کوئی بھی کتاب اچھی لگے تو اُسے اُٹھا کر
لے آتا ہوں اپنے کمرے کی الماری میں رکھ دیتا ہوں۔اب تو صورت حال یہ ہے کہ وہ پڑی
ہوئی کتاب پڑی ہی رہتی ہے اور گرد چاٹتی رہتی ہے۔روزانہ رات کو سوتے وقت ایک احساس
پیدا ہوتا ہے کہ چلوکل کچھ پڑھ کر سوئیں گے لیکن پھر اسی طرح رات سے صبح اور پھر
صبح سے رات ہو جاتی ہے۔اور اس احساس کے پیدا ہونے کی وجہ کتاب کی وہ خصوصیات ہیں
جو انسانوں میں نہیں پائی جاتیں۔ان کتابوں کے دلوں پر سیاہ عرق سے لکھی ہوئی
عبارتیں کبھی تبدیل نہیں ہوتیں ۔ان کے ماتھے پر
وہی عنوان سجے ہوتے ہیں جو آپ آخری
بار چھوڑ کر گئے تھے۔آپ چاہے انہیں ایک عرصے بعد ہی کیوں نہ کھولیں وہ آپکو اپنے
اُسی خاص مزاج،چال اور رنگ میں نظر آئیں
گی۔اس کی جلد زرا سا صاف کرنے پر اپنی اصل حالت میں آ جاتی ہے۔اچھا ہے جو ان
کتابوں کے اندر دل نہیں ہے تبھی تو وہ سب کے ساتھ مخلص ہیں۔ایک ہم ہیں جو کتابوں
کے صاف صفحات پر اپنے ہاتھوں کے نشان چھوڑ جاتے ہیں لیکن وہ کبھی شکایت نہیں
کرتی، اپنے دامن میں اُس کو چھُپا لیتی ہے۔لیکن یاد رکھتی ہے بالکل اُسی مظلوم کی
طرح جس پر ظلم کیا گیا ہو۔کیونکہ ظالم تو ظلم بھول سکتا لیکن مظلوم نہیں۔کچھ
لوگ ان کتابوں جیسے بھی ہوتےہیں۔باہر سے بالکل خاموش اور چپ
،لیکن اُن کے اندر کئی سمندر بیک وقت موجزن ہوتے ہیں۔ایک ایک لہر میں ہزاروں دریاؤں
کی موجیں بل کھا رہی ہوتی ہیں ۔اور امید کے سورج کی کرنیں ان طوفانوں سے منعکس ہو کر ان کی آنکھو ں کی
زینت بن رہی ہوتیں ہیں۔اور ایسے لوگوں کی صحبت میں آپکو ہزاروں کتابوں کا عرق
دستیاب ہوتا ہے۔اور مجھے ایسے ہی روشن اور کشادہ چہروں کی تلاش رہتی ہے۔
Ad
موضوعات
(1)
اٹک
(14)
احساس
(1)
ادب
(11)
استنبول
(4)
اسلام
(61)
اسلام ،سیاسی
(1)
اشعار
(1)
اعتکاف
(1)
افسانہ
(1)
الحاد
(3)
امام
(1)
انس انقلابی
(1)
انس نامہ
(233)
آزادنظم
(5)
بچپن
(3)
بنگلہ دیش
(1)
بھارت
(1)
پاکستان
(58)
پہلا روزہ
(1)
تحریر
(137)
تحقیق
(44)
تخیل
(8)
ترجمہ
(1)
ترکی
(3)
تصوف
(15)
توبہ
(2)
ثقافت
(13)
جدید تعلیم
(6)
جماعت اسلامی
(9)
جمعیت
(1)
چائے
(1)
حا
(1)
حسن البنا
(1)
حمد
(1)
خط
(3)
خیال
(9)
دعا
(3)
دنیا
(6)
دوست
(13)
ڈائری
(14)
راہبانیت
(3)
رمضان المبارک
(2)
رنگ
(3)
روز نامچہ
(37)
زندگی
(81)
سائینس
(1)
سفر
(13)
سفرنامہ
(6)
سیاست
(30)
سید مودودی
(1)
سیدقطب
(2)
سیر
(8)
سیکیولرازم
(5)
شاعری
(111)
شوگران
(1)
علم
(28)
عید
(1)
غزل
(63)
غزل فلسفہ
(3)
فلسفہ
(36)
فلسفہ شہادت
(4)
قاضی حسین احمد
(2)
قواڈ کوپٹر
(1)
کاش
(28)
کرب
(3)
کشمیر
(1)
کھوڑ
(1)
گاؤں
(1)
لاہور
(4)
لسی
(1)
ماں
(2)
محرم
(1)
مزاحیہ تحریر
(37)
مسجد
(13)
مشرق وسطی
(3)
ملک انس اعوان
(13)
مودودی
(1)
مولوی
(3)
نعت
(1)
نوجوان
(13)
وادی سون
(1)
والد محترم
(2)
وضو
(1)
ہیومن ازم
(1)
یادداشت
(4)
یونیورسٹی
(10)
Anasinqilabi
(2)
Business
(1)
CIIT ATTOCK
(117)
Column
(29)
COMSATS ATTOCK
(112)
CSAC
(11)
English
(4)
humanism
(3)
Islam
(1)
Malik Anas Awan
(127)
Mother
(1)
Turkey
(1)











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔