اندرونی دنیا

0 comments
سب سے کمال کی چیز  توہم خود ہیں۔قدرتی طور پر ہم خودپسند بھی ہیں چناچہ اپنے بارے میں سوچنا ،پڑھنا اور جاننا ہمیں اچھا اور دلچسپ لگتا ہے۔ایک دنیا تو ہمارے وجود سے باہر موجود ہے اور ایک کائنات ہمارے اندر پوشیدہ ہے۔یہاں احساسات اور جزبات کے سمندر ہمہ وقت موجزن رہتے ہیں۔لوگوں کی زبان سے ادا ہونے والے الفاظ مسلسل گونجتے رہتے ہیں پاس ہی سوچ کی  صحراؤں  اور نخلستانوں  پر مشتمل زمین موجود ہے جہاں  ہر وقت خیالات کے پودے جنم لیتے رہتے ہیں۔کچھ فائدہ مند اور کچھ صرف جھاڑ جھنکاڑ ہوتے ہیں۔ ہمارا کام باہر کی دنیا کے ساتھ ساتھ اندر کی دنیا  میں بھی احتیاط اور سمجھداری سے قدم اُٹھانا ہے۔خار سے بچنا اور بہار کے آثار پیدا کرنا ہے۔اور یہ مانی ہوئی حقیقت ہے کہ  انسان جب اندر کے مطمئن ہو جائے تو دنیا کی تکالیف و پریشانیاں اپنا اثر کھودیتی ہیں کیونکہ اندرونی دنیا کا تعلق روح سے ہوتا ہے اور روح ہی جسم کا اصل ہے۔اور جب اصل ہی درست ہو جائے تو سب کچھ درست ہو جاتا 
ہے۔
ملک انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔