گواہی

0 comments
دریائے راوی کے کنارے کھڑے ہو کر  مجھے دریا کے گدلے پانی میں اس نفس شمار معاشرے کا عکس نظر آ رہا تھا۔ بالکل اندر سے  آلودہ دھویں سے بھرے ہوئے جس کے پار کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا ہے۔میری دائیں جانب ناجانے کس جانور کا صدقے کا گوشت سرخ مومی تھیلوں میں تھامے ہوئے  چندغریب دوسرے غریبوں کو جو وہاں گاڑیوں میں گزرتے ہیں، پیسے لے کر اتنی ہی مالیت کا گوشت فضا میں اچھال دیتے ہیں جو اس بڑے شہر کی بڑی چیلیں حلال سمجھ کر پانی میں گرنے سے پہلے اچک  کر کھا لیتی ہیں اور اس کے حلال ہونے کی گواہی ساتھ ہی ساتھ دریا کا آہنی جھولتا ہو پل دے رہا ہوتا ہے۔۔۔۔۔!


انس اعوان

تلاش جاری ہے

0 comments
نیم تاریک کمرے کی ادھ کھلی کھڑکی دھیمی رفتار سے چلتی ہوئی نیم گرم ہوا کے سنگ جھول رہی ہے جس کے سبب اس کھڑکی کے سامنے میز پر پڑے ہوئے چند تحریر شدہ کاغذ اوپر پڑے ہوئے قلم سے خود کو آزاد کروانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔جبکہ انکو لکھنے والا لکڑی کی کرسی پر آنکھیں بند کیے ہوئے نیم دراز ہے۔اس کے دونوں ہاتھوں نے میز کے سرے کو مضبوطی سے تھام رکھا ہے۔تھوڑی تھوڑی دیر بعد اس کی متلاشی آنکھیں کسی چیز کی تلاش میں اِدھر اُدھر دیکھتیں اور تھک کر بند ہوجاتیں۔
وہ کبھی اپنی گود میں پڑے ہوئے افسانے کے کسی کردار میں خود کو ڈھونڈتا اور کبھی کاغذ پہ لکھے ہوئے بے ربط الفاظ میں اپنے خدوخال دریافت کرنے کی کوشش کرتا مگر بے سود کسی تحریر کسی مطلع کسی مصرعے میں بھی وہ موجود نہیں ہے۔
کیونکہ وہ تو ابھی کہیں لکھا ،کہیں سمجھا ہی نہیں گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔!
اور تلاش اب تک جاری ہے۔

تحریر
ملک انس اعوان



کیسی عید؟

2 comments
"عید کا چاند نظر آگیا ہے" یہ وہ الفاظ ہیں کہ جن کو سننے کے لئے بچپن میں دل بیقرار رہتا تھا اور ہم ٹی وی سکرین کو ٹکٹکی باندھ کر روئیت حلال کا صبر آزما اجلاس سنتے،دیکھتے اور سر دھنتے، جس کی اس زمانے میں ہمیں کچھ سمجھ نہ آتی یا ہم سمجھنے کی کوشش ہی نہ کرتے  لیکن اگر اختتام پر اجلاس میں شامل لوگ ایک دوسرے کو گلے مل رہے ہوتے تو اس سے واضح ہو جاتا کہ عید کا چاند نظر آ چکا ہے اور کل عید ہے۔ اور پھر عید کی لمبی تیاریاں شروع ہو جاتیں ۔قصہ مختصر اس سب میں جو خاص بات تھی وہ تھی "خوشی" جو شاید اب مجھسے کہیں کھوگئی ہے۔اب یہ سوچتا ہوں کہ عید کے دن بھی سورج مشرق سے نکلتا ہے اور مغرب میں غروب ہو جاتا ہے۔ آسمان اور زمین کا رنگ بھی معمول کے مطابق رہتا ہے ۔بس فرق ہے تو صبح ایک عدد نماز کا جس کو"نماز عید" کہا جاتا ہے۔جس میں سب نئے کپڑے پہن کر آ تے ہیں اور ایک دوسرے کو گلے لگاتے ہیں اور پھر اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے جاتے ہیں یا پھر میری طرح گھر جا کر سو جاتے ہیں۔ در اصل اب وہ پہلے سا وقت ہی نہیں رہا جب ایک دوسرے کے لیے وقت اور چاہت ہوا کرتی تھی۔اب تو ایسے دوست جن کو میں چاند نظر آنے پر بھی یاد کر لیا کرتا ہوں وہ مجھے عید کے دوسرے تیسرے دن بھی قسمت سے ہی یاد کرتے ہیں ۔اور ہم بھی گھر بیٹھے رہتے ہیں کہ اگر کسی کو ضرورت ہوئی تو وہ خود آ کر مل لے گا لیکن رشتے ضرورت سے تو نہیں بنھائے جاتے یہ تو احساس سے نبھائے جاتے ہیں ۔
عجیب بات ہے کہ مجھے ایسے خوشی کے موقعوں پر ایسی کیفیت کیوں طاری ہو جاتی ہے۔اور جب یہ غصہ کہیں نہیں نکتا تو لکھنے بیٹھ جاتا ہوں اور بس لکھتا ہی چلا جاتا ہوں یا کوئی اچھی سی کتاب سینے سے لگا کر بیٹھ جاتا ہوں صرف اسی لیے کہ
کتابیں ہمیشہ ایک سی رہتی ہیں کتنے ہی سال گزر جائیں کتنے ہی حالات بدل جائیں یہ کبھی دھوکہ نہیں دیتیں جتنا وقت ان سے چاہو یہ دے دیتی ہیں ۔اب تو فقط یہی میری دوست ہیں اور میری ہم راز بھی۔

تحریر
ملک انس اعوان

http://trendyvivo.com/

نا مکمل

0 comments
جو میں ضبط کرتا ہوں 
وہی تحریر کرتا ہوں
کبھی پورا نہیں ہوتا
سبھی کچھ نہ مکمل ہے

میرے احساس کی الجھن
میرے احباب کا گلشن
وہاں سب رنگ ادھورے ہیں
سبھی کچھ نا مکمل ہے

کوئی ہستی  نہیں میری
کوئی  رستہ نہیں میرا
کوئی کتبہ نہیں میرا
سبھی کچھ نا مکمل ہے

کوئی تدبیر حکمت کی
کوئی والی امانت کا
کہاں پر مر گیا واعظ
سبھی کچھ نا مکمل ہے

محبت راس آجائے
خدانخواستہ تم کو
سنو روح کے نکلنے تک
سبھی کچھ نا مکمل ہے

ملک انس اعوان





ہمارے علماء کی ناکامی

1 comments
ہمارے علماء کی ناکامی:
------------
نوٹ:
یہ تحریر لکھنے سے پہلے کئی بار سوچنا پڑا اور بالآخر لکھنے کا فیصلہ کر ہی لیا، میں مانتا ہوں کہ مجھے دینی علوم کی ا،ب کا بھی پتہ نہیں ہے اور نہ میں میں کوئی فارغ التحصیل عالم یا مفتی ہوں بس جو محسوس کیا وہ بتانا چاہ رہا ہوں چناچہ میری بات کو کسی مخصوص فرد، مسلک یا ادارے پر حملہ تصور نہ کیا جائے اور اسے صرف علمی حد تک رکھا جائے اور بے شک کھل کر تنقید کی جائے۔اور مجھے کسی مسلک سے مت جوڑا جائے۔
---------------------------------------------------


ایک اسلام پسند ہونے کے باعث سوشل میڈیا سے لے کر عام زندگی تک ہمارا سامنا ہر قسم کے لوگوں سے ہوتا ہے اور مختلف لوگوں کا نقطہ نظر سننے کا موقع ملتا ہے۔
فلحال پاکستان میں  فکری و سیاسی طور پر2 قسم کے طقبے موجود ہیں ایک "اسلام پسند"  اور دوسرے "لبرل ،ملحد وغیرہ وغیرہ"
اب دو خیمے موجود ہیں ایک جس پر اسلام کا پرچم ہے ۔اس پرچم کے نیچے اور دیگر پرچم بھی اورگروہ بھی موجود ہیں ۔اب ہوتا یہ ہے کہ ہم مسلکی اختلافات کی بنیاد پر چند مسالک کو اس  خیمے سے باہر نکال چکے ہیں ۔ مثلاً شیعہ اور بریلوی
ان دونوں کے اندرانتہائی   اچھے علماء بھی موجود ہیں اور   نظریہ خلافت و حکومت بھی۔ اب میں بات کھل کر کرنا چاہ رہا ہوں ۔
اہل تشیع  نے جب اس بات کو محسوس کیا کہ اب ان کا گزارہ اس  اسلام پسند  خیمے میں ممکن نہیں ہے تو وہ  اپنی بقا کے لئے لبرل طبقے میں جا ملے۔ جس کا نقصان اسلام پسند طبقے کو تو ہوا ہی لیکن  اس کا سب سے بڑا نقصان خود اسی مسلک کو اٹھانا پڑا موجودہ دور میں  شیعہ علماء اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اب ایک عام  شیعہ نوجوان دین سے بیزاری برتنے لگا ہے۔اور وہ خدا کے من گھڑک تصور  کا شکار ہے اور قدرے "نیچری" بھی۔
اب یہی نوجوان  سوشل میڈیا پر "بے دینوں " کی جانب سے اسلام پسندوں پر حملہ آور ہوتے ہیں اور شدید نقصان پہنچاتے ہیں ۔حلانکہ دونوں مین زمیں آسمان کا فرق ہے۔ ایک خدا کو ماننے والا اور دوسرا  خدا کا انکاری ۔لیکن ایسا ہورہا ہے۔
اب دوسری جانب ہمارے پاس  رہ گئے بریلوی ۔ ان کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہ انتہا کہ شخصیت پرست ہیں اس لیے یہ کسی ایک شخصیت پر متفق نہیں ہو پاتے وگرنہ پاکستان میں ان کی تعداد بہت بہت زیادہ ہے۔ان میں واحد سیاسی تدبر رکھنے والی شخصیت  "علامہ شاہ احمد نورانی " مولانا انس نورانی کے والد محترم تھے جنہوں نے اس مسلک کو  سیاسی بصیرت عطا کی۔
اب ایک عام بریلوی سیاسی  طور پر  سیاسی دین  سے نا واقف ہے۔اور مجھے دور دور تک  اس کے آثار بھی نظر نہیں آ رہے اس لیے انکا وزن بھی اسلام مخالف پلڑے میں ڈلتا رہے گا۔
یہ لوگ نہ خود کچھ کریں گے بلکہ ہر ہونے والی  اچھی تبدیلی میں رکاوٹ کا باعث بنیں گے۔
اس لیے لبرل  پاکستان میں  آزاد خیال سیاسی جماعتوں سے افراد اکٹھے کر کے  غیر محسوس کن طریقے سے انہیں اپنے نظریے  کا شکار بنا رہے ہیں ۔ 
-----------
یہ ہمارے علماء کی ناکامی ہے کہ اب ایک اسلام پسند کو بیک وقت بے دینوں کے ساتھ  اور اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ فکری و سیاسی طور پر لڑنا پڑ رہا۔
تمام مسالک کو ایک اسلامی اور عین شرعی مقصد کے حصول کے لئے متحد رکھنا ہر صورت علماء کا ہی کام ہے جو وہ نہیں کر سکے اور جس کا خمیازہ آج اس پوری قوم کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

تحریر
ملک انس اعوان 



ہنگامہ ِوضو

0 comments
ہم نے ایک بات محسوس کی ہے کہ آواز کا تقوی کے ساتھ  قریبی تعلق ہوتا ہے یا یوں کہیے کہ یہ باہم انتہائی قربت رکھتے ہیں اب آپ یہ سوچیں گے کہ یہ کیسا فلسفہ ہوا تو جناب ٹھہریے ہم بتائے دیتے ہیں کہ  واقعہ کیا ہے ۔  اگر آپ مسجد میں وضو کرنے جائیں تو  جو صاحب جتنے زیادہ نمازی اور پرہیز گار ہوں گے وہ اتنی ہی آواز کے ساتھ ناک صاف کر رہے ہوں گے گویا وہ تمام نمازی حضرات کو اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے ہوں ۔ ایک بار ہم مسجد میں وضو خانے میں بیٹھے تھے اور مسواک کے ذریعے اپنے دندان شریف کو چمکانے کی کوشش کر رہے تھے کہ ایک صاحب میرے سامنے آ بیٹھے ہاتھ دھوئے اور ایک شدید قسم کی کلی کرنے کے بعد ایک انتہائی شدید قسم کا غرارہ کیا جس کی آواز بالکل ذبح ہوتے  ہوئےکٹے (بھینس کا نر بچہ) کی طرح  تھی۔ اس کے بعد جب انہوں نے جاندار آواز کے ساتھ ناک صاف کیا اور تمام حاضرین  پر یہ بات واضح کر دی کہ موصوف نماز ادا  کرنے مسجد میں تشریف لا چکے ہیں ۔ جبکہ میں دوسری جانب ہکا بکا ان کو دیکھے جا رہا تھا۔موصوف سے ہماری جان پہچان تو پہلے سے ہی تھی چناچہ نماز کے بعد ہم نے انکی اصلاح کرنے کا سوچا اور انکے ساتھ ہی مسجد سے واپسی کے سفر پر ہو لئے۔ پہلے گھما پھرا کر دائیں بائیں ،اور شمال جنوب کی باتیں کیں اور آہستہ آہستہ اصل موضوع پر لے آ یا۔ میری بات سننے کے بعد انکا ردعمل بالکل  میری امید ِپختہ سے الٹ تھا۔انہوں بالترتیب میری عمر ، میری دنیاوی تعلیم ،میری دینی تعلیم اور  یونیورسٹی کا نام پوچھا اور گویا ہوئے
بیٹا میری عمر آپکی عمر   کے دو گنا سے بھی زیادہ ہے،میں نے فلاح  فلاں ادرے اور مدرسے تعلیم حاصل کی ہے
 اور وہ مجھ سے بہت زیادہ علم رکھتے ہیں
اس بعد انہوں نے جو کچھ کہا وہ مکمل طور پر ناقابل اشاعت ہے۔ قصہ مختصر انہوں نے یونیورسٹی کی تعلیم کو  فتنہ قرار دیا اور  کہا کہ اس کے ذریعے طلبا دین سے دور ہو رہے ہیں اور ان میں اخلاقیات ختم ہوتی جا رہی ہیں ۔
وہ دن اور آج کا دن  جب بھی کہیں آمنے سامنے وضو کرنے کا موقعہ ملتا ہے  میں 
In Rome ,do as the Romans do
کے مصداق پورے جوش و خروش سے وضو کرتا ہوں اور وہ موصوف مجھے دیکھ کر تلملا اٹھتے  ہیں۔

تحریر
ملک انس اعوان

پہلا روزہ

5 comments
مجھے صحیح سے تو یاد نہیں کہ میں نے اپنا پہلا روزہ کب رکھا لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ جب سے حوش سنبھالی ہے ہم نے کبھی بھی افطاری کی سنت کو نہیں چھوڑا۔بچپن مین والدہ صبح اٹھ کر سحری تیار کر رہی ہوتیں تو ہم بھی ہاتھ منہ دھو کر اور سر پر جالی دار ٹوپی سجا کر باورچی خانے میں بیٹھ جاتے جیسی ہی پہلی روٹی پک کر اترتی ہم اسے حاصل کرنے کا مطالبہ کر دیتے جو کہ ہماری ضدی طبعیت کو دیکھتے ہوئے کثرت رائے سے منظور کر لیا جاتا۔پھر لکڑی کی "چوکی" ( جسے پنجاب میں پیڑی بھی کہا جاتا ہے،انتہائی چھوٹے قد کی چارپائی) پر ہر ٹانگ پر ٹانگ دھرے سحری تناول فرماتے اور آخر میں چائے کا عین جمہوری مطالبہ بھی کر دیتے جو اکثر و بیشتر رد کر دیا جاتا اور ہم اپنا سا منہ لے کر بیٹھ جاتے کہ اچھی بھلی سحری کا ایک اہم رکن رہ گیا ہے اور سارا دن یہ احساس دل کو ستاتا رہتا۔ سحری کرنے کے بعد والد صاحب کے ہمراہ مسجد کی جانب روانگی ہوتی تو دوران سفر میں اپنے والد کے قدم کے برابر قدم اٹھانے کی کوشش کرتا جس کے باعث نہار منہ چوٹیں بھی لگتیں اور سر زنش بھی۔ 
نماز کے بعد ہم سو جاتے اور تب تک نہ اٹھتے جب تک والدہ ہمیں خود نہ اٹھاتیں ۔ جب اٹھ جاتے تو جیسے ہی بھوک یا پیاس ستاتی اپنی والدہ محترمہ کے پاس جا پہچتے اور ایک اچھے سائل کی طرح مسئلہ پوچھتے کہ اگر بچے نے روہ رکھا ہو اور اسے بھوک لگ جائے تو وہ کیا کرے؟ 
والدہ ہماری طبعیت سے خوب واقف ہیں اور وہ کہا کرتیں کہ  بیٹا بچوں کا روزہ صرف دن 11 بجے تک کا ہوتا ہے جس پر ہم عین 11 بجے کا انتظار کرتے اور روزہ افطار کر لیتے اور روزہ افطار کرنے کے بعد ایک ہی دن میں دوسرے روزے کی نیت کر لیتے۔ دوسری افطاری ہماری عام مسلمانوں کے ساتھ ہوا کرتی جس میں ہم پورے مذہبی جوش و خروش کا عملی مظاہرہ پیش کرتے اور کوئی بھی پکوان اپنے ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔
 بہت چھوٹی عمر سے ہی جو عادت والدین نے ڈالی وہ اب پختہ ترین ہو چکی ہے اور گزشتہ کئی سال سے الحمداللہ شاید ہی کچھ روزے ہوں جو ہم نے چھوڑے ہوں ۔
فلحال آپ زیر نظر تصویر دیکھ کر دل کھٹا کیجئے۔۔۔۔۔!

تحریر 
ملک انس اعوان

68 سال کا بوڑھا

1 comments
 وہ لگ بھگ 68 سالوں سے اسی دروازے کو دیکھ رہا ہے جہاں سے کبھی  شیراونی پہنے کوئی فرد داخل ہوتا ہے اور کبھی  دھم دھم کی آواز کے ساتھ وردی پہنے بھاری بھاری فوجی بوٹوں والاکوئی آدمی اس گھر  کی دہلیز کو روندتا چلا جاتا ہے۔
کتنے سال کتنے موسموں اور کتنے لوگوں کو دیکھنے والا شخص اب اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے۔اس کی چھوٹی چھوٹی اندرونی بیماریاں اب ایک ناسور کی شکل اختیار کر چکی ہیں ۔اس کے بالوں میں زمانے کی گردش کے بائث چاندی اتر آئی ہے اور گہرے زخموں کے بائث اس کے کپکپاتے ہاتھ اسکے جسم کا ساتھ نہیں دے پا رہے ہیں ۔
اس کا ایک بازو کئی سال پہلے کاٹ کر مشرق کی جانب پھینک دیا گیا اور اس کو اٹھا کر گھر کے مغربی حصے میں پھینک دیا گیا۔اس کی شاہ رگ بھی ایک دشمن کے ہاتھ میں ہے اور وہ کھڑکی جہاں سے سورج کی  نوخیز  کرنیں گھر کے آنگن میں داخل ہو رہی ہیں وہاں کھڑا ہو کر گلی کے بیچ میں باہم لڑتے ہوئے بچوں سے چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ 
میرے بچو!

 مجھے بچا لو۔۔۔!



تحریر
ملک انس اعوان 



ذوق دعا

0 comments
 میرے ذوق کو فہم سے سرشار کرے
خدا میرے لہجے کو پر اسرار کرے
پھوٹے جس سے تخلیق کی کونپل 
اس قدر میرے ذہن میں انتشار کرے
اترے مجھ پہ کوشش عذاب کی صورت
خدا مجھے سکوں سے بےزار کرے
جھک جائےجب جبیں سجدے میں
خدا مجھ پہ جنتیں آشکار کرے

ملک انس اعوان 




شاید

0 comments
یہ میں ہوں   کوئی اور  نہیں  ہے   شاید
میں سمجھتا ہوں کوئی اور نہیں ہے شاید
یہ حقیقت ہے کہ  احساس سز  ا دیتا   ہے
اب یوں پاگل  کوئی اور نہیں   ہے   شاید
جو ہے  ،    سو  ہے  ،  یوں  ہی   ہوگا
اب اس پر کوئی زور  نہیں   ہے    شاید
روح پنجرے سے  اڑ     گئی  کب    کی
اب مجھ  میں  کوئی شور  نہیں ہے  شاید

ملک انس اعوان


تھکن

0 comments
یوں تھک کر کوئی  شام   گرا  دے     گی  مجھے
رفتہ   رفتہ  یہی   خاک    گھُلا   دے   گی   مجے
میں ابھی سے ہی ہنگامہِ    ہستی سے  تنگ   ہوں 
پھر  حقیقت     سرِ  محشر اُٹھا  دے   گی   مجھے
تھا میرا گماں اور  یہ   قسمت  میں    لکھا    کچھ
زیست ہوائے   موافق  سے   لڑا دے  گی  مجھے
اب کہیں پر بھی  نشاں   میرے   نہیں  ہیں   شاید
زندگی اور حسابوں   میں   لگا دے   گی   مجھے
میں گریزاں ہوں مگر کس سے مجھے کیا  معلوم
جس سے ٹیکوں گا وہی دیوار گرا دے گی مجھے

انس اعوان 

کتابیں

0 comments
خواہشیں خواہشوں   میں تمام ہوتی   ہیں 
وقت وصل     ہجرتیں حرام   ہوتی   ہیں
ہم کو تو درکار  کوئی       چشم   نم تھی
وہ جو    لحظہ    لحظہ کلام   ہوتی  ہیں 
تیرا ہونا میرے ہونےکی کر رہا ہے نفی
اور یہ  صورتیں اب   عام    ہوتی    ہیں
لکھ   تو    دیتے    ہیں    ہارنے    والے
دراصل       کتابیں    انتقام  ہوتی     ہیں

ملک انس اعوان








اولین نعتیہ اشعار

0 comments
وہ صبح جو  میری مدینے میں بسر ہو
اس روز میری شام نہیں شام ِاجل ہو
سجدہ کروں اس ذات کو جو ذات الہہ ہے
اور جان میری جان صحابہ (رض) کی نذر ہو
کیا لطف کہ جب روح میری جسم سے نکلے
خطاکار نگاہوں میں مدینے کی جھلک ہو


(انس اعوان)


مقام انتہا

0 comments
یہ جو "میں" ہوتی ہے ناں اس کے بارے میں بڑے کہتے ہیں کہ اسکو نہ لکھنا چاہیے اور نہ محسوس کرنا چاہیے۔لیکن جب بات شروع سے شروع کرنا ہو تو سب سے پہلے اسی کا ذکر کیا جاتا ہے جو آغاز میں ہو تو اس طرح بات "میں" سے شروع ہوتی ہے۔یہ  فطری طور پر یہ سوچتی ہے اوربلا تمیز سوچتی ہے کہ  اسے کیا سوچنا چاہیے اورکیا اسے یہ سوچنا بھی چاہیے یا نہیں۔اور جب یہ سوچتا ہے تو یہ سوچتا ہے کہ یہ کون ہے، جو سامنے ہے وہ کون ہے،اور جو سامنے ہے کیا وہ واقعی سامنے ہے اور جو چھپا ہوا ہے وہ کہاں ہے  اور کیسے ملے گا ۔یہ بالکل اسی طرح ہے کہ جسے انسان بیہوشی کے بعد آنکھ کھولے تو وہ سب سے پہلے یہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کون ہے، کہاں سے آ یا اور یہاں تک کون لے کر آ یا، وہ اپنے گرد و پیش کو غور سے دیکھتا اور پرکھتا ہے اور جب مانوس ہو جاتا ہے تو پر سکون ہو جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح جب انسان کا شعور ہوش میں آتا ہے تو وہ جس ذات میں قید ہوتا ہے اس سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے اور سب سے پہلے اسی ذات سے الجھ جاتا ہے۔یہی شعور پہلے پہل خود اپنے آپ سے غافل ہوتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ وہ جس جسم میں قید ہے وہ اسکو اس کے ماخز کا پتہ دے اور تعارف کروائے۔جبکہ جسم کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ خود  تعارف کے معاملے میں شعور کے ہاتھوں مجبور ہوتا ہے کیونکہ تب تک جسم  گناہوں اور گندگی سے اٹ چکا ہوتا ہے, اور یہ جو گناہ کی گندگی اور دھول ہوتی ہے اس میں انسان کی بصارت ختم ہو جاتی ہے وہ صحیح رستے کی پہچان نہیں کر پاتا اور  بھٹکتا چلا جاتا ہے۔
یعنی اس تلاش کی کشمکش ہی انتہائی نازک مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ جب انسان کو اندھیرے میں مجبوراً بٹھا دیا دیا جائے تو وہ  اسی طرف لپکے کا جہاں سے اسے روشنی کی کرن نظر آ ئے گی۔اب اس روشنی کو دیکھنے والی چیز آنکھ ہوئی اور آنکھ وہی دیکھتی ہے جو وہ دیکھنے کی عادی ہوتی ہے، نیک آنکھ نیک روشنی کی جانب لپکتی ہے۔چناچہ بری آنکھ برائی کی جانب لپکتی ہے اور ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنا ہاتھ یا جسم اس آگ میں جلا بیٹھتا ہے اور ایسے دل کہ جن میں حق کی طلب نہ ہو وہ اسی آگ میں مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں اور یہی آگ انکا مقدر ٹھہرتی ہے۔
جبکہ نیک اور پاکیزہ آنکھ اس روشنی میں شامل برائی کی سرخی کو جان لیتی ہے اور اس کی طرف بڑھنے سے روک دیتی ہے۔یہی نیک آنکھ اسی اندھیرے میں صبر اور شکر کا عملی پیکر بن جاتی ہے۔اور وہ حق کو جاننے اور پہچاننے کا تجسس اس میں پیہم موجود رہتا ہے۔ یہ اندھیرا در اصل "دنیا" ہے جس میں انسان کو بھیجا گیا ہے اور اس کے چارسو طرح طرح کی روشنیاں جلوہ گر ہیں۔کچھ رو شنیاں دیدہ زیب کانچ کے خوبصورت پیکروں میں قید ہیں اور ان سے دنیا کے مال و ہوس کی بھینی بھینی مگر مہلک بو اٹھ رہی ہے ۔ وہ بازار دنیا ہے جس میں  انسانوں کو مقررہ وقت کے لیے بھیجا گیا ہے۔دنیا کا بازار بالکل دجال کی آزمائش کی طرح کا ہے کہ جس کے پاس ایک نہر ہو گی جسے وہ جنت کا نام دے اور ایک آگ ہوگی جسے وہ دوزخ کا نام دے گا۔ جو انسان دجال کی دوزخ کا انتخاب کرے گا وہ اللہ کی جنتوں اور رحمتوں کا مستحق قرار پائے گا اور جو دجال کی جنت کو اپنے لئے بہتر سمجھے گا وہ اللہ کے قہر اور عذاب کا مستحق ٹھہرے گا۔ اسی طرح دیکھنے والی آنکھ ، سننے والے کان ، اٹھنے والے ہاتھ اور سوچنے والے دماغ کو اس کاروبارِ دنیا میں نہایت فکر اور تدبر کے ساتھ اس روشنی کا نتخاب کرنا ہے جو بظاہر تو کم قیمت، بے وقعت اور دنیا میں تنگی کا باعث ہو مگر قیامت کے روز عظیم اجر ، رحمت ، نعمت اور جنت کا سبب بنے ، کہ جس میں دودھ اور شہد کی نہریں ہیں،اور سب سے بڑھ کر اس کا دیدار ہے کہ جس کے دیدار کی خواہش میں طور جل کر سرمہ بن گیا۔اور یہی مقام اس دنیا میں موجود تصوف ، کوشش اور عمل کی انتہا کا نام ہے۔
اللہ ہمیں عمل کی توفیق دے اور راہ حق پر استقامت عطا فرمائے۔

تحریر 
محمد انس اعوان 





ایک اور سال

0 comments
میں اک شام ہوں اندھیروں میں اتر جاؤں گا
میں اک جام ہوں بھرنے دو چھلک جاؤں گا
فقط دیکھو کہ  میں ریت کی  مورت  سا  ہوں
جس طرح سے بھی پکڑو گے بکھر جاؤں گا
کوئی مجھکو کہاں ، کیسے   بھُلا   پائے   گا
میں اک  آسیب  ہوں چہروں میں اتر جاؤں گا
میں کسی خواب کو پورا نہیں ہونے دوں   گا
 اپنی قسمت کے ستاروں سے الجھ  جاؤں گا
کوئی کب  تک  مجھے  پابندِ  روایت  رکھے
میں نہ بخشوں گا مگر مٹی میں اتر جاؤں گا
میرے بچے میرے ہونے کی گواہی دیں گے
میں  تخیل  کے  مناظر  میں  اتر  جاؤں  گا
ائے ماہتاب  تیری  تاب نہیں  ہے  مجھ  میں 
میں اگر رات کو نکلوں گا تو جل جاؤں گا

---
ملک انس اعوان
4 جولائی 2015
12بج کر 30 منٹ
15 رمضان المبارک
(پورے چاند کی رات)


تصوف

0 comments

تصوف کا وہ معنی جو میں نے اپنے ارد گرد دیکھا اود محسوس کیا وہ تو فقط بنیادی اسلامی فرائض خاص طور پر ایسے فرائض جن کا تعلق معاشرت و معیشت سے ہے بھاگنا ہے۔آپ اسے رہبانیت بھی قرار دے سکتے ہیں ۔حلانکہ اسلام میں 25 فیصد عبادات اور 75فیصد معاشرت ہے۔گو کہ اب تصوف اس 75فیصد سے جان چھڑانے کا سہل اور اس معاشرے میں قابل قبول ترین طریقہ ہے۔
یقین اور تصوف :
انسان کو اس طرح تخلیق کیا گیا ہے کہ اس میں کسی ایک طاقت کے ہونے کا "یقین " موجود ہے۔دنیا کے مختلف مذاہب میں بھی اسی طاقت کو مختلف نام دیے گیے ہیں۔گو انسان کی اصل طاقت تو یقین ہے کیونکہ ہم جس چیز کا یقین کر لیتے ہیں وہ ہماری نظروں اور دماغ کی نظروں میں ہوتا دکھائ دیتا ہے یا ہم اس کے وجود کو تسلیم کر لیتے ہیں ۔یہاں تک کہ جدید طب نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے جب شفاء کا یقین مریض کو ہو جائے تو اس کی صحت جلدی درستی کی جانب بفھتی ہے ۔اب اسی بات کو تصوف سے ملاتے ہیں تصوف کا بھی پہلا قدم یقین ہی ہے کہ ہم کسی بھی ہیت کو تسلیم کر لیتے ہیں ۔اسی تسلیم کرنے کے ساتھ ہی ہمیں وہ سب ہوتا دکھائ دینے لگتا ہے جو بظاہر نہیں ہوتا۔
یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ حقیقت کا میعار کیا ہے؟
ہے ناں!!
اللہ کی کتاب۔۔

عشق کا کلیہ:
عشق کا متضاد نفس ہے اور نفس کا متضاد عشق۔
اسی کو ذہن نشین رکھا جائے تو جہاں آپکا نفس آپکے عشق میں داخل ہو تو ایک ہی بات ممکن ہے کہ آپ کا عشق درست نہیں ہے اور آپ بھٹک گئے ہیں۔
عشق تب تک ہی ہے جب تک وہ نفس کی ضد ہے۔

تحریر
ملک انس اعوان