میں اس وقت سب سے بڑا اور خطرناک مسئلہ فرقہ واریت اور عدم برداشت کا رویہ ہے۔جہاں بھی فرقہ واریت سے منسلک کوئی حادثہ پیش آئے تو عوام اس کا ذمہ دار کسی خاص مسلک،امام،خطیب یا مسجد  کو ٹھہراتے ہیں۔
کسی بھی مسجد کے امام صرف وہی بولتے ہیں جو سامعین سُننا چاہتے ہیں۔اور ہماری بحیثیت قوم ایک مخصوص ذہنیت یہ ہے کہ ہم 99ایک جیسی خصوصیات کو نظر انداز کر کے1 اختلافی بات کرنے پر امام صاحب کو خصوصی نذرانے بخشتے ہیں اور شاباش دیتے ہیں۔اور اگر ایک امام مسجد اتفاق و اتحاد کی بات کریں اور مخالف مسلک پر مرچ مصالحوں والے بیان تھوپنے سے انکار کر دیں تو مسجد کی کمیٹی جو چند ‘شرفائےعلاقہ’ پر مشتمل ہوتی ہے فوراً نئے امام مسجد کا تقرر کر دیتی ہے جو اُنکی سماعتوں کو تسکین بخش سکے۔
اس کے بعد بھی اگر ہم کسی امام مسجد کو  فرقہ واریت پھیلانے کا موجب سمجھیں تو ہماری ذہنی صلاحیت کو سلام ہے۔اس میں سب سے بڑی غلطی اور غیر ذمہ داری ریاست کی ہے۔چند گزارشات مندرجہ ذیل ہیں۔
امام مسجد کو سرکاری طور پر 21ویں گریڈ  کے برابر مراعات حاصل ہوں۔تاکہ کوئی بھی خاص فرد مسجد کے معاملات میں دخل دینے سے پہلے کئی بار سوچے۔
ضلعسطح یا صوبائی سطح پر جس طرح ممکن ہو تمام مسالک کے علماء کی کمیٹی ہو جو ان مساجد کے معاملات کی دیکھ بھال کرے۔
کسی بھی مسجد کے تمام خراجات حکومت وقت کے ذمہ ہوں۔
مساجد کی تعداد اور آبادی کی تعداد میں تناسب قائم کیا جائے۔
ایک یونین کونسل کے اند ر ایک رقبہ ایسا ہوں جو مسجد کے ساتھ متصل ہو اور شادی بیاہ اور خوشی و غمی کے تمام موقعے یہیں سر انجام دیے جائیں ۔اس سے معاشرے میں طبقاتی تقسیم ختم ہو گی اورمعاشرے میں ایکتا فروغ پائے گی۔
جب تک ہم مولوی اور مسجد کو  زندگی کے عمو می دھارے میں شامل نہیں کریں گے تب تک ہمارے اور مسجدکے درمیان ایک فاصلہ بنا  رہے گا۔فلحال جس چیز کی اشد ضرورت ہے وہ ہے علما اکرام کا ورایتی انداز بدلنا جہاں وہ مسجد میں نماز کے علاوہ  کسی تقریب کی اجازت نہیں دیتےاور دنیا داری کی بات کرنا کفر سمجھتے ہیں۔اور یہ فاصلہ بڑھتا بڑھتا  مزہب سے بے زاری تک پہنچ چکا ہے۔ہمارے علمااکرام کو مل بیٹھ کر سوچنا چاہیے کہ کس طرح اس نوجون نسل کا مسجد کے ساتھ تعلق جوڑا  جائے اور موجودہ تعلق کو اور مضبوط کیا جائے۔

کرپشن فری پاکستان

0 comments

ہمارے ہاں عمومی رو یہ   یہ ہے کے سیاست دانوں کو  کرپٹ اور برا بھلا کہہ کر اپنا فرض ادا سمجھ لیا جاتا ہے۔لیکن زرا سوچیے اس کرپشن کو روکنے کے لیے اب تک ہم نے کیا کیا ہے؟ اپنی ذاتی حیثیت میں ہم نے ایسا کونسا قدم اُٹھایا ہے جس سے ملک میں جاری کرپشن میں کمی واقع ہوئی؟
یقینً ہم نے خود ابھی تک کچھ نہیں کیا ہوگا۔جب ہماری ایک انگلی دوسرے کی طرف اُٹھی ہوتی ہے تو ہماری اپنی 4 انگلیاں ہماری طرف اشارہ کر رہی ہوتیں ہیں۔ہم خود جس معاشرے کا حصہ ہیں وہاں جگہ جگہ ہم بذات خود کرپشن کے مرتکب ہو رہے ہیں۔مثلاً  وسائل کے استعمال میں کرپشن،اختیارات میں کرپشن،معاملات میں کرپشن اور ایسی چھوٹی چھوٹی  کئی اقسام کی کرپشن جو ہم   کرتے تو ہیں لیکن   اِنکا   احساس نہیں ہوتا۔
تو چلیں آج سے اپنے اندر احساس پیدا کریں  کہ  کرپشن چاہے وہ کسی بھی قسم کی ہو اُسے  ختم کرنے کے لئےاپنی ذات سے شروع کریں۔ خود ہی سے عہد کریں کہ  اب قانون شکنی نہ کر کے، وسائل کا درست استعمال کر کے، اپنے اختیارات کا درست اور صحیح استعمال کر کے کرپشن فری پاکستان کی بنیاد رکھیں۔اُس پاکستان کی جس کو آج ہمارے اس عزم  کی اشد ضرورت ہے۔
کسی بھی خواب کی تکمیل کی ابتداء ایک چھوٹا سا قدم  ہوتا ہے۔اور وہ پہلا قدم  ہم CBSکے زیر سایہ اُٹھا چکے ہیں۔یہ وہ فرض ہے جو ہم نے محسوس کیا اور اپنے نزدیک اسے مقدم جانا اور کراداء کر ڈالا۔


ہم روز کتنے ہی کام اپنے کے لیے کرتے ہیں، کچھ تو حق اس ملک کا بھی بنتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈائری کا ایک ورق

0 comments
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
ڈر لگتا ہے جب لوگ ہماری جان کی پرواہ کیے بغیر اپنی چند خواہشات کو پورا کرتے ہیں ۔ جب ہم مُڑ کر انکی خواہشات کے سجے دھجے محل کے اندر تلاش کے باوجود اپنے آپ کو ڈھونڈ نہیں پاتے تو لرز کر رہ جاتے ہیں۔ عجیب لگتا ہے جن لوگوں کو ہم اپنی زندگی کا کُل سمجھتے ہیں اُنکی اپنی زندگی میں ہماری حیثیت جُز کی بھی نہیں ہوتی۔ہم احساس میں پگھلتے ہوئے لوگوں کا سامنا جب گوشت سے بنے مادیت پسند انسانوں سے ہوتا ہے تو ہم اندر ہی اندر خود کو مارنے لگتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ احساس سے عاری لوگ ہماری توقعات پر پورے نہیں اُتر سکتے۔ہم وہ پھول ہیں جو کھارے پانی میں نہیں اُگتے۔صبح جب شعور کا سورج اُفق پر نمودار ہوتا ہے تو ہم حرص ،لالچ ،تکبر اور غرور کے لبادے اُتار کر گلیوں کوچوں میں نکل جاتے ہیں۔جہاں دنیا ہمیں دیکھتی،دھتکارتی،ٹھٹھے اُڑاتی اور  جانچتی ہے۔سر شام ہمارے’’ کاسے’’ میں  درد اور افسوس کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔نتیجہً احساس کے چرخے پر حسرتوں کا سوت کاتتے ہوئے رات کاٹ لیتے ہیں۔اسی شب و روز کے گھن چکر میں ہم اپنی ہستی کو گھٹاتے رہتے ہیں ۔یہ عمل سالوں چلتا ہے اور باقی بچتا ہے ضعیف، لاچار،کانپتے ہاتھوں اور جھریوں زدہ چہرے والا گوشت اور ہڈیوں پر مشتمل انسان،جسے لوگ مرنے کے لیے کسی تاریک کونے میں پھینک دیتے ہیں۔جہاں وہ اپنی ماضی کی کتاب کو اُلٹتے پلٹتے،چہروں کو یاد کرتے ہوئے اپنے جسم کے پنجرے میں قید  بےکار روح کو آزاد کر دیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔سب کچھ تحلیل ہو جاتا ہے۔۔۔۔سوچ ، فکر ،شعور، علم، دولت ،شہرت،نام ،کام ،دام اور اولاد سب 6 فٹ کی مردہ سلطنت میں آنً فانً تحلیل ہو جاتے ہیں۔۔۔اور کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی۔

ڈائری:انس اعوان

یہاں سب ننگے ہیں

0 comments
سب ننگے ہیں
------------
سی این این کی سائٹ پر موجود عراق کے مرکزی ائیر پورٹ کی صورت حال ملاحظہ فرمائیں ۔
This is the first line of seven similar concentric lines of defense between the outskirts of the capital and the airport, widely believed by Iraqi and U.S. officials to be a top target of ISIS.
The fighters are members of the Badr Brigade, the Iranian-trained militia of the Supreme Council for the Islamic Revolution in Iraq, a powerful Shiite political party in Iraq.
And they are officially taking up arms for the first time in more than a decade, reinforcing Iraq's military.
عراق میں جب سے امریکہ نواز مالکی حکومت قائم ہوئی ہے۔ایران کو عراق کے اند فری ہینڈ ملا ہوا ہے،ایرانی تربیت یافتہ افراد ہزاروں کی تعداد میں سرکاری طور پر عراق میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
جن کے اخراجات اور اسلحہ ایک عرصے سے مالکی حکومت کے ذمے ہے۔وہ کسی بھی شخص کو ایک معمولی شک کی بنا پر بھی شہر یا گھر سے بے دخل کر سکتے ہیں۔
اب ایسے حالات میں ہمیشہ عام عوام کے اندر ایک غصہ کی کیفیت پیدا ہوگی۔۔۔اور شاید دائش کا وجود بھی اسی باعث وجود میں آیا۔
تالی ہمیشہ دو ہاتھوں سے بجتی ہے۔۔۔بلا شبہہ دائش درست نہیں ہے لیکن اُس کے مقابلے میں ایرانی و امریکی حمایت یافتہ لوگ بھی پاک نہیں ہیں۔


ایران کا  امریکہ سے عراق اور شام  کے حوالے سے اتفاق رائے قائم ہے۔کچھ دن پہلے ایک اسرائیلی اخبار کے مطابق اوباما نےایران کے سپریم لیڈر کو جوہری پروگرام کے حوالے سے بھی کوئی پیشکش کی ہے۔لیکن کیا کریں  یہاں تو سب 
ننگے ہیں۔
http://edition.cnn.com/2014/07/07/world/meast/iraq-crisis/

ہم نشیں آشنا نہیں ہوتے ہیں

0 comments
قصے سارے بیاں نہیں ہوتے ہیں
ہم نشیں آشنا نہیں ہوتے ہیں
کہنے کو ایک دنیا ساتھ چلتی ہے
سب احباب رازداں نہیں ہوتے ہیں
وہ حضرت میرے ساتھ تو ہوتے ہیں اکثر
وہ بھی اکثر یہاں نہیں ہوتے ہیں
کچھ تو سبب ہوگا اس وحشت کا
شہر  ! یوں ہی ویراں نہیں ہوتے ہیں
مجھ سے پاگل کو یہ بات سمجھائے کون
سب فیصلے زیر ِآسماں نہیں ہوتے ہیں
کچھ نہ کچھ طلب کسی سے ہوتی ہے
لوگ یوں ہی مہرباں نہیں ہوتے ہیں
انس اعوان

ایک شعر

0 comments
گمان لا وجود میں اس وجود پر
ہم نے کتنے ستم ڈھائے ہیں۔!

اندرونی دنیا

0 comments
سب سے کمال کی چیز  توہم خود ہیں۔قدرتی طور پر ہم خودپسند بھی ہیں چناچہ اپنے بارے میں سوچنا ،پڑھنا اور جاننا ہمیں اچھا اور دلچسپ لگتا ہے۔ایک دنیا تو ہمارے وجود سے باہر موجود ہے اور ایک کائنات ہمارے اندر پوشیدہ ہے۔یہاں احساسات اور جزبات کے سمندر ہمہ وقت موجزن رہتے ہیں۔لوگوں کی زبان سے ادا ہونے والے الفاظ مسلسل گونجتے رہتے ہیں پاس ہی سوچ کی  صحراؤں  اور نخلستانوں  پر مشتمل زمین موجود ہے جہاں  ہر وقت خیالات کے پودے جنم لیتے رہتے ہیں۔کچھ فائدہ مند اور کچھ صرف جھاڑ جھنکاڑ ہوتے ہیں۔ ہمارا کام باہر کی دنیا کے ساتھ ساتھ اندر کی دنیا  میں بھی احتیاط اور سمجھداری سے قدم اُٹھانا ہے۔خار سے بچنا اور بہار کے آثار پیدا کرنا ہے۔اور یہ مانی ہوئی حقیقت ہے کہ  انسان جب اندر کے مطمئن ہو جائے تو دنیا کی تکالیف و پریشانیاں اپنا اثر کھودیتی ہیں کیونکہ اندرونی دنیا کا تعلق روح سے ہوتا ہے اور روح ہی جسم کا اصل ہے۔اور جب اصل ہی درست ہو جائے تو سب کچھ درست ہو جاتا 
ہے۔
ملک انس اعوان

حکمت

0 comments
ہماری گلی میں چند گھروں نے مل کر ایک صاحب کو بطور چوکی دار ملازمت پر رکھا ہوا ہے۔کچھ عرصہ پہلے ایک صاحب  نے اسی گلی میں پلاٹ خریدا اور مکان کی تعمیر شروع کر دی۔چوکی دار اُن صاحب کے پاس گیا اور اپنی ماہانہ فیس مانگی،ان صاحب نے جلی کٹی سُنا کر چوکی دار کو بھگا دیا۔
کچھ دنوں بعد اُسی زیر تعمیر مکان میں سے لوہے کا سامان چوری ہو گیا جس میں 6فٹ لمبائی کے حامل فریم بھی شامل تھے۔اگلے روز وہ صاحب انتہائی غصے میں چوکی دار کے پاس آئے اور پوچھا کہ تمہاری آنکھوں کے سامنے کوئی 6 فٹ اونچائی کے فریم لے گیا اور تمہیں پتہ بھی نہیں؟۔چوکی دار نے مختصر جواب دیا کہ میں صرف ان مکانات کا ذمہ دار ہوں جو مجھے  ماہانہ فیس ادا کرتے ہیں۔۔

وہ دن اور آج کا دن  وہی صاحب ہر مہینے بروقت فیس ادا کرتے ہیں بلکہ اور  لوگوں کے لیے  عبرت کا باعث ہیں۔یاد رہے کہ پوری گلی 
میں مکانات کی کُل تعداد کم و بیش13ہے۔


مقصدیت

0 comments
مختلف احساسات کی مختلف خصوصیات ہوتی ہیں۔خوشی  کی خاصیت یہ ہے کہ اسے جتنا پھیلایا جائے یہ پھیلتی ہے۔لیکن غم کی خاصیت یہ ہے  کہ اسے منایا نہیں بلکہ محسوس کیا جاتا ہے۔اور جب اس کا تعلق مذہب سے ہو تو ایسی صورت میں درد کی قدر فلسفے  سے کم ہو جاتی ہے۔ہم کسی مخصوص غم کو منانے کے لئے چاہے کتنے ہی جتن کر لیں ،رنگ مختص کر لیں،   رسومات ادا کر لیں ،بظاہر غمگین کیفیات طاری کر لیں  اور اس  درد کو محسوس نہ کر سکیں تو اس کا حاصل کچھ نہ ہو گا ۔یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ آپ ایک صحرا کو انتہائی مشقت سے پار کریں اور دوسرے کنارے پر موجود   دریا کو ہاتھ لگا کر واپس لوٹ آئیں۔   کو شش کریں اس درد کو دل کی گہرائی سے محسوس کریں۔غم میں ڈوب کر اصل فلسفے اس نظریے اور اس مقصد عظیم کو پا لیں جس کے لیے حضرت امام حسین(رض) نے   شہادت کے تاج کو اپنے سر سجا کر  تا قیامت اللہ کے بندوں کو  اللہ کے حکم کی خاطرلا زوال قربانی و استقلال کا درس دیا ہے۔
ملک انس اعوان