قصے سارے بیاں نہیں ہوتے ہیں
ہم نشیں آشنا نہیں ہوتے ہیں
کہنے کو ایک دنیا ساتھ چلتی ہے
سب احباب رازداں نہیں ہوتے ہیں
وہ حضرت میرے ساتھ تو ہوتے ہیں اکثر
وہ بھی اکثر یہاں نہیں ہوتے ہیں
کچھ تو سبب ہوگا اس وحشت کا
شہر ! یوں ہی ویراں نہیں ہوتے ہیں
مجھ سے پاگل کو یہ بات سمجھائے کون
سب فیصلے زیر ِآسماں نہیں ہوتے ہیں
کچھ نہ کچھ طلب کسی سے ہوتی ہے
لوگ یوں ہی مہرباں نہیں ہوتے ہیں
انس اعوان











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔