کتاب بہترین دوست

0 comments


کوئی بھی کتاب اچھی لگے تو اُسے اُٹھا کر لے آتا ہوں اپنے کمرے کی الماری میں رکھ دیتا ہوں۔اب تو صورت حال یہ ہے کہ وہ پڑی ہوئی کتاب پڑی ہی رہتی ہے اور گرد چاٹتی رہتی ہے۔روزانہ رات کو سوتے وقت ایک احساس پیدا ہوتا ہے کہ چلوکل کچھ پڑھ کر سوئیں گے لیکن پھر اسی طرح رات سے صبح اور پھر صبح سے رات ہو جاتی ہے۔اور اس احساس کے پیدا ہونے کی وجہ کتاب کی وہ خصوصیات ہیں جو انسانوں میں نہیں پائی جاتیں۔ان کتابوں کے دلوں پر سیاہ عرق سے لکھی ہوئی عبارتیں کبھی تبدیل نہیں ہوتیں ۔ان کے ماتھے پر  وہی عنوان  سجے ہوتے ہیں جو آپ آخری بار چھوڑ کر گئے تھے۔آپ چاہے انہیں ایک عرصے بعد ہی کیوں نہ کھولیں وہ آپکو اپنے اُسی خاص مزاج،چال اور  رنگ میں نظر آئیں گی۔اس کی جلد زرا سا صاف کرنے پر اپنی اصل حالت میں آ جاتی ہے۔اچھا ہے جو ان کتابوں کے اندر دل نہیں ہے تبھی تو وہ سب کے ساتھ مخلص ہیں۔ایک ہم ہیں جو کتابوں کے صاف  صفحات پر اپنے ہاتھوں  کے نشان چھوڑ جاتے ہیں لیکن وہ کبھی شکایت نہیں کرتی، اپنے دامن میں اُس کو چھُپا لیتی ہے۔لیکن یاد رکھتی ہے بالکل اُسی مظلوم کی طرح جس پر ظلم کیا گیا ہو۔کیونکہ ظالم تو ظلم بھول سکتا لیکن مظلوم نہیں۔کچھ لوگ  ان کتابوں   جیسے بھی ہوتےہیں۔باہر سے بالکل خاموش اور چپ ،لیکن اُن کے اندر کئی سمندر  بیک وقت  موجزن ہوتے ہیں۔ایک ایک لہر میں ہزاروں دریاؤں کی موجیں بل کھا رہی ہوتی ہیں ۔اور امید کے سورج کی کرنیں  ان طوفانوں سے منعکس ہو کر ان کی آنکھو ں کی زینت بن رہی ہوتیں ہیں۔اور ایسے لوگوں کی صحبت میں آپکو ہزاروں کتابوں کا عرق دستیاب ہوتا ہے۔اور مجھے ایسے ہی روشن اور کشادہ چہروں کی تلاش رہتی ہے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔