مسجد اور ہم،تقاضے اور حل

0 comments
ہم نے مسجد کو بس ایک عبادت گاہ کا مقام بخشا ہوا ہے۔جبکہ مسجد کو ایک کمیونٹی سینٹر ہونا چاہیے۔کیونکہ اسلام 25 فیصد عبادات اور 75 فیصد معاشرت اور معاملات پر مشتمل ہے۔آج ہم اپنے معاشرے کے چند اہم مسائل  کے حل مسجد سے ہی نکالنے کی کوشش کریں گے۔
ہمارے ملک میں اس وقت سب سے بڑا اور خطرناک مسئلہ فرقہ واریت اور عدم برداشت کا رویہ ہے۔جہاں بھی فرقہ واریت سے منسلک کوئی حادثہ پیش آئے تو عوام اس کا ذمہ دار کسی خاص مسلک،امام،خطیب یا مسجد  کو ٹھہراتے ہیں۔
کسی بھی مسجد کے امام صرف وہی بولتے ہیں جو سامعین سُننا چاہتے ہیں۔اور ہماری بحیثیت قوم ایک مخصوص ذہنیت یہ ہے کہ ہم 99ایک جیسی خصوصیات کو نظر انداز کر کے1 اختلافی بات کرنے پر امام صاحب کو خصوصی نذرانے بخشتے ہیں اور شاباش دیتے ہیں۔اور اگر ایک امام مسجد اتفاق و اتحاد کی بات کریں اور مخالف مسلک پر مرچ مصالحوں والے بیان تھوپنے سے انکار کر دیں تو مسجد کی کمیٹی جو چند ‘شرفائےعلاقہ’ پر مشتمل ہوتی ہے فوراً نئے امام مسجد کا تقرر کر دیتی ہے جو اُنکی سماعتوں کو تسکین بخش سکے۔
اس کے بعد بھی اگر ہم کسی امام مسجد کو  فرقہ واریت پھیلانے کا موجب سمجھیں تو ہماری ذہنی صلاحیت کو سلام ہے۔اس میں سب سے بڑی غلطی اور غیر ذمہ داری ریاست کی ہے۔چند گزارشات مندرجہ ذیل ہیں۔
امام مسجد کو سرکاری طور پر 21ویں گریڈ  کے برابر مراعات حاصل ہوں۔تاکہ کوئی بھی خاص فرد مسجد کے معاملات میں دخل دینے سے پہلے کئی بار سوچے۔
ضلعسطح یا صوبائی سطح پر جس طرح ممکن ہو تمام مسالک کے علماء کی کمیٹی ہو جو ان مساجد کے معاملات کی دیکھ بھال کرے۔
کسی بھی مسجد کے تمام خراجات حکومت وقت کے ذمہ ہوں۔
مساجد کی تعداد اور آبادی کی تعداد میں تناسب قائم کیا جائے۔
ایک یونین کونسل کے اند ر ایک رقبہ ایسا ہوں جو مسجد کے ساتھ متصل ہو اور شادی بیاہ اور خوشی و غمی کے تمام موقعے یہیں سر انجام دیے جائیں ۔اس سے معاشرے میں طبقاتی تقسیم ختم ہو گی اورمعاشرے میں ایکتا فروغ پائے گی۔
جب تک ہم مولوی اور مسجد کو  زندگی کے عمو می دھارے میں شامل نہیں کریں گے تب تک ہمارے اور مسجدکے درمیان ایک فاصلہ بنا  رہے گا۔فلحال جس چیز کی اشد ضرورت ہے وہ ہے علما اکرام کا ورایتی انداز بدلنا جہاں وہ مسجد میں نماز کے علاوہ  کسی تقریب کی اجازت نہیں دیتےاور دنیا داری کی بات کرنا کفر سمجھتے ہیں۔اور یہ فاصلہ بڑھتا بڑھتا  مزہب سے بے زاری تک پہنچ چکا ہے۔ہمارے علمااکرام کو مل بیٹھ کر سوچنا چاہیے کہ کس طرح اس نوجون نسل کا مسجد کے ساتھ تعلق جوڑا  جائے اور موجودہ تعلق کو اور مضبوط کیا جائے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔