کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے

0 comments
کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے
سب سر سے گزرتا جا رہا ہے
ابھی یہیں پہ پڑا ہوا تھا میں
ناجانے کون گزرتا جا رہا ہے
گمان میں تھا گمان آفریں جو وقت
بے سبب تھا جو گزرتا جا رہا ہے
یوں نہ دیکھی کبھی بیچا ر گی تیری
پانی قبر سے گزرتا جا رہا ہے
اُلٹ دِکھتا ہے غم روزگار مجھے


آدمی زہر میں اترتا جا رہا ہے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔