آج کل ہم اکثر و بیشتر یہی رونا روتے
دکھائی دیتے ہیں کہ پاکستان کے حالات بہتر نہیں ہیں،فلاں فلاں مسائل ہیں۔اور تان
یہاں آ کر ٹوٹتی ہے کہ ان مسائل کا کوئی حل نہیں ہے۔اور پھر وہی ایک مجموعی مایوسی
کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے جس کا شکار آج ہماری پوری قوم ہے۔یاد رکھیے کہ جب کسی
فوجی کو محاذ جنگ پر بھیجا جاتا ہے تو پہلے اس کی تربیت ویسے ہی حالات و صورت حال
میں کی جاتی ہے تاکہ جنگ کے وقت فوجی کو مشکل پیش نہ آئے۔لیکن آج اسلامی جمہوریہ
پاکستان کے ت پرائیویٹ تعلیمی ادارے جن
حالات کے حساب سے ہماری نسل و نوع کی تربیت کر رہے ہیں ویسے حالات شاید مستقبل
قریب میں ممکن نہ ہوں۔یہی وجہ ہے کہ یہاں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد طالب علم پاکستانی معاشرے میں مکمل طور پر فٹ نہیں ہو
پاتے اور اُن کی پہلی ترجیع بیرون ملک روزگار کی تلاش ہوتی ہے۔
ہاتھی کیونکہ ایک بہت بڑا اور مضبوط جسم کا مالک جانور ہوتا ہے اس لیے پرانے
وقتوں میں اس کو قابو میں کرنے کے لیے
ہاتھی کے بچے کے پاؤں میں ایک زنجیر باندھ
دی جاتی ہے۔اور اس کے گرد ایک دائرہ لگا دیا جاتا ہے۔اس دائرے کے درمیاں میں ایک
لکڑی گاڑھ دی جاتی ہے۔ہاتھی زور لگا لگا کر تھک جاتا ہے اور اسی دائرے کو اپنی کُل
کائنات سمجھ بیٹھتا ہے۔
اب یہی کام تعلیمی ادارے کر رہے ہیں۔جہاں
سوچنے ،سمجھنے اور سوچ کے اظہار پر پابندی
ہے۔آپ کو ایک کنویں کے اندر بند کر دیا جاتا ہے تاکہ آپ شعور کی روشنی کو نہ پا سکیں۔ورنہ آپ کی سوچ بلند ہو جائے گی ۔آپ اپنے حقوق کی بات
کریں گے۔اور ان حقوق کو پانے کی عملی کوشش کریں گے۔
تاریخ شاہد ہے کہ یہ’’ بلڈی سویلین’’جب کسی کام کی ٹھان لیتے ہیں
وہ ہو کر رہتی ہے۔ایک دو قربانیوں سے اگر فصل گل کی بنیاد رکھی جائے تو کوئی مضائقہ
نہیں۔سیاست سے لے کر معاشرت سب فنون ایک طالب علم کے لئے ضروری ہیں۔کیونکہ انہی
طلبہ نے مستقبل میں اس معاشرے کا حصہ بننا اور
اس کو پروان چڑھانا ہے۔آپ آج ہی طلبہ کو دیکھ کر مستقبل کا اندازہ لگا سکتے
ہیں۔مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے جدید تعلیمی اداروں میں فحاشی،عریانی،رنگین
محافل،رقص و سرور کی اجازت تو ہے لیکن
جیسے ہی آپ کسی مذہبی سرگرمی کو کرنے کی کوشش کریں گے ۔آپ کے سامنے آپ کا
اپنا دارہ دیوار بن کر کھڑا ہو جائے گا۔ہمین سوچنا چاہیے کہ ہم مستقبل کے لیے کیسے
ماں اور باپ پیدا کر رہے ہیں۔۔اور یاد رکھیے کہ قیامت کے روز اس کا حساب آپسے لیا
جائےگا۔۔اپنے جوابات تیار رکھیے۔۔۔۔
ملک انس اعوان حزبی











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔