آپ میں اور لوگوں میں کچھ تو فرق ہونا چاہیے

0 comments
ایک لمحے کے لیے اپنے آپ کو ایک تاریک کمرے میں لے جائیں اور اپنے سامنے ایک دیا رکھ لیں،اب اُس دیے کو جلا دیں۔زرا سا غور کرنے پر آپ یہ بات جان لیں گے پورے کمرے کو روشن کرنے لئے ایک دھاگے کو مسلسل جلنا پڑتا ہے۔تب جا کر آپ اپنے ارد گرد بکھری ہوئی کئی چیزوں کو دیکھ سکتے ہیں۔یہی معاملہ ہمارے معاشرے کا ہے۔ہم اگر کچھ اچھا کرنا چاہیں یا دوسروں کے لیے روشنی کا ذریعہ بننا چاہیں تو سب سے پہلےبذات خود قربانی اور ایثار کے لیے تیار ہو جائیں۔
پہلے ہی اپنے آپ کو اس کے لیے تیار رکھیں ۔اور دل میں وسعت پیدا کر لیجیے۔کیونکہ آپ ان ہزاروں افراد سے مختلف ہیں جو کہ آپ کے ارد گرد  موجود ہیں۔ آپ کی سوچ آپ کا عمل بالکل عام آدمی کے ذہنی لیول سے زیادہ ہے۔جب آپ پریکٹیکل فیلڈمیں نکلتے ہیں تو یہی عام ذہنیت کے لوگ آپ پر طعنے کستے اور آپ کو مزاح کا نشانہ بناتے ہیں۔اور  ہم ایک لمحے کے لیے یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ،ہم تو انہی لوگوں کے لیے کام کر رہے ہیں جو آج ہم پر طعنے کس رہے ہیں،کیوں نہ اس کام کو روک دیا جائے۔
بس یہاں  اپنے آپ کو سنبھالنے سمجھانے کی ضرورت ہے کہ اگر یہ بھی اتنا شعور اور فہم رکھتے تو آج ہمارے ہم قدم ہوتے۔آخر ہم میں اور ان میں کچھ تو فرق تھا کہ ہم خدمت میں مصروف  ہیں اور وہ صرف طنز کرنے میں۔ہمیشہ پُر امید اور پُر عزم رہیے،کیونکہ  بے جان اجسام  اور تنکے ہمیشہ دریا کی موجوں  کے رُخ پربہتے ہیں جبکہ زندہ اور با ضمیر افراد ہمیشہ تند وتیز موجوں سے ٹکر لیتے ہیں اور مشکلات کا سامناکرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں کو راہنمائی کرنے والا صرف ایک فرد ہوتا ہے جس کو ہم ‘’لیڈر’’ کہتے ہیں۔ شرم، جھجھک،خوف سب اتار پھینکیے،آگے بڑھیےحوصلے ،عزم اور صبر کے ساتھ۔وگرنہ ہزاروں عام آدمیوں کی طرح کسی روز مر جائیں گے اور پتہ بھی نہیں چلے گا۔
اگر اس دنیا میں آ ہی گئے ہیں جاتے جاتے کچھ ایسا کر جاتے ہیں جو ہمارے بعد والوں کے لیے  مثال ہو،اور باعث افتخار ہو۔اپنے آپ کو آئینے میں غور سے دیکھیے اور اپنے اندر چھپے ہوئے ڈر کو تلاش کیجیے،اور پھر اس ڈر کا سامنا کر کے اُس سے چھٹکارا حاصل کیجیے۔اگر کہیں مشکل اور مصیبت آن پڑے تو گھبرائیے مت بلکے اُس سے بڑی مصیبت کو یاد کیجیے ۔اس طرح آپ کو درپیش مصیبت گھٹ جائے گی۔اور چھوٹی لگنے لگے گی۔اور چھوٹی باتوں اور چھوٹی ذہنیت کے لوگوں کو نظر انداز کر دیجیےاس طرح آپ کی بات بڑی اور قد اونچا ہو جائے گا۔
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔
تحریر

ملک انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔